Saturday, March 24, 2018

Video - #EnoughIsEnough - #VoteThemOut - March for Our Lives protesters rally for gun control reforms

Video - #March4OurLives - David Hogg: "Winter is over, change is here"

Video - #Marchforourlives: Emma Gonzalez stands in silence for 6 minutes 20 seconds

Video - #March4OurLives - MLK Jr's granddaughter: I have a dream .. enough is enough

#March4OurLives - ‘WE WILL VOTE YOU OUT’ - The March For Our Lives Is Proof That Generation Z Can’t Be Stopped

By Sebastian Murdock and Sara Boboltz

These kids won’t settle for anything less than change.

That was the message that hundreds of thousands of protesters around the world had Saturday for lawmakers who have ignored the toll of gun violence and refused to pass meaningful gun reform legislation.
At the March For Our Lives event in Washington, D.C., students from Marjory Stoneman Douglas High School in Parkland, Florida ― where 17 people were killed last month ― gave passionate, articulate speeches encouraging young adults to vote. 
Survivor David Hogg made it clear that politicians in the pocket of the National Rifle Association wouldn’t be around much longer.
“To those politicians supported by the NRA and who allow the continued slaughter of our children and our future, I say: Get your resumes ready,” Hogg said.
Fellow survivor and activist Delaney Tarr echoed the sentiment.
“If we move on, the NRA and those against us will win. They want us to forget. They want our voices to be silenced. And they want to retreat into the shadows where they can remain unnoticed,” Tarr said. “They want to be back on top, unquestioned in their corruption, but we cannot and we will not let that happen.”
Everytown for Gun Safety, a nonprofit established after the Sandy Hook Elementary school massacre, provided support to the young organizers. Organizers said more than 800 marches were planned around the U.S. and abroad, with some protesters traveling from neighboring states to attend the largest gatherings. 
Many of their signs skewered politicians and the National Rifle Association. The more popular chants that broke out among the crowds included “Not one more,” “Vote them out” and “The NRA has got to go!”

Thousands of people gather on Pennsylvania Avenue at the March For Our Lives rally in Washington. 
Stephen, 17, from Syracuse, New York, told HuffPost that people his age aren’t looking for “band-aid solutions.” Brianna, 17, also from Syracuse, said she’s “sick of crying.”
“Let’s fucking do something,” she said. “Go out and do something. Vote.”
Even the youngest speakers pushed for people to take action at the polls. Naomi Wadler, an 11-year-old activist, acknowledged “the African-American girls whose stories don’t make the front page of every national newspaper, whose stories don’t lead on the evening news.”
“We know we have seven short years until we too have the right to vote,” she said of her peers. “So I am here today to honor the words of Toni Morrison: ‘If there is a book that you want to read but it hasn’t been written yet you must be the one to write it.’” 
Eleven-year-old activist Christopher Lane, a sixth grader who helped organize the New York march, shared a similar message, reciting statistics about how gun violence disproportionally affects black people. 
Colette Paterson, 14, told HuffPost that she and her mother decided to attend the New York march after Colette and 200 others at her Perkasie, Pennsylvania, high school received detentions for walking out in protest of gun violence.
“She’ll be voting in four years. That’s not a long time,” said Colette’s mother, Stephanie, who has a concealed carry permit.
Speaking to a crowd of thousands in New York City, Marjory Stoneman Douglas High School student Meghan Bonner paid tribute to her friend, Alaina Petty, who was killed on Feb. 14.
Bonner, one of many teens from Parkland who leapt into action after the shooting, sent a message of action to people her age: “The adults failed us, and now 17 people are dead.”

#BannuBhuttoKa - AYA AYA BILAWAL...

نواز شریف اور خان صاحب کو الیکشن میں آئینہ دکھانے کا وقت آگیا، بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف اور خان صاحب کی اصلیت جان چکے ہیں اب وقت آگیا ہے ان دونوں کو الیکشن میں آئینہ دکھاناہوگا،جھوٹ کا عالمی میلہ لگے تو سب سے بڑا تاج عمران خان کو ملے گا،جنھوں دی تو صرف” گالی“ اور لیا تو صرف ”یوٹرن“، نواز شریف دوسروں کو کھلونا کہتے ہیں اور خود چابی ڈھونڈ رہے ہیں ، ہمیں ایسی عدالت کی ضرورت ہے جو انصاف کرسکے اور ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں،مشرف ہوں یا دہشتگرد ہر کسی کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے ، پیپلز پارٹی نے فاٹا کے لوگوں کو ووٹ کا حق دیا فاٹا کو کے پی میں ضم بھی ہم کریں گے،مولانا صاحب کو فاٹا کے عوام سے کیا دشمنی ہے لوگوں کے انسانی حقوق کیوں پامال کر رہے ہیں ،دہشتگردی کو طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا،یہ نقیب اللہ یا ٹارگٹ کلر کا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے۔بنوں میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا خیبرپختونخوا سے رشتہ نیا نہیں ہے، 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے مینگورہ میں خطاب کرتے ہوئے مالاکنڈ ڈویژن سے ایف سی آر جیسے کالے قانون کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔وہی پہلے وزیرِ اعظم تھے جنہوں نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا تھا اور فاٹا کا ترقیاتی بڑھایا۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے فاٹا کے عوام کو ووٹ کا حق دیا اور یہاں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کا حق دیا، اور پی پی پی ہی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی مخالفت کررہے ہیں، مولانا صاحب آپ کو فاٹا کے عوام سے کیا دشمنی ہے، آپ فاٹا کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کیوں پامال کررہے ہیں؟چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام 40 سال سے آگ اور خون کا مقابلہ کررہے ہیں اور یہ خوشبو کی وادی جنگ کی خوشبو میں تبدیل کردی گئی ہے۔بلاول بھٹو نے خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور چیئرمین عمران خان کے حوالے سے کہا کہ 'اگر جھوٹ کا عالمی میلہ لگا تو سب سے بڑا تاج عمران خان کو ہی پہنایا جائے گا'۔انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مخاطب کرکے مزید کہا کہ 'عمران خان آپ نے اگر کسی کو کوئی چیز دی ہے تو وہ صرف گالی دی اور لیا ہے تو صرف یوٹرن لیا' سپریم کورٹ نے عمران خان کی اے ٹی ایم نااہل کردی ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ان دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے، ہم دہشت گردوں سے لڑیں گے، یہ ہمارے بچوں اور عورتوں پر تشددد کرتے ہیں، بزرگوں کو قتل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں دہشت گرد ہویا مشرف، گرفتار ہوں مقدمہ چلے اور قانون کے مطابق سزا ملے۔ہمیں ایسی عدالت کی ضرورت ہے جو انصاف کرسکے، ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میاں صاحب اور خان صاحب کی اصلیت جان چکے ہیں، وقت آگیا ہے ان دونوں کو الیکشن میں آئینہ دکھاناہوگا، یہ دونوں ایک ہیں، ان کی سیاست اور بنیاد ایک ہیں۔انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کو طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا، ملک میں قانون کی حکمرانی سے دہشت گردی کو شکست دی جاسکتی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کےلئے نصاب بدلنا ہوگا۔جب تک طالبان کو بچھڑا ہوا بھائی کہا جائے گا دہشتگردی ختم نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی پولیس کی ضرورت ہے جس پر لوگ اعتماد کریں، کیونکہ پولیس ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتے ہیں۔چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ جب ہم نے بینظیر بھٹو کے انتقال کے بعد جب حکومت سنبھالی تو اس وقت دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا اور فاٹا کے علاقوں میں قبضہ جمایا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران ان کی حکومت نے سیاسی مفاہمت کرکے ان علاقوں میں فوجی آپریشنز کا آغاز کیا اور اس دوران داخلی طور پر نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کا خیال کیا۔خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبے میں حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دورِ اقتدار کے دوران صوبے میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں بنائی۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبرپختونخوا یونیورسٹی بنانے کے بجائے کروڑوں روپے ایک مخصوص مدرسے کو دے دیے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لوگو سے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی تصویر ہٹانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہاں سے ان کی تصویر ہٹائی جاسکتی ہے لیکن ملک کی غریب خواتین کے دلوں سے بینظیر بھٹو کو نہیں نکالا جاسکتا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جو شخص دوسروں کو چابی والا کھلونا کہہ رہا تھا آج وہ خود اپنے کھلونے کی چابی ڈھونڈ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف شمال مشرقی سرحدی صوبے کا نام خیبرپختونخوا رکھنے کی مخالف تھی تاہم اس معاملے میں پیپلز پارٹی کی سیاسی جیت ہوئی سابق وزیر اعظم نے اپنے گھٹنے ٹیک دیے اور صوبہ سرحد کا نام خیبرپختونخوا کا رکھ دیا گیا۔پاک چین اقتصادی راہدای کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی نے رکھی جس کا مقصد بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ترقی لانا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سی پیک لاہور میں تو نظر آرہا ہے لیکن خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سی پیک منصوبہ نظر نہیں آرہا۔

Peoples Party has a long-standing relation with Khyber Pakhtunkhwa: Bilawal Bhutto

Pakistan Peoples Party has a long-standing relation with Khyber Pakhtunkhwa, said PPP Chairperson Bilawal Bhutto-Zardari.
While addressing a rally in Bannu, Bilawal said it was PPP founder Zulfikar Ali Bhutto who had announced to demolish the Frontier Crimes Regulation from Malakand Division during his speech there.
He added the brave people of KP have been fighting since a long time as the valley of fragrance has been turned into one of blood.
To solve the issues of KP a court is needed that could impart justice, the PPP chairperson said.
“We need a police force that people could trust and institutes that ensure rule of law,” he added. “I trust our police be it of KP, Punjab, Balochistan or Sindh as they all have made sacrifices and fought terrorists with valour.”
Bilawal said police was the country’s frontline, which ought to be strengthened on the whole as every street cannot have a soldier deployed.
Speaking about war against terrorism, Bilawal said it was his party that brought together the entire Parliament and united people for the sake of sustainable peace in Swat that was taken over by terrorists soon after Benazir Bhutto’s martyrdom.
The PPP chairperson also claimed of repatriating the nearly 2.5 million internally displaced persons to their native areas within three months.
Bilawal is flanked by other party leaders such as Anwar Saifullah Khan, Sher Azam Wazir, Humayun Khan, Senator Rubina Khalid and Faisal Kundi.
Party supporters from different areas have come to Bannu to attend the rally and show their support for their leader.

#BannuBhuttoKa - Bilawal lambastes #PTI, #PMLN, #JUIF in #Bannu rally

Pakistan People’s Party (PPP) chairman Bilawal Bhutto Zardari on Saturday said the nation’s basic concerns are not the questions behind a leader’s ouster but availability of food, cloth and shelter.
Speaking to party supporters gathered at the rally in Bannu, the PPP chief demeaned Nawaz Shareef and Imran Khan saying that the two, despite different claims, are of same sect and possess mutual conspiracies in politics.
He vowed that both parties’ ‘Quaids’ will be shown their realities during the forthcoming elections. He also criticised Jamiat-ul-Islam-Fazl chief Maulana Fazlur Rehman for opposing the merger of KP and FATA.
He outlined that the outcomes of China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) are only visible in Lahore, whilst KP and Baluchistan remain unaffected.
The PPP chief maintained that the party has remained in sustained ties with KP for fifty years and stressed the need to arrest the accused terrorists involved in blood shedding the fragrant province and demanded legal proceedings, adding that "Terrorism is neither an issue only linked to Naqeebullah Mehsud's murder nor a case of a target killer, it is the problem of the entire country."
He claimed of repatriating the nearly 2.5 million internally displaced persons to their native areas within three months.
He further said that it was PPP founder Zulfikar Ali Bhutto who had announced to demolish the Frontier Crimes Regulation (FCR) from Malakand Division.
Pulling the tirade at the Pakistan Tehreek-e-Insaf chief, he alleged that Imran Khan makes false claims of ending corruption in KP, whereas the leader has miserably failed to even eradicate poverty, unemployment or to build a single hospital in the province.
He lauded Bannu for displaying the most authentic response by disagreeing to Imran Khan’s question if the city has been relieved of corruption.
He stressed that KP needs to be relieved of Banni Gala’s grip as Imran Khan only seems concerned to promote westernization in the province irrespective of crucial needs, adding that how can a newer Pakistan expected from the leader who couldn’t build a newer KP during his tenure.
He also added that if an annual festival of liars were to be held, Imran would be seated at the king’s throne as he has only taken U-turns in his political tenure.

Video - #Pakistan - #BannuBhuttoKa - #Pakistan - #PPP - Chairman PPP Bilawal Bhutto Speech At Bannu Jalsa 24th March 2018