Tuesday, August 1, 2017

70 YEARS OF PAKISTAN - Dead, alive put on same bed again at Gujranwala hospital

Another incident of dead and alive put on the same bed was reported today from District Headquarters Hospital in Gujranwala.
A woman suffering with high blood pressure was taken to the District Headquarters hospital, but she could not survive and breathed her last on a bed in emergency ward of the facility.
The dead body was not removed from the bed and another case was brought in the hospital. The young man brought to the hospital ward was put on the same bed for treatment, on which the woman's dead body was lying.
The incident highlighted shortcomings on part of the hospital administration for reportedly the second time.
Previously, the hospital administration said they were forced to do so because of shortage of bed facilities in the ward. http://nation.com.pk/national/01-Aug-2017/dead-and-alive-put-on-same-bed-again-at-gujranwala-hospital

Pakistan - Polio In Mirpur Khas

Member of National Assembly Azra Afzal Pechuho, focal person for the provincial polio programme, has expressed dissatisfaction over the campaigns that are being carried out in three districts of Mirpur Khas. What is happening is that parents, due to misinformation, are refusing to vaccinate their children. At the same time, vaccinators also tend to go easy during these campaigns and do not make much effort to change the opinion of the people and convince them to vaccinate their children.
This takes Pakistan further away from its goal of polio eradication, and a number of children suffer as a result. The division of Mirpur Khas is failing to change the situation because of lack of input of the officials and the absence of revised statistics regarding the polio campaigns. To measure that impact of any campaign, numerical data is important. If that is not revised, newer goals cannot be set.
Pechuho has requested the monitoring of the immunisation campaigns by the health department. The responsibility has been given to the World Health Organisation (WHO), which oversees such matters. It has also been advised, in a meeting on Saturday, that police cases need to be lodged against parents who refuse to vaccinate their children. Parents have the responsibility of looking after their children. If they refuse to acknowledge accurate scientific knowledge for the words of a layman, then they must be punished.
The government of Pakistan has been rigorously making efforts to reduce the epidemic of polio in Pakistan. Efforts include awareness campaigns, and ensuring that misinformation in this regard is reduced to the lowest possible degree. Calculated and targeted efforts have been made in the provinces.
However, such discrepancies can create hurdles in the process of achieving the overall goal of polio eradication. To fulfil the cause, each and every institution must be vigilant. Such mistakes cannot be tolerated, especially when the rest of the provinces are making considerable progress.

Bilawal Bhutto expresses serious concerns over disclosures of PTI MNA Ayesha Gulalai Wazir

Chairman Pakistan Peoples Party Bilawal Bhutto Zardari has expressed serious concerns over the disclosures of PTI MNA Ayesha Gulalai Wazir saying insecurity of respect and honor among women in certain political parties was a daub on politics.
Taking notice of the accusations of MNA Ayesha Gulalai against her former leadership should be investigated in depth.

Bilawal Bhutto Zardari pledged that PPP won’t allow any harm to the rights and respect of womenfolk and pledged that the Party of Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto would continue to raise voice for the protection of women.


پی ٹی آئی میں خواتین سے اچھا سلوک نہیں ہوتا، ناز بلوچ

پاکستان تحریک انصاف سے پیپلز پارٹی میں جانے والی ناز بلوچ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں خواتین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوتا۔
پی ٹی آئی چھوڑنے والی عائشہ گلا لئی کے حوالے سے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ناز بلوچ کا مزید کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں تنظیمی مسائل ہیں،میں پہلے بھی ان کی نشاندہی کرچکی ہوں۔
عائشہ گلالئی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ خواتین کو کچھ نہ کچھ مسئلہ تو ضرور ہے جس کی وجہ سے وہ پی ٹی آئی چھوڑ رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے عائشہ گلالئی کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا۔
مسلم لیگ فنکشنل کی رہنما نصرت سحر عباسی نے کہا ہے کہ عائشہ گلالئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات سنگین ہیں، اگر یہ سچ ہوا تو خواتین کی سیاست میں آمد کم ہوجائے گی۔
سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ عائشہ گلا لئی نے الزام براہ راست عمران خان پر لگایا گیا ہے، نعیم الحق، فواد چوہدری اور تحریک انصاف کی خواتین کو الزام کا دفاع نہیں کرنا چاہیے،بلکہ خود عمران خان کو چاہیے کہ وہ قومی اسمبلی کی خواتین ارکان سے اس کی تحقیقات کرائیں ۔

عمران موبائل سے لڑکیوں کو غلط میسج کرتے ہیں: عائشہ گلالئی

پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والی عائشہ گلالئی کہتی ہیں کہ عمران خان بدکردار ہیں، ان کی وجہ سے ماؤں، بہنوں، کسی عورت، کسی لڑکی کی عزت محفوظ نہیں، وہ خواتین اور لڑکیوں کو موبائل فون سے غلط میسیج کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران عائشہ گلا لئی نے پی ٹی آئی سے اپنی باقاعدہ علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمران خان موبائل فون پر خواتین اور لڑکیوں کو غلط میسج بھی کرتے تھے، دو نمبر پٹھان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2013ء میں پہلی بار عمران خان کا ٹیکسٹ میسج ملا، عمران خان کا بلیک بیری چیک کر لیں سب کچھ سامنے آ جائے گا، وہ خواتین کو بھی کہتے ہیں کہ بلیک بیری رکھیں اس سے میسج ٹریس نہیں ہوتے، میسجز میں ایسے الفاظ تھے جو کسی کی غیرت برداشت نہیں کرسکتی، ہم بھی کسی کی ماں، بیٹیاں ہیں۔
عائشہ گلالئی نے عمران خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کوئی انگلینڈ کا کلچر نہیں ہے، اخلاقی بنیادوں پر عمران خان کے خلاف آرٹیکل 62 - 63 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ این اے ون پشاور کے ٹکٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ دیگر وجوہات کے باعث پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا،صرف میں ہی نہیں پی ٹی آئی کی کئی خواتین پارٹی کے ماحول سے پریشان ہیں،پی ٹی آئی نے منانے کے لیے وفد بھیجنے کی کوشش کی، تاہم میں نے انکار کر دیا۔
عائشہ گلالئی نے کہا کہ مجھے سکھایا گیا ہے کہ عزت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، ہمیں بچپن سے ہمت و حوصلے سے بات کرنا سکھایا جاتا ہے، ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ غیرت اور عزت ہوتی ہے،انہوں نے وضاحت کرتے ہو ئے کہا کہ مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنی عادتوں پر کنٹرول نہیں ، پی ٹی آئی میں لڑکیوں، عزت دار خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ،انہیں نااہل قرار دینا چاہیے، خان صاحب ملک میں مغربی کلچر لانا چاہتے ہیں، تحریک انصاف کی تبدیلی سوشل میڈیا پرہے گراؤنڈ پرنہیں۔
عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ کہا گیا کہ میری کوئی پرفارمنس نہیں ہے، میری پرفارمنس آپ کے سامنے ہے، میں سوشل میڈیا پر کم اور گراؤنڈ پر زیادہ ہوتی ہوں، میں نے خیبرپختونخوا میں صفائی مہم شروع کی۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف خاندانی آدمی ہیں وہ عزت اوراحترام دینا جانتے ہیں، عمران خان اوران کے ٹولے کی وجہ سے خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں، پی ٹی آئی سے پہلے پیپلز پارٹی میں تھی وہاں بھی خواتین کی عزت ہے۔
عائشہ گلالئی نے کہا کہ عمران خان کارکنوں کی تذلیل کرتے ہیں، وہ خود تو بنی گالا میں ہوتے ہیں اور کارکن ڈنڈے کھاتے ہیں، پی ٹی آئی کے ورکرز کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہوں،عمران خان نفسیاتی امراض کا بھی شکار ہیں اور ٹیلنٹڈ نوجوانوں سے جلتے ہیں،اگر ورکرز کے پاس جہاز نہیں تو ان کا کیا قصور ہے کہ آپ ان کو ادنیٰ کہتے ہیں۔
گلا لئی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بے نظیر بھٹو کے بارے میں ایسی باتیں کہیں کہ مجھے افسوس ہوا، عمران خان صرف زندہ نہیں مرے ہوئے لوگوں کے بارے میں بھی برے الفاظ استعمال کرتے ہیں،پی ٹی آئی میں کارکنوں کی دوکیٹیگریز ہیں، ایک بنی گالا میں،دوسری بنی گالا سے باہر ہے، عمران خان خود کو عقل مند اور باقی سب کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔
عائشہ گلالئی کہتی ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیٹا پیسے لے کر لوگوں کے کام کرتا ہے، آج ایسے ٹھیکے ہیں جس پر پرویز خٹک نے غیر قانونی طور پر لیزنگ لی ہوئی ہے،شاید ان کے ٹھیکوں سے عمران خان کا کچن چلتا ہے، وزیر اعلیٰ کے پی کے نے تنگی مائنز میں اپنے کزن کو غیرقانونی لیز دی ہے، ان کے خلاف کرپشن کے ثبوت لے کر عمران خان کے پاس گئے، عمران نیازی کو پتا نہیں کیا مسئلہ تھا سارے ثبوت ایک طرف رکھ دیئے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے 3گھنٹے نہیں 15 منٹ ملاقات ہوئی، بنی گالا میں پارٹی اجلاس میں بھی نہیں جاتی تھی، میری ناراضی بہت عرصے سے تھی۔