Monday, December 31, 2018

جھکی جھکی سی نظریں - اصغر خان کیس


سچائی صرف وہ نہیں ہوتی جو آپ کو پسند آ جائے۔ کبھی کبھی ایسی سچائی بھی
 برداشت کر لینی چاہئے جو آپ کی پسند کے مطابق نہ ہو۔ ناپسندیدہ سچائی کو کچھ عرصہ کے لئے دبایا جا سکتا ہے لیکن سچائی کو ہمیشہ کے لئے نہیں دبایا جا سکتا۔ سچائی کسی عدالتی فیصلے کی بھی محتاج نہیں ہوتی۔ سچائی تو بس سچائی ہوتی ہے اور کبھی کبھی عدالتوں کے سامنے سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ اصغر خان کیس کو بند کر دیا جائے کیونکہ 1990ء میں آئی ایس آئی سے رقوم لینے والے سیاستدانوں نے ایف آئی اے کو کہا ہے کہ انہوں نے کوئی رقوم نہیں لیں اور بینکوں کا پرانا ریکارڈ بھی دستیاب نہیں۔ ایف آئی اے کے کہنے پر سپریم کورٹ اصغر خان کیس کو بند تو کر سکتی ہے لیکن اصغر خان کیس کی سچائی کو ختم نہیں کر سکتی۔ 2012ء میں سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا اور ایف آئی اے سے کہا تھا کہ جن سیاستدانوں پر آئی ایس آئی سے رقوم لینے کا الزام ہے، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ 2012ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اس حکومت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے اصغر خان کیس میں عدالتی حکم پر عملدرآمد کرانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ اُس وقت عمران خان اپوزیشن میں تھے اور وہ بار بار اصغر خان کیس میں عدالتی حکم پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے تھے۔ 2013ء میں نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ اُن کا نام اُس فہرست میں موجود تھا جس میں شامل سیاستدانوں نے 1990ء سے 1993ء کے درمیان آئی ایس آئی سے پیسے لے کر ’’قومی خدمات‘‘ سرانجام دیں۔ اُنہوں نے ایف آئی اے کو بیان ریکارڈ کرا دیا اور اپنے پر لگائے جانے والے الزام کی تردید کر دی لیکن ایف آئی اے اُس ریٹائرڈ فوجی افسر تک نہ پہنچ سکی جس نے 1990ء میں نواز شریف تک رقم پہنچائی تھی حالانکہ جنرل اسد درانی نے اپنے حلفیہ بیان میں نواز شریف سمیت پیپلز پارٹی کے مخالف کئی سیاستدانوں کو رقوم دینے کا اعتراف کیا تھا۔ 2018ء میں عمران خان وزیراعظم بن گئے۔ توقع تھی کہ عمران خان اصغر خان کیس میں عدالتی حکم پر عملدرآمد کرانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے لیکن اُن کی براہ راست نگرانی میں کام کرنے والے ادارے ایف آئی اے نے اصغر خان کیس کو بند کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ اصغر خان کیس سے متعلقہ ریکارڈ محض 25سال پرانا ہے۔ اگر ایف آئی اے کو 25سال پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں اور وہ اس کیس کی تحقیقات کرنے سے قاصر ہے تو پھر نواز شریف کے خلاف ایک 32سال پرانے پاکپتن اراضی کیس کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کیسے بنا دی گئی اور یہ ٹیم ثبوت کہاں سے لے آئے گی؟ اگر یہ ٹیم نواز شریف کے خلاف کہیں سے کوئی ثبوت لے آئی تو مجھ جیسے گستاخ، بدتمیز اور بدمعاش عناصر یہ کہتے نظر آئیں گے کہ اصغر خان کیس میں آپ کو نواز شریف کے خلاف 25سال پرانا ریکارڈ نہیں ملا لیکن پاکپتن اراضی کیس میں 32سال پرانا ریکارڈ مل گیا کیونکہ آپ اصغر خان کیس میں جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کو بچانا چاہتے ہیں۔ پھر آپ کو ہماری باتیں بُری لگیں گی۔ آپ ایک دفعہ پھر ہمیں غدار اور ملک دشمن قرار دے کر سچائی کو دبانے کی کوشش کریں گے لیکن ہر سچائی عدالتی فیصلے کی محتاج نہیں ہوتی۔
جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کو کسی عدالت سے سزا ملے یا نہ ملے لیکن اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران 1996ء اور 2012ء کے درمیان عدالت میں جو دستاویزات اور شہادتیں پیش ہوئیں اُن میں یہ بتایا گیا کہ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی نے سیاست میں مداخلت کر کے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔ سپریم کورٹ نے 2012ء میں اپنے عدالتی فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستانی فوج کے سپاہی کو صرف ملک کی سرحدوں کی نہیں بلکہ آئین کی بھی حفاظت کرنا چاہئے۔ اصغر خان کیس میں عمران خان کی حکومت جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ عمران خان کی حکومت جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمے میں بھی کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ کارروائی ہو گی تو صرف ان سیاستدانوں کے خلاف ہو گی جو عمران خان کے مخالف ہیں۔ ایف آئی اے کو جنرل اسلم بیگ کے حکم پر جنرل اسد درانی سے پیسے لینے والے سیاستدانوں کے خلاف کوئی ریکارڈ نہیں ملا لیکن آصف علی زرداری اور ان کے برخوردار بلاول کے خلاف سب ریکارڈ مل گیا ہے اور اسی لئے ان دونوں کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جعلی بینک اکائونٹس کیس میں آصف علی زرداری اور بلاول کے خلاف جے آئی ٹی کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات ابھی کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے لیکن عمران خان کے ساتھیوں نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کے اشارے دینا شروع کر دیئے ہیں۔ ان اشاروں سے یہ مطلب بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جعلی بینک اکائونٹس کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کو میڈیا میں اچھالنے کا اصل مقصد سندھ میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے توڑنا ہے۔ پیپلز پارٹی نے جے آئی ٹی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے لیکن اگر سندھ بینک قواعد کے خلاف انور مجید کو بھاری قرضے دیتا رہا تو سندھ حکومت کہاں سوئی ہوئی تھی؟ پیپلز پارٹی والوں کی غصیلی تقریروں سے جعلی بینک اکائونٹس کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ کی اہمیت کم نہیں ہو گی۔ آصف زرداری اور بلاول کو جے آئی ٹی میں لگائے گئے الزامات کا دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ جواب دینا ہو گا۔ جس طرح ایف آئی اے کے کہنے سے اصغر خان کیس میں اسلم بیگ اور اسد درانی بے گناہ قرار نہیں پا سکتے، اسی طرح آصف زرداری اور بلاول کے کہنے سے جعلی بینک اکائونٹس کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کو عدالتوں میں ثابت کرنا بہت مشکل ہے اور رپورٹ بنانے والے ایک صاحب کہتے ہیں کہ عدالتوں میں دائر کئے جانے والے ریفرنسوں کا فیصلہ ڈیڑھ دو سال سے پہلے نہ آئے گا لیکن یہ تو طے ہے کہ اومنی گروپ نے جعلی بینک اکائونٹس بنائے اور سندھ بینک نے غلط قرضے بھی دیئے۔ جتنا سچ جہاں موجود ہے اسے جھٹلانا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
آپ بھی اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیں۔ پاکستان میں آئین و قانون سب کے لئے برابر ہوتا تو ایف آئی اے کو اصغر خان کیس میں سیاستدانوں کے خلاف ثبوت مل جاتے۔ یہ ثبوت اس لئے نہیں ملے کہ نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزا ہو چکی۔ مقصد حاصل ہو چکا۔ اب اسلم بیگ اور اسد درانی کو بچانا ہے لہٰذا اصغر خان کیس بند کرنے کی سفارش کر دی گئی۔ آئین و قانون سب کے لئے برابر ہوتا تو مشرف کو بھی سزا ملتی لیکن نہیں ملے گی۔ آصف علی زرداری کے خلاف ثبوت ملیں نہ ملیں، اُنہیں بھی سزا دی جائے گی۔ زرداری اور نواز شریف کے خلاف ثبوت ملنے کے دعوے بڑے فخر سے کئے جاتے ہیں لیکن مشرف، اسلم بیگ اور درانی کی بات آئے تو ہمارے سورمائوں کی نظریں جھکی جھکی سی دکھائی دیتی ہیں اور ان جھکی جھکی نظروں کے پیچھے ایک رائو انوار صاحب مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تو جناب! آج کی سب سے ناپسندیدہ سچائی یہ ہے کہ قانون سب کے لئے برابر نہیں اور یہ سچائی سب کو نظر آ رہی ہے۔

No comments: