Wednesday, February 9, 2022

اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ عوام انہیں ووٹ دیں گے تو قومی اسمبلی کو توڑ کر نئے انتخابات کی راہ ہموار کرے لیکن عمران خان ایسا نہیں کرے گا کہ وہ بزدل ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری

 پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملتان میں رانا سجاد حسین کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کو چیلنج دیا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیںکہ عوام انہیں ووٹ دیں گے تو قومی اسمبلی کو توڑ کر نئے انتخابات کی راہ ہموار کرے لیکن عمران خان ایسا نہیں کرے گا کہ وہ بزدل ہے۔ چیئرمین بلاول نے پارٹی کارکنوں کو کہا کہ وہ پارٹی کے پانچ اصول “اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، مساوات ہماری معیشت ہے، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور شہادت ہماری منزل ہے” کا پیغام لے کر ملتان کے ہر گھر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے 27فروری سے کراچی سے اس سلیکٹڈ حکومت کے خلاف مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ مارچ اس کٹھ پتلی کی سلیکٹڈ حکومت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ہم نے اس سلیکٹڈ کو قومی اسمبلی میں پہلے ہی دن سلیکٹڈ کہہ کر قوم کے سامنے ننگا کر دیا تھا۔ بجٹ کے موقع پر بھی ہم نے اس بجٹ کو پی ٹی آئی ایم ایف کا بجٹ کہہ کر اس سلیکٹڈ کو ننگا کر دیا تھا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہے۔ ہم نے اس بجٹ کو عوام دشمن اور ملک دشمن کہا تھا اور ہمارا کہا ہوا سچ ثابت ہوگیا۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ ہمارے دوست چاہتے تھے کہ عمران خان کے لئے ضمنی انتخابات کا میدان کھلا چھوڑ دیں لیکن ہم نے کہا کہ ہم انتخابات لڑیں گے اور پھر دنیا نے دیکھا کراچی سے خیبر تک عمران خان کو تمام ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی۔

 ہمارے دوست اسی طرح چاہتے تھے کہ ہم سینیٹ کی سیٹ کا انتخاب قومی اسمبلی میں نہ لڑیں لیکن ہم نے سابق وزیراعظم جو ملتان ہیں کو نامزد کیا اور سید یوسف رضا گیلانی نے عمران خان کو اس کے حلقہ انتخاب میں ہرا دیا۔ ہمارے چند دوستوں کا خیال ہے کہ حکومت کے خلاف مارچ مارچ کے مہینے میں کیا جائے لیکن ہم نے کہا کہ عوام ابھی تکلیف سے دوچار ہیں اس لئے ہمارا مارچ 27فروردی سے شروع ہوگا۔

 جب ہمارا مارچ شروع ہوگا تو پوری پاکستانی قوم ہمارے ساتھ ہوگی۔ عمران نے آج ہی سے وکٹیں گنوانا شروع کر دی ہیں اور آج اس کا غیرقانونی سینیٹر نااہل ہوگیا ہے۔ چیئرمین بلاول نے اپنی پارٹی کی قانونی ٹیم کی اس کامیابی پر انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ جب ہم اسلام آباد پہنچیں گے تو اس سلیکٹڈ کی مزید وکٹیں گر جائیں گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج عمران خان نے اپنی تقریر میں پیپلزپارٹی کا ذکر کیا۔ عمران ایک بزدل شخص ہے اور وہ انتخابات سے خوفزدہ ہے۔ عمران خان لاہو رمیں ضمنی انتخاب میں بھاگ گیا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی میئر کے انتخاب میں دوڑ لگا دی جہاں پارٹی کی طرف سے فیصل کریم کنڈی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

 چیئرمین بلاول نے الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو بھی سراہا کہ انہوں نے خیبرپختونخواہ کے دوسرے انتخابات ملتوی نہیں کئے۔ عمران خان کے پی میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بری طرح ہار چکا ہے اور دوسرے مرحلے میں بھی ہار اس کا مقدر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران نے تین سالوں سے کرپشن کرپشن کی رٹ لگا رکھی ہے اور آج بھی اس نے یہی باتیں کی ہیں لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس کی کرپٹ حکومت کو پاکستانی تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت کہا ہے۔ 

عمران خان اور اس جیسے لوگ شہید محترمہ بینظیربھٹو اور صدر زرداری کے خلاف ایک بھی الزام ثابت نہیں کر سکے جبکہ عمران خان کا لیڈرجنرل مشرف سزا یافتہ ہے اور قانون کا بھگوڑا ہے۔ عوام جھوٹے عمران خان پر اعتبار نہیں کرتے اور جھوٹا عمران عوام کے سامنے مکمل طور پر ننگا ہوگیا ہے۔


https://www.ppp.org.pk/pr/26234/

 

No comments: