M WAQAR..... "A man's ethical behavior should be based effectually on sympathy, education, and social ties; no religious basis is necessary.Man would indeed be in a poor way if he had to be restrained by fear of punishment and hope of reward after death." --Albert Einstein !!! NEWS,ARTICLES,EDITORIALS,MUSIC... Ze chi pe mayeen yum da agha pukhtunistan de.....(Liberal,Progressive,Secular World.)''Secularism is not against religion; it is the message of humanity.'' تل ده وی پثتونستآن
Friday, March 4, 2022
یہ حکومت دہشتگردوں کے سامنے جھک چکی ہے اسی وجہ سے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج پشاور میں دہشتگردی کا واقعہ ہواہے، 50لوگ شہید ہوئے ہیں۔ ہمارا دہشتگردی کے خلاف واضح موقف ہے، ہم انہیں شکست دے سکتے ہیں اور یہ پولیس، فوج اور عوام نے کرکے بھی دکھایا ہے۔ بی بی شہید نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سوات میں پرچم لہرائیں گے پیپلزپارٹی نے پرچم لہرایا بھی۔ چیچہ وطنی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس حکومت نے دہشگردوں کے خلاف نرم پالیسی رکھی ہے۔ یہ پاکستان کی ریاست کی رٹ کی بات ہے۔ ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جائے۔ یہ حکومت دہشتگردوں کے سامنے جھک چکی ہے اسی وجہ سے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔
کل بلوچستان میں دھماکہ ہوا آج پشاور میں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انشااللہ تعالی پی پی پی کی حکومت ایسی حکومت ہوگی کہ عوام اور ملک کی حفاظت کرے گی۔ یہ حکومت ہر شعبے میں ناکام ہو چکی ہے۔ خارجہ پالیسی ناکام ہے، کشمیر کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے، کشمیر پر حملہ ہوا خان کی حکومت میں ہر ملک کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے چین سے مل کر سی پیک بنایا۔ امریکہ گئے تو فرینڈز آف ڈیموکریٹ پاکستان سے اربوں روپے ملے۔ ایران سے گیس پائپ لائن شروع کی۔ اس حکومت نے ناکام طریقے سے حکومت چلائی۔ یہ کہتے تھے کہ خودکشی کروں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاﺅں گا مگر ایک ماہ کے بعد پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کی اور غریب دشمن اور پاکستان دشمن پالیسی بنائی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ کہتا ہے کہ معیشت ترقی کر رہی ہے پوری دنیا یا سندھ کی وجہ سے مہنگائی ہے۔ کبھی کہتا ہے نہیں پاکستان دیگر ممالک سے سستا ہے۔ اس شخص کی نااہلی نے آپ کا معاشی قتل کیا ہے آج غریب تاریخی مہنگائی کا شکار ہے اور بیروزگاری بھی تاریخی ہے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عام آدمی کی خدمت کی ہے، مزدوروں کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کے لئے کام کیا ہے۔ قائد عوام کو حکومت ملی تو ان سے قبل ملک ٹوٹ چکا تھا۔ شہید بھٹو نے معیشت کھڑی کی اور ملک کو کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی بی کو ضیا کے بعد حکومت ملی اور اتنی محنت کی کہ لوگ آج بھی انہیں یادکرتے ہیں اور کہتے ہیں بینظیر آئے گی روزگار لائے۔
بی بی شہید نے خواتین کو بھی معاشی حق دیا، خواتین پولیس اسٹیشن بنائے، خواتین بنک لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام شامل کیا۔ صدر زرداری نے اس ملک کی خواتین کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا وسیلہ صحت کا کارڈ شروع کیا۔ اب ہیلتھ کارڈ کا نام دکھایا جا رہا ہے وسیلہ حق صدر زرداری نے شروع کیا۔ آج پاکستان کے عوام لاوارث ہیں مگر ہم نے انہیں نہیں چھوڑا صدر زرداری نے تنخواہوں اور پنشن میں تاریخی اضافہ کیا۔ اس شخص نے پاکستان کے عوام کو لاوارڈ کر دیا ہے۔ ہم اس سے حساب لیں گے، چینی آٹا کھاد کا حساب لیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ عوام کے حق کی جدوجہد ہے، جمہوریت اور آئین کی جنگ ہے۔ ان لوگوں نے ووٹ پر ڈاکہ مارا ہے۔ ہماری جدوجہد حق حاکمیت کے لئے ہے، حق ملکیت کے لئے حق روزگار کے لئے ہے۔ جو زمین پر اگتا ہے اس کے مالک آپ ہیں اور جو زمین کے اندر ہے اس پر بھی آپ کا حق ہے۔ ہم نے آپ کو مالک بنانا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں کاوعدہ کرکے انہوں نے نوکریاں چھین لیں پاکستان اسٹیل ملز سے 10 ہزار لوگوں کو فارغ کیا۔ 16ہزار وفاقی ملازمین کو نکالا گیا تو ہم نے انہیں عدالتوں سے بحال کروایا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سب کے لئے برابری اور ایک قانون ہونا چاہیے مذہب، زبان، رنگ کے بغیر۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت میں آپ کے نمائندے ہوں گے آپ کے لئے کام کریں گے آپ نے قائدعوام کا ساتھ دیا قائد عوام اور شہید بی بی نے ملک کی قسمت بدل دی۔ آپ نے ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی کا ساتھ دنیا ہے ہم آپ کے وعدے پورے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کو آئین دیا، اسلامی بم دیا انشااللہ شفاف انتخابات کے بعد بی بی اور بھٹو صاحب کے منشور پر کام کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان سے کہا استعفی دو ورنہ عوام اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور آپ کا بندوبست کریں گے۔ اس سے قبل میاں چنوں میں بھی خطاب کیا۔
https://www.ppp.org.pk/pr/26456/
بلاول بھٹو نے آصفہ بھٹو کی صحت سے متعلق بیان جاری کردیا
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی بہن آصفہ بھٹو زرداری کی صحت سے متعلق عوام اور کارکنوں کو آگاہ کردیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے آصفہ بھٹو کے دوران عوامی مارچ زخمی ہونے پرسماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا ہے۔
پی پی چیئرمین نے آصفہ بھٹو کی خیریت دریافت کرنے والوں کو بتایا کہ وہ اب ٹھیک ہیں اور زخم پر ٹانکے لگوانے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ عوامی مارچ کے دوران قیادت کے ٹرک پر کیمرا ڈرون سیدھا آصفہ سے ٹکرایا، جس سے انہیں گہرے زخم آئے۔
بلاول بھٹو نے مزید کہاکہ وہ اسپتال سے آگئی ہیں لیکن زخم بھرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا،اب وہ صحتیاب ہورہی ہیں۔
https://jang.com.pk/news/1057919
کنٹینر پر کھڑی آصفہ بھٹو سے کیمرے والا ڈرون ٹکرا گیا
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے لانگ مارچ کے دوران ڈرون آصفہ بھٹو سے جا ٹکرایا، آصفہ بھٹو بلاول بھٹو کے ساتھ ٹرک پر موجود تھیں۔
کنٹینر پر کھڑی آصفہ بھٹو سے کیمرے کے ڈرون ٹکرا نے کا واقعہ پنجاب کے شہر خانیوال میں پیش آیا۔
ڈرون لگنے کے بعد آصفہ اور بلاول دونوں کنٹینر کے اندر چلے گئے، بلاول بھٹو کی سیکیورٹی نے ڈرون آپریٹر کو پکڑ لیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنی اجرک اتار کر اپنی بہن کے زخم پر رکھی۔
دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے آصفہ بھٹو کے زخمی ہونے کے معاملے پر کہا کہ پتا نہیں جان بوجھ کر یا غلطی سے کسی چینل کا ڈرون آصفہ کو لگا۔
پی پی چیئرمین نے کہا کہ آصفہ بی بی کے سر پر چوٹ لگی، ڈاکٹرز نے کہا ٹانکے لگیں گے، مگر آصفہ نے کہا پٹی لگادیں میں اوپر جاؤں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید بی بی کی بیٹی تو بہت بہادر ہے، آصفہ آگے بھی ہمارے ساتھ ہوگی۔
https://jang.com.pk/news/1057881
Thursday, March 3, 2022
پیپلز پارٹی کے ایم این ایز کو کال کی جارہی ہیں، شیری رحمان
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ہماری جماعت کے ایم این ایز کو کال کی جارہی ہیں، جیسے ہی اسلام آباد پہنچیں گے، عدم اعتماد کا ہوم ورک مکمل ہوچکا ہوگا۔
لودھراں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ تحریک انصاف کے بہت سے اراکین رابطے میں ہیں، الٹی گنتی شروع ہوگئی، اب اینڈ گیم ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ نوشتۂ دیوار عوام کی آواز ہے، عوام کو ایسی حکومت چاہیے جو ان کے مسائل سمجھتی ہو۔
پی پی رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی تتر بتر ہیں، ان کا کہنا تھا کہ 48 گھنٹوں کی خوشخبری کا تو مولانا فضل الرحمان ہی بتاسکتے ہیں۔
شیری رحمان نے مزید کہا کہ قیمتوں میں کمی کا یوٹرن عوامی مارچ کی کامیابی ہے، مارچ سے حکومت کو اونے پونے اتحادی یاد آگئے۔
https://jang.com.pk/news/1057430
Wednesday, March 2, 2022
پاکستان میں تمام مافیاز کا سرغنہ ایک ہی ہے، وہ عمران خان نیازی ہے، کرپشن جس کی گھٹی میں شامل ہے۔
کراچی (2 مارچ 2022) پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمام مافیاز کا سرغنہ ایک ہی ہے، وہ عمران خان نیازی ہے، کرپشن جس کی گھٹی میں شامل ہے۔ حلیم عادل شیخ کی پی پی پی کے خلاف ہرزہ سرائی کا دو ٹوک جواب دیتے ہوئے آغا رفیع اللہ نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان سندیافتہ کرپٹ انجنیئر کا کرپٹ بیٹا ہے، جبکہ علیمہ خان کی سلائی مشینوں کا کاروبار 21 ویں صدی کی عجب کرپشن کی غضب کہانی ہے۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ شوکت خانم اسپتال دکھاوے کے دانت کے مترادف ہے، جو باطن میں کرپشن کی شیطانی آنت ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں ایک بھی ایسا مریض نہیں ہے، شوکت خانم اسپتال میں جس کا مفت علاج ہوا ہو۔ ایم این اے آغا رفیع اللہ نے کہا کہ عمران خان کی حکومت مصنوعی بحرانوں کی اتوار بازار ہے، جہاں آٹا، چینی، پیٹرول، ڈالر، ادویات سکیٹرز کی مافایاز کا بول بالا ہے۔ انہوں نے کہا پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ قیادت عوامی مارچ کی شکل میں عمران خان اینڈ کمپنی کا سیاسی موت اس کے سر پر کھڑا ہے، اب کوئی جھوٹ یا ڈرامہ اسے بچا نہیں سکتا۔ آغا رفیع اللہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ پونے چار سالوں میں ملک کو کنگال کرنے والے عمرانی چوہے، ایک بار پھر عوام کو دوکھا دینے کی غلطفہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا حافظہ کمزور نہیں ہے۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ عمران نیازی کے تمام وعدے جھوٹے اور دوکھا نکلے ہیں۔
https://www.google.com/search?q=Bilawal+bhutto+march+2%2C2022&hl=en&tbm=isch&sxsrf=APq-WBu7onRxTQuPxTpV2XDkfMrwFM9gBA%3A1646251995022&source=hp&biw=1366&bih=649&ei=2s8fYt6EPOaMwbkP1oqSiAo&iflsig=AHkkrS4AAAAAYh_d69_i8hOqIlpYrEMxnuKXmuZi8NlL&ved=0ahUKEwje2fzKnqj2AhVmRjABHVaFBKEQ4dUDCAY&uact=5&oq=Bilawal+bhutto+march+2%2C2022&gs_lcp=CgNpbWcQAzoICAAQgAQQsQM6BQgAEIAEOgsIABCABBCxAxCDAToGCAAQBRAeOgYIABAIEB46BAgAEBhQ9gVYllFg6ldoAXAAeACAAViIAd0QkgECMjeYAQCgAQGqAQtnd3Mtd2l6LWltZ7ABAA&sclient=img#imgrc=FYNYGwoQauosYM
#LongMarch27thFeb #LongMarch27thFeb #LongMarch27thFebruary - عمران خان مسلسل کہتا رہا کہ اگر پٹرول اور بجلی مہنگی ہوتی ہے تو وزیراعظم چور ہے مگر وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان خود بہت بڑا چور ہے، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان مسلسل کہتا رہا کہ اگر پٹرول اور بجلی مہنگی ہوتی ہے تو وزیراعظم چور ہے مگر وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان خود بہت برا چور ہے۔ جھوٹا،
ناجائز، نالائق، نااہل اور سلیکٹڈ وزیراعظم ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ ہمارے جیالوں کی ہمت دیکھیں، جیالے عوام کی سیاست اور عوام کی خدمت کے لئے اقتدار میں آتے ہیں۔ انہوں نے ظالموں کا مقابلہ کیا ہے اور فتح مند ہوئے ہیں۔ آج ہمارے ملک پر ایک سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی وزیراعظم مسلط کیا گیا تو مزاحمت کے لئے جیالوں کا کردار صف اول رہا ہے۔ میں نے انہیں سلیکٹڈ کہا تو دنیا میں ان کی پہچان سلیکٹڈ بن گئی۔
بدھ کی رات رحیم یارخان میں بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اب تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی عمران خان کو تاریخ کا بہت بڑا چور کہا ہے۔ عمران خان چینی، آٹا، کھاد، پٹرول اور گیس چور ہے۔ سب سے بڑھ کر ووٹ چور ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان مسلسل جھوٹ بولتا رہا ہے کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ تین بجٹ میں انہوں نے مہنگا بنا دیا مگر تین روز میں جیالوں کی جدوجہد سے پٹرول میں 10روپے کمی کی۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نیا پاکستان نہیں مہنگا پاکستان ہے۔ پاکستان کے عوام عمران خان کو پہچان چکے ہیں۔ اب ان کا جھوٹ نہیں چلے گا صرف تیر چلے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50لاکھ گھر دیں گے۔ رحیم یار خان کے کتنے لوگوں کو روزگار ملا اور کتنے لوگوں کو گھر ملا تو جلسے میں موجود لوگوں نے پرجوش انداز میں جواب دیا کچھ نہیں ملا، عمران جھوٹا ہے، عمران جھوٹا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ 10روز میں جنوبی پنجاب بنا کر دے گا۔ صوبہ محاذ بنانے والوں نے وزارات کا سودا کیا ہے۔ یہ کبھی ایک شہر تو کبھی دوسرے شہر میں سیکریٹریٹ کا اعلان کرتے ہیں لیکن ہمیں صوبہ چاہیے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جو پارٹی صوبے کو خیبرپختونخوا کا نام دے سکتی ہے صوبہ گلگت بلتستان بنا سکتی ہے تو وہ صوبہ وسیب بھی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے بزرگوں سے پوچھیں کہ قائد عوام اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا دور کیسا تھا۔ قائدعوام نے عوام کو پاسپورٹ کا حق دے کر پوری دنیا میں پاکستانیوں کے روزگار کا بندوبست کیا۔ شہید بی بی کے لئے نعرہ تھا کہ بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی۔ صدر زرداری کے دور میں عوام کو جتنا روزگار دیا گیا کسی دور میں نہیں دیا گیا۔ اگر مزدوروں، کسانوں ، طلباءاور خواتین کو حق دیا تو پیپلزپارٹی نے دیا۔ شہید محترمہ کے دور میں کسان خوشحال تھے۔ ان کے وقت میں آلو کے کاشتکار پریشان ہوئے تو حکومت نے سارے آلو خرید لئے۔ بی بی شہید نے کہا تھا کہ میں اپنے کسانوں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتی۔ جب ٹڈی دل کا حملہ ہوا تو ایران سے جہاز منگوائے۔ اس حکومت نے کسان کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔
کھاد اور یوریا بلیک مارکیٹ سے خریدا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی زرعی معیشت میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ میرا وعدہ ہے، پی پی پی کا ساتھ دو ہم کٹھ پتلی کو گھر بھیجیں گے اور کسانوں کو خوشحال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کٹھ پتلی سے امید تھی کہ سلیکٹڈ انہیں روزگار دے گا مگرکسی کو روزگار نہیں دیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسٹیل ملز بند ہے اور ہزاروں خاندان کو بیروزگار کر دیا گیا ہے۔ 16ہزار ملازمین کو پیپلزپارٹی نے کیس لڑ کر بحال کرایا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یونین سازی طلباءکا حق ہے، سندھ نے طلباءیونین بحال کر دی ہے ہم پنجاب میں بھی یونین بحال کریں گے اور عوام کو معیشت میں حق دلوائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم پارٹی کے بنیادی اصولوں پر سیاست کر رہے ہیں۔ میں دعوت دیتا ہوں کہ پنجاب کے عوام عوامی مارچ کا حصہ بنیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ ہم کسی کو زباں بندی کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ کٹھ پتلی پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر اس نے صرف عوام پر بوجھ ڈالا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے جمہوریت اور آئینی حقوق دئیے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، میزائل ٹیکنالوجی دی۔ پیپلزپارٹی نے ان کی طرح امیروں کو نہیں غریبوں کو اہمیت دی ہے۔ غریب خواتین کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی کی کونسی کامیابی ہے؟ کیا پنجاب نے کوئی ترقی کی ہے؟ پنجاب کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ سندھ دل، جگر، گردے، کینسر، بون نیرو ٹرانسپلانٹ مفت ہوتے ہیں۔ ہم نہیں پوچھتے کہ کون کس صوبے سے آیا ہے۔ سندھ میں سب سے زیادہ اور کم خرچے پر درخت لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام احساس کارڈ رکھ دیا ہے مگر خواتین کو علم ہے کہ انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ملتے ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ صدر زرداری نے ایران پاکستان پائپ لائن اور چین کی مدد سے راہداری بنائی۔ امریکہ نے کیری لوگر بل کے ذریعے اربوں ڈالر دئیے۔ جب یہ کٹھ پتلی کہیں جاتا ہے تو سب کو پتہ ہے کہ ان کی کوئی عزت نہیں ہے۔ یہ سلیکٹڈ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ ایک بار پھر پاکستان پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں۔ شہید بھٹو اور شہید بی بی کے نامکمل وعدے پورے کریں گے۔ سب سے پہلے اس کٹھ پتلی کو بھگائیں گے۔ ہم غیرجمہوری ہتھیار اور اسی غیرضروری کو گھر بھیجنے کے لئے جمہوری انداز میں عدم اعتماد لائیں گے اور اس کٹھ پتلی کو بھگائیں گے۔ اس سے قبل چیئرمین پیپلزپارٹی جب رحیم یارخان پہنچے تو ہزاروں کی تعداد میں عوام نے ان کا تاریخی استقبال کیا۔ کل چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا عوام مارچ بہاولپور جائے گا۔
https://www.ppp.org.pk/pr/26428/
#LongMarch27thFeb #LongMarch27thFeb #LongMarch27thFebruary - We want south Punjab province, not secretariat – Chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari
Bilawal Bhutto Zardari said that Imran had promised 1 crore employment and 50 lac houses but he did not provide a single job or house. Quaid-e-Awam had introduced 5 marla schemes and Shaheed Benazir Bhutto had introduced 7 marla schemes and people became the owner of their own houses. Quaid-e-Awam provided jobs not only within the country but abroad as well. The slogan for Shaheed Benazir was “Benazir Aaye Gi, Rozgar Laye Gi”. Most jobs in the history of Pakistan were provided by President Zardari. The PPP has always worked for the people of Pakistan. This puppet unemployed 10 thousand Pakistan Steel Mills employees.
Tuesday, March 1, 2022
#LongMarch27thFebruary #LongMarch27thFeb - The PPP is synonymous with development – Chairman PPPBilawal Bhutto Zardari
Chairman Pakistan Peoples Party, Bilawal Bhutto Zardari has once again asked Imran Khan to dissolve the national assembly so that fresh transparent elections are held and real representatives are elected in place of selected and his facilitators. He said that the very first day in the assembly he had called Imran Khan selected thus exposing him to the world. We do not recognize this selected prime minister.
Chairman PPP said this while addressing a massive crowd of the Awami long march at Sukkur at the end of the third day of the march. He said that the selected user said inflation is a world phenomenon and he cannot do anything about it but he got frightened by the Jiyalas marching towards Islamabad. He reduced the price of petrol and the electricity tariff. This is the success of the PPP. The Jiyalas are peaceful democratic activists and will not attack the PTV and the parliament like PTI. We are democrats and will not resort to any undemocratic means. This march will pass through the areas where there are PTI members and we are giving the last chance to accept their mistake and vote for the no-confidence motion. Our demand is to return the democracy which Imran Khan snatched from the people of Pakistan. We will give every province their right. We will take back our right of employment. We will take back the rights of youth, women, and minorities. We are coming to Islamabad and we know to claim our rights.
Chairman PPP said that these low-level ministers of the PTI are asking President Zardari what he has done for the country. The PPP gave this country democracy and a constitution. Gave the rights to the laborers. Made the grower the owner of their land. Made Pakistan a nuclear power, gave this country missile technology for which the entire country is thankful to Quaid-e-Awam and Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto. President Zardari gave the Gwadar port and CPEC. He initiated BISP for the poor women of the country. The country is thankful to President Zardari for giving Khyber Pakhtunkhwa its identity. Chairman Bilawal Bhutto Zardari said that there is no match between the NICVD of Sukkur and Lady Reading hospital Peshawar. There is nothing equivalent to NICVD in Mianwali. Whatever development is in this country has been given by the PPP and whatever development is to happen in the future, the PPP will be credited to that as well.
https://www.ppp.org.pk/pr/26414/
صدر زرداری نے راہداری بنائی، خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام دیا، صوبوں کو خودمختاری دی، خیبرپختونخوا کو شناخت دی، عمران خان تم نے کیا دیا ہے۔ چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرپوک نہیں ہو تو اسمبلیاں توڑو اور پھر ہمارا مقابلہ کرویا پھر استعفیٰ دے کر سیاست چھوڑ کر گھر چلے جاﺅ۔ تم بزدل نہیں ہو ڈرپوک نہیں ہو، پیپلزپارٹی سے نہیں ڈرتے تو میدان میں آﺅ اور مقابلہ کرو۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ صدر زرداری نے راہداری بنائی، خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام دیا، صوبوں کو خودمختاری دی، خیبرپختونخوا کو شناخت دی، عمران خان تم نے کیا دیا ہے۔ تم آصف علی زرداری کے جوتے کے برابر بھی
نہیں۔ تمہارا مقابلہ پیپلزپارٹی سے ہو ہی نہیں سکتا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا مقابلہ ہمارے سکھر سے ہی کرلو۔ ہم نے سکھر میں این آئی سی وی ڈی قائم کیا اور ہم نے پشاور میں آپ کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی دیکھا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جب سے اس کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا ہے پہلے ہی دن سے سلیکٹڈ کہہ کر بے نقاب کیا تھا۔ ہم سلیکٹڈ وزیراعظم کو نہیں مانتے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ملک میں جمہوریت کی بنیاد رکھی، آئین دیا، ہم نے تین آمروں کا مقابلہ کیا یحیٰ، ضیا اور مشرف کا مقابلہ کیا کٹھ پتلی کیا چیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیالوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس شخص کو مجبور کیا جو تین سال سے کہتا رہا کہ مہنگائی پوری دنیا میں ہے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرتا رہا، بجلی میں بھی مگر آپ کو دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا صرف ایک دن میں ہی کٹھ پتلی جھک گیا۔ پٹرول کی قیمت کر دی یہ پیپلزپارٹی کی کامیابی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ابھی ہمارا سفر کافی طویل ہے۔ ہم جی ٹی روڈ سے 8مارچ تک اسلام آباد پہنچیں گے تو 8مارچ تک آپ بہت کچھ کرکے دکھائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے جیالے پرامن جمہوری کارکن ہیں۔ ہم آپ کی طرح حملہ نہیں کریں گے۔ ہم ایک غیرجمہوری شخص کے خلاف جمہوری طریقہ استعمال کریں گے۔ ساری پارٹیاں عدم اعتماد کے حق میں ہیں تو یہ جیالوں کی جیت ہے۔ ہم پی ٹی آئی میں موجود سہولت کاروں کو آخری چانس دے رہے ہیں کہ آپ غلطی مان لیں اور عمران کٹھ پتلی کا عدم اعتماد میں ساتھ نہ دو۔
عمران کے لئے پیغام ہے کہ ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک استعفیٰ دے دو اگر آپ ڈرپوک نہیں اور ہمت ہے تو میدان میں آئیں۔ انہوںنے کہا کہ میں ہر شہر میں جا کر ایک سوال پوچھتا ہوں کہ آپ کو تبدیلی پسند آئی۔ شفاف انتخابات کے لئے عوامی حکومت آئے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو جمہوریت آپ نے چھینی ہے ہمیں واپس کی جائے۔ ہم ہر صوبے کو اس کا حق دلوائیں گے۔ آپ نے حق روزگار چھینا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم اسلام آباد آرہے ہیں اور ہم اپنا حق چھننا جانتے ہیں۔ یہ صدر زرداری سے حساب مانگ رہے ہیںپیپلزپارٹی نے مزدوروں کو حق دیا، کسانوں کو زمین کا مالک بنایا، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ اس پر سب کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہ ملک شہید بینظیر کی وجہ سے، صدر زرداری کی وجہ سے ہے۔ غریب خواتین کو مالی مدد مل رہی ہے تو آصف علی زرداری کا شکریہ ۔ جو اینٹ بھی اس ملک میں لگائی گئی ہے پیپلزپارٹی نے لگائی ہے۔ اب جو کچھ بھی ہونا ہے وہ پیپلزپارٹی نے ہی کرنا ہے۔
https://www.ppp.org.pk/pr/26416/
Monday, February 28, 2022
Chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari’s two days long march compelled puppet to slightly reduce PoL prices, says Bilawal House spokesman demanding Imran Khan to step down before long march reaches Islamabad
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرادری کی قیادت میں ہونے والےعوامی مارچ کا دوسرے روز بھی ہر شہر ہر قصبے میں پرتپاک استقبال
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا عوامی مارچ پیر کے روز صبح بدین سے روانہ ہوا۔ بدین سے لے کر حیدرآباد تک ہر چھوٹے چھوٹے قصبوں میں عوام نے بلاول بھٹو زرداری کا شاندار استقبال کیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کا کارواں ٹنڈو محمد خان سے جب حیدرآباد پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں جیالوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ فتح چوک، بھٹائی کالونی، جیل چورنگی کے علاقوں میں پیپلزپارٹی کے کارکن اور شہری ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ حیدرآباد میں ایک جیالے نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بجلی کے کھمبے کو جھولا بنا دیا۔ وہ جھولے پر جھولتے بھی رہے اور نعرے بھی لگاتے Aرہے تاکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی توجہ ان کی طرف جائے۔
بعد ازاں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے اسرار پر جیالا بجلی کے کھمبے سے بخیریت اتر آیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حیدرآباد کے بعد مٹیاری پہنچے تو جگہ جگہ پر ان پر گل پاشی کی گئی۔ مقامی لوگوں نے عوامی مارچ کی سہولیات کے لئے جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کا انتظام کر رکھا تھا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مٹیاری کے بعد کھنڈو، خیبر، بھٹ شاہ، سعیدآباد، سکرنڈ کے بعد بینظیرآباد ضلع کے قاضی احمد پہنچے۔ راستے میں ہر جگہ پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شاندار استقبال کیا گیا اور صبح سے ہزاروں لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیقرار نظر آئے۔
https://www.ppp.org.pk/pr/26400/
Sunday, February 27, 2022
#AwamiMarch - ادارے نیوٹرل رہیں تو عمران خان کو شکست ہوگی، حزب اختلاف
حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ادارے نیوٹرل رہیں تو عمران خان کو شکست ہوگی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر مکمل اتفاق اور یکسوئی ہے، پوری تیاری کے ساتھ میدان میں آئینگے، نااہل حکمرانوں کا جانا ناگزیر ہوچکا،کوئی ولی نہیں عدم اعتماد کی تاریخ بتادوں۔
پاکستان کے عوام ہاتھ اٹھا کر دعائیں کررہے ہیں کب بدترین فاشسٹ نااہل حکومت سے جان چھوٹے گی، جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ غیر جمہوریت حکومت جمہوری ہتھیار استعمال کرینگے، عمران خان استعفیٰ دیں تو مارچ اور عدم اعتماد کی ضرورت نہیں، کل کراچی سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی اختر مینگل نے کہا بلوچستان سے زیادتی کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ،اب تو تبدیلی کے نام سے چڑ ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق شہباز شریف سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے انکی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔
دونوں رہنمائوں نے مہنگائی، بیروزگاری، موجودہ معاشی صورتحال اور دیگر عوامی مسائل پر بات چیت کی ۔ اس موقع پر تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن کی مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
بعدازاں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سر براہ سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اسوقت ملک کے معاشی حالات و سیاسی حالات انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں،(ن) لیگ اور بی این پی مینگل پی ڈی ایم کا حصہ ہیں اسلئے عدم اعتماد پر جو اصولی فیصلہ ہے اس ہوم ورک پر گفتگو کی۔
عدم اعتماد پر مکمل اتفاق ہے جب بھی تیار ہونگے تو عوام کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بدترین حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے فیصلہ کرینگے، ملک میں مہنگائی اوربیروزگاری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، کرپشن عام ہے، عوام اس حکومت میں بد حال ہو چکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کوئی ولی نہیں عدم اعتماد کی تاریخ بتا دوں، لیکن تحریک عدم اعتماد پر مکمل اتفاق اور یکسوئی ہے، پوری تیاری کے ساتھ میدان میں آئینگے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے عوام ہاتھ اٹھا کر دعا کررہے ہیں کب بدترین فاشسٹ نااہل حکومت سے جان چھوٹے گی،لوگ دعائیں کررہے ہیں، مہنگائی سے کب جان چھوٹے گی، بائیس کروڑ عوام نے حکومت جانے کا سگنل دیدیا ہے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہم پی ڈی ایم کا حصہ ہیں جو فیصلے ہوئے اس پر اتفاق رائے کیا ہے، عدم اعتماد پر ہوم ورک مکمل کرکے عملی جامہ پہنایا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاست سے حل ہوگا ،عسکری توپوں سے مسائل حل نہیں ہونگے، متفق ہیں بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی طورپر حل کیاجائے، بلوچستان میں لا پتہ افراد ہزاروں کی تعداد میں ہیں انہیں رہا کیاجائے۔
دریں اثناء بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارا احتجاج ایک غیرجمہوری حکومت پر جمہوری حملہ ہے، اس غیر جمہوری حکومت کو ہٹانےکیلئے عدم اعتماد لانا چاہیے، پی ٹی آئی ایم ایف کو ہم پہلے دن سے نہیں مانتے۔
ہم پہلے دن سے اس حکومت کیخلاف احتجاج کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی آئی ایم ایف کا بوجھ عام آدمی اٹھارہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اس آئی ایم ایف ڈیل سے نکلے اور نئی ڈیل کرے، ایسی ڈیل لائی جائے جو پاکستان کے مفاد میں ہو۔ وہ ہفتے کو بلاول ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔
اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، شیری رحمان،رضاربانی،فیصل کریم کنڈی، شازیہ مری اور ناصرحسین شاہ بھی موجود تھے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام کے معاشی حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے ہیں۔
#AwamiMarch #Badin 💘- Bilawal fires fresh salvo at PM Imran as PPP's long march to Islamabad begins
People compelled to send Imran home because "incapable, incompetent selected" has robbed them, says Bilawal
Chairperson Pakistan People’s Party Bilawal Bhutto Zardari on Sunday addressed a huge, charged crowd in Karachi at the start of the PPP’s Awami Long March against the incumbent government.
During his address, Bilawal remarked that the people of Karachi had gathered at the Quaid-e-Azam mausoleum to “send the selected, illegitimate and incapable [government] home.”
Bilawal raising the slogan of "go selected go", said that Karachi is a city where people came from every province and that the economy of the country ran with their sweat and blood.
“The people have been compelled to send Imran Khan home because this illegitimate, incapable and incompetent selected have robbed the people of Sindh, Balochistan, Punjab and Khyber Pakhtunkhwa [K-P] of their rights,” he claimed, adding that the PTI government had robbed the people of their votes, pockets and livelihoods.
Read Bilawal throws weight behind fresh polls
He emphasised that the entire opposition had decided to send Prime Minister Imran Khan home and that the jiyalas (supporters) of the PPP were at the forefront of this movement.
“No power can stop these jiyalas,” he said.
Bilawal further said that the Quaid-e-Azam had promised that the country will be a parliamentary democracy but the incumbent government had “attacked our democracy, our economy and human rights”.
“We will complete the mission of Quaid-e-Azam and Shaheed mohtarma Benazir Bhutto, and defend the 1973 constitution, the rights of the people and the economy of this country,” he stated.
Bilawal claimed that "the PPP had always defended the rights of the people, increased salaries and pensions, and given rights to the provinces and made them the owner of their own resources."
He alleged that the “puppet” Imran Khan wanted to dismantle the 18th amendment and NFC award.
“Sindh Chief Minister Syed Murad Ali Shah is trying to serve the people of the city of Karachi and this province despite the fact that the puppet government of Imran Khan does not provide the due share from NFC to provinces,” Bilawal said.
He maintained that the ruling party has made Pakistan one of the most corrupt countries in the world, adding that Transparency International had declared the PTI government as the "most corrupt government in history".
The PPP chairperson said that the "awami" government will provide resources to the provinces and hence, all cities will get their due share.
Read More Opposition divided over no-trust move, claims Rashid
He said that it was impossible to achieve anything until “this puppet” was in the government and the PTI-IMF deal was in place.
“The time has come to bring the no-confidence motion against Imran Khan and send him home. Now with this march, cries will be heard from Bani Gala,” he said.
According to Bilawal, the PPP will put the demands of the people of every city on the way to Islamabad during this long march.
“We will attack this government after reaching Islamabad,” he said.
Prior to Bilawal, PPP leaders Murtaza Wahab, Raza Rabbani, Murad Ali Shah, Nisar Khoro and Qamar Zaman Kaira also addressed the people.
Long march route
The march began from Mazar-e-Quaid on February 27 (today) at 10 am and the protesters will reach Badin where they will spend the night. The protesters will resume their journey on February 28 passing through Hyderabad, Hala and Nawabshah and end its second day at Moro.
Marchers will reach Khairpur city on March 1 and end their third day in Sukkur. The long march will then continue from Sukkur on March 2 from where the protesters will reach Rahim Yar Khan.
On March 3, the PPP convoy from Rahim Yar Khan, passing through Bahawalpur and Lodhran will end its fifth day with a large public gathering in Multan.
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں مزار قائد سے شروع ہونے والے عوامی مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں شامل، جلوس کئی کلومیٹر تک طویل
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں مزار قائد سے شروع ہونے والے عوامی مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں شامل تھیں اور جلوس کئی کلومیٹر تک طویل تھا۔ شاہراہ فیصل، ناتھا خان، سٹارگیٹ، ملیر ہالٹ، ملیر15قائدآباد، شاہ لطیف ٹاﺅن، بھینس کالونی موڑ، رزاق آباد ، اسٹیل ملز، گلشن حدید میں عوام کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ عوامی مارچ جیسے ہی ملیر میں داخل ہوا تو سڑک کے دونوں کناروں پر عوام کی بڑی تعداد نے ان کا والہانہ استقبال کیا جبکہ عمارتوں پر کھڑی خواتین اور بچوں نے ان پر پھول نچھاور کئے۔
کراچی کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جیسے ٹھٹھہ میں داخل ہوئے تو گھگھر پھاٹک، ڈھابے جی، گھارو، گجو، مکلی سے ٹھٹھہ تک عوام کا سمندر امڈ آیا۔ خواتین روایتی رقص اور جھومر ڈال کر چیئرمین پیپلز پارٹی کی آمد پر خوشی کا اظہار کر رہی تھیں۔ سجاول میں بھی چیئرمین پی پی پی کا شہریوں کی طرف سے تاریخی استقبال کیا گیا اور خواتین کی بڑی تعداد نے شہر کی مرکزی شاہراہ پر ان کا خطاب سنا۔ میرپور بٹھورو، جاتی، دوڑ، ٹھارو شاہ، شاہ بندر اور دیگر قصبوں سے آئے ہوئے جیالے اور شہری صبح سے سجاول شہر میں اپنے چیئرمین کے استقبال کے لئے موجود تھے۔
ٹھٹھہ شہر پیپلزپارٹی کے پرچموں، تصویروں اور بینروں سے سجایا گیا تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مارچ کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ تقریباً سات کلومیٹر تک ان کے جلوس کی گاڑیاںتھیں۔
https://www.ppp.org.pk/pr/26374/
Saturday, February 26, 2022
#China - About the Uygurs’ situation in Xinjiang: a legal point of view
By Norbert Rouland
Following the defeat of the United States in Afghanistan, it is appropriate for China to ensure a certain degree of stability in the region of Central Asia. China wishes to ascertain a return to political stability and the promotion of economic development in the region. This requires fighting against terrorism, separatism, and extremism.As President Xi Jinping has stressed in several of his speeches, no civilization is superior to another. But terrorism is contrary to human civilization and human rights. China is being subject to the dangers and tensions that exist in Central Asia. The "three demons" of terrorism, separatism and religious extremism are considered to be the three greatest threats to China.
So then, how is the Chinese government's policy in Xinjiang to be judged from a legal point of view? What opinion can a European jurist like me give? Can we legally speak of “genocide” with regard to the Uygurs?
Two official documents define “genocide,” namely the Convention on the Prevention and Punishment of the Crime of Genocide adopted by the United Nations General Assembly on Dec. 9, 1948; and the Rome Statute of the International Criminal Court adopted in 1998. Article 2 of the Convention and Article 6 of the Rome Statute define the crime of genocide as follows:
Namely, “any of the following acts committed with intent to destroy, in whole or in part, a national, ethnical, racial or religious group, as such:
a) Killing members of the group;
b) Causing serious bodily or mental harm to members of the group;
(c) Deliberately inflicting on the group conditions of life calculated to bring about its physical destruction in whole or in part;
d) Imposing measures intended to prevent births within the group;
(e) Forcible transfer of children from the group to another group.
It is obvious that China does not intend to destroy all or part of the Uygur population. Attacks committed by the terrorists can't be tolerated. China just wants to put the Uygur people out of harm's way. This action cannot be called genocide. Every State resorts to public force to ensure social order and to protect its population against the perpetrators of criminal offences.
It should be noted that in the Muslim world, there is very little criticism of the policy conducted by the Chinese government regarding the Uygurs. There are no associated demonstrations or protests among the populations in the 57 Muslim countries of the world. This has never existed. For example, Saudi Arabia does not criticize the Chinese government.
Let us recall what the United States, which criticizes China, did after the 9/11 attacks. They invaded Afghanistan and led coalitions to invade several countries in the Middle East. They sent those they presumed to be terrorists without undergoing any form of trial to the Guantanamo Bay detention camp, where they underwent various tortures.
The author is a law professor at the University of Aix-Marseille, France.
http://en.people.cn/n3/2022/0223/c90000-9961740.html
#UkraineUnderAttack #UkraineRussia - Chinese, Russian presidents hold phone conversation on Friday
BEIJING, Feb. 25 (Xinhua) -- Chinese President Xi Jinping and his Russian counterpart, Vladimir Putin, on Friday held a phone conversation.
During the phone conversation, Xi thanked Putin again for coming to China to attend the opening ceremony of the Beijing Winter Olympics, and congratulated the Russian athletes on finishing second in the Winter Olympics medal table.
Putin extended warm congratulations to all the Chinese people for the complete success of the Beijing Winter Olympics and for the outstanding performance of the Chinese delegation.
The two sides mainly exchanged views on the current Ukrainian situation.
Putin introduced the historical context of the Ukraine issue as well as Russia's special military operation in eastern Ukraine and its position.
He said that the United States and the North Atlantic Treaty Organization have long ignored Russia's legitimate security concerns, repeatedly broken their commitments and continuously pushed their military deployment eastwards, which challenged Russia's strategic bottom line.
Russia is ready to hold high-level negotiation with Ukraine, said Putin.
Xi pointed out that recent dramatic changes in the situation in eastern Ukraine have drawn great attention from the international community, adding that China decides on its position based on the merits of the Ukrainian issue itself.
He called on dropping the Cold War mentality, attaching importance and respecting the legitimate security concerns of various countries and forming a balanced, effective and sustainable European security mechanism through negotiation.
The Chinese side supports the Russian side in solving the issue through negotiation with the Ukrainian side, Xi said, adding that China has been consistent in its basic position on respecting the sovereignty and territorial integrity of all countries and abiding by the purposes and principles of the UN Charter.
China is ready to work with members of the international community to embrace the concept of common, comprehensive, cooperative and sustainable security, and firmly uphold the international system with the United Nations at its core and the international order based on international law, Xi said.







