Wednesday, December 14, 2016

Video - Pakistan - Khursheed Shah address in parliament




قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نےکہا ہے کہ وزیر اعظم کا پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کوجھوٹ کہنا زیادتی اور افسوس ناک ہے،انہوں نے اسمبلی میں پاناما لیکس پر بات کرنے کی کوشش تو اسپیکر ایاز صادق نے انہیں روکتے ہو ئے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس پر بات نہ کریں۔
خورشید شاہ نے اس پر جواب دیا کہ یہ ایوان عدالت سے زیادہ مقدس ہے ،وزیراعظم کا پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کو سیاسی قراردینا افسوسناک ہے،وزیراعظم نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ سیاسی لوگ پارلیمنٹ میں سیاسی تقریریں کرتے ہیں ،خورشید شاہ نے وزیراعظم کی تقریر کے حصے پڑھ کر سنائے ۔
جھوٹ لعنت ہے، چاہے میں بولوں یا کوئی اور، آج حکمران ایک قطری شہزادے کے خط کے پیچھے چھپتے ہیں، دال میں کالا ہوگا جبھی ڈوگر کی بات کی جارہی ہے، جھوٹ بولنے کے بجائے ایک بار کہیں کہ غلطی ہوگئی، معافی مانگیں لوگ معاف کردیں گے۔
قومی اسمبلی میں پاناما معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پی پی رہنماء اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ ملک کے سربراہ نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا، تحریک انصاف کے الزامات کا کبھی جواب نہیں دیا، ایوان عدلیہ سے زیادہ مقدس ہے، جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کا رتبہ سب سے زیادہ ہے، یہ ایوان بڑی مشکلوں اور قربانیوں کے بعد قائم ہوا، الحمد للہ ہم نے اس ایوان کو بچایا ہے، وزیراعظم کا بیان سیاسی تھا عدالتی نہیں، سیاسی باتوں کو عدلیہ کے ریکارڈ کا حصہ نہیں بننا، سیاست کسی جھوٹ کا نام نہیں ہے، سیاست خدمت اور عبادت ہے۔
وہ بولے کہ سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا، نواز شریف نے پیپلزپارٹی رہنماؤں کو جیل میں ڈالا، پیپلزپارٹی نے جمہوریت کی خاطر نواز شریف کا ساتھ دیا، جمہوری نظام کو کتنی مرتبہ ڈی ریل کیا گیا، یہ بات کوئی آمر کہتا تو ہمیں دکھ نہیں ہوتا، لیڈر آف ہاؤس کو ایسی بات نہیں کرنی چاہئے تھی، دولت کام نہیں آتی، انسان 4 کندھوں کا محتاج ہوتا ہے، قومیں بم سے تباہ نہیں ہوتیں، جھوٹ لعنت ہے، اس سے قومیں تباہ ہوتی ہیں۔
خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ آج کہا جارہا ہے کہ ہمارا چیف جسٹس آنیوالا ہے، معاملات کو متنازع بنانے کی مذمت کرنی چاہئے، پاکستان ہم سب کا ہے، خواجہ صاحب کیوں میرے جسٹس کو متنازع بناتے ہو، اس کا مطلب ہے دال میں کالا ہوگا، وزیراعظم چھوٹی ریاست کے شہزادے کے خط کے پیچھے چھپتے ہیں، جھوٹ بولنے کے بجائے ایک بار کہیں کہ غلطی ہوگئی، معافی مانگیں لوگ معاف کردیں گے۔
پی پی پی رہنماء نے مزید کہا کہ سچائی کو عوام میں مقدس رکھنا ہمارا کام ہے، فیصلہ عوام کو کرنا ہے، ہمیں نہیں، پارلیمنٹ کو ریت کا ڈھیلہ نہ بنائیں، ہم تو جمہوریت کیلئے دشمنیاں بھلا دیتے ہیں، ہمیں جیلوں میں ڈالا گیا مگر آمریت کا ساتھ نہیں دیا۔ نواز شریف میاں شریف کے فرزند ارجمند ہونگے لیکن وزیراعظم نواز شریف اس پارلیمنٹ کی پیداوار هے _ اس ایوان نے انہیں وزیر اعظم بنایا هے وہ وزیراعظم پاکستان اس ایوان کی بابت هیں .
یہ بیس کروڑ عوام کی نمائندہ ایوان هے یہ مقدس ایوان هے تمام اداروں میں سپریم ادارہ هے. وزیراعظم کا سپریم کورٹ میں موقف آیا هے کہ جو پارلیمنٹ میں وزیراعظم کا بیان تها اسے سچ نہ مانا جائے وہ تو سیاسی بیان تها. جناب سپیکر کیا سیاست جهوٹ کا نام هے ؟ کیا پارلیمنٹ جهوٹ کا اڈا سمجها جائے __ یہ تو ڈکٹیٹر کی سوچ هے یہ تو غاصب کی سوچ هے .
پارلیمنٹ پر حملہ پارلیمنٹ کے اندر سے ہوا هے جناب سپیکر. قومیں ایٹم بم سے تباہ نہیں ہوتی _ جاپان پر ایٹم بم مارا گیا وہ پهر سے آباد هے یاد رکهئے قومیں بارود سے نہیں جهوٹ سے تباہ ہوتی هیں ____ ایک وقت تها عرب پاکستان کے پیچهے چلتا تها آج هم ایک عربی کے خط کے پیچهے چهپتے هیں ؟


جناب سپیکر!! وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح کیا هے __ قوم سے جهوٹ بولا هے.
خورشید شاہ کے بیان پر ایوان میں شیم شیم کے نعرے بھی لگائے گئے ایک اہم منظر یہ بهی تها کہ جب شاہ صاحب خطاب کر رہے تهے اور ممبران پی ٹی آئی انکے لئے تالیاں بجاتے نظر آ رہے تھے

No comments: