Monday, December 31, 2018

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں - بینظیر بھٹو - ذوالفقار علی بھٹو - ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں , ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم

یہ مِصرع اعلیٰ شاعر شاد عظیم آبادی کی مشہور غزل کا ہے اور اس کو ہماری بے مثال گلوکارہ عابدہ پروین نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید بنا دیا ہے۔ بیٹی عابدہ نے یہ غزل محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کی یاد میں گائی تھی۔ میں آج اسی غزل کی مناسبت سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ شعر یوں ہیں:
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم
اے ہم نفسو! وہ خواب ہیں ہم
اسی غزل کا ایک اور پیارا شعر ہے:
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں
منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ! قدر کرو،
نایاب نہ ہوں، کمیاب ہیں ہم
آپ خاموشی سے تنہائی میں بیٹھ کر عابدہ پروین کی گائی ہوئی غزل سنیں، وجد میں آ جائیؓں گے، دنیا اور اپنے وجود سے غافل ہو جائیں گے۔ اُردو زبان ہے ہی ایسی پیاری کہ دریا کو کوزہ میں بند کر دیتی ہے، غزلوں میں ایسی شیرینی ڈال دیتی ہے کہ آپ اپنے وجود سے غافل ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب گلوکار ہماری عابدہ پروین، اقبال بانو، مُنّی بیگم یا غلام علی ہوں۔
سیاست کو چھوڑیں، ہم ان نایاب لوگوں کے بارے میں چند باتیں کرتے ہیں جو تاریخ لکھ گئے ہیں، ہم ان کے احسانات قیامت تک نہیں بھول سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمارے اپنے قائداعظم محمد علی جناحؒ ہیں۔ ان پر شاد عظیم آبادی کا یہ شعر صادق آتا ہے۔ ملکوں ملکوں کیا پوری دنیا میں ڈھونڈیں تو ان جیسی شخصیت آپ کو کہیں نہیں ملے گی۔ اس قدر مشکل حالات اور اتنے طاقتور دشمنوں (اور غدّاروں کی جعلسازیوں) سے نبرد آزما ہو کر آپ نے ہمیں ایک آزاد ملک دیا جہاں ہم اپنی مرضی سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان جیسا دوسرا شخص اب ملنا ناممکن ہے۔
میں قائداعظم کے بعد مرحوم جناب ذوالفقار علی بھٹو پر یہ شعر صادق سمجھتا ہوں۔ آپ سیاست کو چھوڑیں، ان کی ملک سے محبت کی مثال نہیں ملتی۔ ملک کی باگ ڈور اُن کو اس وقت ملی جب نااہل افراد نے اس کو تباہ کر دیا تھا، ملک کی بُری حالت، لوگوں کا مورال بالکل پست ہوچکا تھا۔ آپ نے اندرا گاندھی سے مذاکرات کئے اور سر جھکا کر بات کی اور نہ ہی کشمیر پر اصولی پوزیشن سے پیچھے ہٹے۔ تقریباً 90ہزار قیدیوں کو باعزّت چھڑوا کر پاکستان واپس لائے۔ جب ہندوستان نے 18مئی 1974ء میں ایٹمی دھماکہ کیا تو ہماری قوم کا مورال ڈائون ہو گیا اور مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ اس وقت میں نے انہیں یورپ سے مشورہ دیا کہ کیونکہ اب ہمارا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے، آپ بھی ایٹمی قوّت کے لئے کام کریں۔ انہوں نے مجھے دعوت دی کہ جب میں پاکستان آئوں تو ان سے ملاقات کروں۔ میں جب پاکستان آیا اور ان سے ملاقات کی تو میں نے انہیں بتلایا کہ ایک نئے بے حد مشکل مگر سستے اور قابلِ عمل طریقے سے ایٹم بم بنایا جا سکتا ہے۔ دیکھئے میرے پاس کوئی ایسی دستاویزات نہیں تھیں کہ میں اس میدان میں ماہر ہوں۔ میں نے برلن (جرمنی)، ڈیلفٹ (ہالینڈ) اور لیووین (بلجیم) کی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی تھی اور اپنے شعبوں میں بہت عزّت تھی مگر یہاں پاکستان میں کون جانتا تھا؟ بھٹو صاحب نے ذاتی طور پر مجھ سے درخواست کی اور ان کی پرخلوص، دردمندانہ حب الوطنی پر مبنی اس درخواست کو میں نے قبول کر لیا، میری غیر ملکی (ڈچ) بیوی بھی راضی ہو گئیں اور ہم اعلیٰ نوکری، سہولتیں اور پروفیسر کی پیشکش چھوڑ کر یہاں رُک گئے۔ میرے پاس چند کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ میرا تمام لٹریچر اور کتابیں پیچھے دفتر میں تھیں۔ میں جاکر لانا چاہتا تھا مگر بھٹو صاحب نے ہاتھ پکڑ کر کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ یہ کام کر لو گے۔ بھٹو صاحب، غلام اسحاق خان صاحب، آغا شاہی صاحب، اے جی این قاضی صاحب وہ لوگ تھے کہ جن پر شاد عظیم آبادی کا شعر صادق آتا ہے کہ ملکوں میں مارے مارے پھرو، پھر بھی ایسے لوگ دستیاب نہ ہوں گے کیونکہ یہ نایاب (عنقا) لوگ تھے۔ بھٹو صاحب نے جان دیدی ملک و عوام کی خاطر۔دوسری نایاب شخصیت بے نظیر بھٹو تھیں۔ سیاست کو چھوڑیں، ان کی حب الوطنی کی بات کرتا ہوں۔ اُنہوں نے مجھے بہت عزّت و سہولتیں دیں اور ملک کے دفاع کی خاطر جس چیز کی بھی ضرورت پڑی، وہ مہیا کی۔
ہمیں میزائلوں کی ضرورت تھی۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا انہوں نے بغیر کسی حجت و حیلہ بازی کے، کہا کہ میں جنرل اسلم بیگ صاحب سے مشورہ کر لوں اور وہ اگر اس کی حمایت کریں تو فنڈز جاری کر دوں گی۔ انہوں نے فوراً فنڈز مہیا کر دیئے۔ محترمہ بے نظیر صاحبہ کا یہ اقدام اور اس کے بعد دوسرے دور میں 1500کلومیٹر مار کرنے والے میزائل کی منظوری اور فنڈز کی فراہمی ایک محبِ وطن لیڈر کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کی بے وقت شہادت سے ملک کو بہت نقصان پہنچا۔ ان کے بارے میں بیٹی عابدہ پروین کی شاد عظیم آبادی کی غزل بالکل صحیح ہے۔ وہ چلی گئیں، اب ان کی جگہ کوئی نہ لے سکے گا۔
(نوٹ) پچھلے دنوں پارلیمنٹ میں ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب کی تقریر سُنی۔ آپ جنوبی پنجاب کے قیام پر رائے دے رہے تھے کہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے اسلئے یہ ممکن نہیں ہے۔ فوراً ہی شہباز شریف اور خورشید شاہ صاحب نے پیشکش کر دی کہ وہ اس مقصد میں حکومت کیساتھ ووٹ دینے کو تیار ہیں۔ اس کو کہتے ہیں ، گھر تک پہنچانا۔ نہ ہی وزیر خارجہ، نہ ہی وزیراعظم اور نہ ہی جنوبی صوبہ کے قیام کے علمبردار خسرو پرویز کہیں نظر آئے۔ یہ نئے پاکستان کا معمولی سا امتحان تھا اور اس میں یہ ناکام رہے۔ آپ خیبر پختونخوا میں ہزارہ کا صوبہ بنا دیں، جو عوام کی طویل عرصے سے خواہش ہے۔
چند دن پیشتر کراچی ایئر پورٹ پر صدر ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات ہوئی۔ بہت محبت سے ملے، ہمارے تقریباً تیس پینتیس سال سے تعلقات ہیں۔ ان کے والد بہت اچھے اور ماہر ڈینٹسٹ تھے۔ میری بہن وغیرہ انہی سے علاج کراتے تھے۔ آپ اپنے نواسے نواسیوں کو لے کر آئے اور میرے ساتھ فوٹو بنوا کر کہا کہ یہ ڈاکٹر صاحب محسنِ پاکستان ہیں۔ تعلیم کا ذکر چل نکلا کہ پرانے اور نئے پاکستان میں فرق نظر نہیں آرہا۔ پرانے پاکستان میں ایک خود ساختہ ڈاکٹر پروفیسر کو ایک اعلیٰ یونیورسٹی کا پرپوزل دیا تھا۔ جواب تک نہیں آیا اور نئے پاکستان میں بھی وزیراعظم کو پرپوزل بھیجے دو ماہ سے زیادہ وقت گزر گیا اور جواب تک نہیں آیا۔ وہ بولے کہ نئی یونیورسٹی کے بجائے پرانی یونیورسٹیوں کو ٹھیک کیا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ گدھے کو بادام، پستہ کھلا کر عربی گھوڑا نہیں بنایا جا سکتا اس کے لئے وہی نسخہ کام کرے گا جو میں نے صرف دو سال میں GIKIبنا کر دکھایا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے علاوہ کوئی بھی ایک اعلیٰ یونیورسٹی بنانے کی صلاحیت و اہلیت نہیں رکھتا۔ ایسے کاموں کے لئے بھٹو صاحب اور غلام اسحاق خان جیسے نایاب لوگوں کی 
ضرورت ہے۔
https://jang.com.pk/news/592703-dr-abdul-qadeer-khan-column-31-12-2018

No comments: