Wednesday, June 9, 2021

ٹرین حادثہ میں پچاس لوگ مر گئے لیکن حکومت ذمہ دار نہیں




سید مجاہد علی

گھوٹکی کے قریب گاڑیوں کے افسوسناک حادثہ میں پچاس سے زائد مسافر جاں


بحق ہو چکے ہیں۔ مزید اموات ممکن ہیں۔ تاہم ملک کے با اختیار وزیر اطلاعات حادثہ پر کسی دکھ کا اظہار کرنے کی بجائے یہ دلیل دے رہے ہیں کہ وزیر ریلوے اعظم سواتی پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔ پھر وہ کیوں استعفیٰ دیں۔ یوں تو جمہوریت احتساب اور جوابدہی کا ہی دوسرا نام ہے لیکن جس جمہوریت پر فواد چوہدری اور ان کے حالیہ قائد محترم عمران خان یقین رکھتے ہیں، اس میں احتساب اور جوابدہی سیاسی مخالفین سے شروع ہو کر انہیں تک ختم ہوجاتی ہے۔

فواد چوہدری نے حادثہ کے نتیجہ میں وزیر ریلوے کے استعفیٰ نہ دینے کا عذر پیش کرتے ہوئے وہی گھسی پٹی دلیل استعمال کی ہے کہ اعظم سواتی تو دسمبر میں وزیر بنے ہیں اور تحریک انصاف اگست 2018 میں برسر اقتدار آئی ہے۔ اس وقت ملک میں جو بھی غلط ہو رہا ہے وہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ اسی لئے ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حادثہ مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر ریلوے سعد رفیق کی ’غلطیوں‘ کی وجہ سے ہوا ہے لہذا موجودہ وزیر ریلوے یا حکومت پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔ اس بیان سے ایک بار پھر یہ واضح ہو گیا ہے کہ عمران خان نے شبلی فراز کو ہٹا کر فواد چوہدری جیسے شخص کو ایک بار پھر کیوں وزیر اطلاعات بنایا تھا۔ حکومت میں نصف سے زائد مدت گزارنے کے بعد بھی کارکردگی میں اپنی تہی دستی چھپانے کے لئے وزیر اعظم کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہر معاملہ میں کوئی عذر تلاش کر کے حکومتی موقف کی حفاظت کرسکیں۔ فواد چوہدری اور شیخ رشید اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔

یہ عام اور مسلمہ جمہوری اصول ہے کہ کسی شعبہ میں کوئی کوتاہی سامنے آنے پر اس کا اعلیٰ ترین فرد اور سیاسی طور سے نگران شخص ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کر دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ متعلقہ وزیر ہی حادثہ کا ذمہ دار ہے یا اس کے اشارے پر ہونے والی تکنیکی غلطی کی وجہ سے حادثہ رونما ہوا جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ محکمہ کے سربراہ کے طور پر ذمہ داری قبول کر کے یہ بات یقینی بنائی جاتی ہے کہ 1 ) حادثہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داروں کا تعین ہوگا تاکہ مستقبل میں کسی ایسے ہی سانحہ سے بچا جا سکے۔ 2 ) اس اصول کو نمایاں کیا جا سکے کہ اگر کسی حادثہ پر اس محکمہ کا نگران وزیر ذمہ داری قبول کر کے اپنا عہدہ چھوڑ سکتا ہے تو کوتاہی کی صورت میں کسی بھی دوسرے اعلیٰ یا درمیانے درجے کے عہدیدار کے ساتھ کوئی رعایت روا نہیں رکھی جائے گی۔ اور جو شخص بھی کسی ایسے حادثہ کا سبب بنا ہوگا جس میں درجنوں معصوم لوگ جاں بحق ہو جائیں، اسے اس غیر ذمہ داری یا غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ 3 ) کوئی بھی برسر اقتدار حکومت اور سیاسی جماعت اس طریقہ سے واضح کرتی ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی معیار کو نصب العین کے طور پر اختیار کرتے ہوئے متعلقہ وزیر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرتی ہے تاکہ عوام کو یقین ہو کہ ان کے حکمران ہوشمند، جمہوری اور انسانی روایات کو ماننے والے اور غلطی پر شرمندگی محسوس کرنے والے ہیں۔

کوئی یہ نہیں کہتا کہ اگر کسی جگہ پر گاڑی کا حادثہ ہو گیا ہے تو ریلوے کا وزیر ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ ریلوے وزیر نہ تو انجن ڈرائیور ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا کام سگنل کی نگرانی کرنا ہے۔ ظاہر ہے جب بھی ٹرینوں کے حادثے ہوتے ہیں تو ان میں عام طور سے سگنل کی کوئی تکنیکی غلطی ہی سامنے آتی ہے۔ لیکن اس بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ریلوے کا وزیر کیوں ذمہ داری قبول کرے، وہ کوئی ٹرین ڈرائیور تو نہیں ہے۔ تاہم فواد چوہدری جیسے سرکاری ترجمان جس انداز میں حکومت کا دفاع کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اس میں یہ بھی بعید نہیں ہے کہ کل کلاں کسی نئے حادثہ کے بعد فواد چوہدری کو یہی دلیل دینے پر مجبور ہونا پڑے کہ وزیر ریلوے تو گاڑی نہیں چلا رہا تھا۔

ایسا بیان یوں بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ آج کل ملک کے وزیر اطلاعات پاکستانی میڈیا کو دنیا کا آزاد ترین اور بے حد خود مختار ادارہ قرار دینے پر زور بیان صرف کر رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس بے پناہ آزادی کو قدرے محدود کرنے کے لئے تحریک انصاف کی حکومت نیا میڈیا قانون لانے اور ایسی میڈیا اتھارٹی بنانے کی تیاری کر رہی ہے جس میں اخبار نویس کو صحافی کہلانے کے لئے بھی حکومت کی اجازت درکار ہوگی۔ یہ اتھارٹی بیک وقت میڈیا کی سہولت کار، سنسر کرنے والا ادارہ اور انصاف فراہم کرنے والا ٹریبونل ہوگا۔ ایسا بااختیار ادارہ وجود میں آنے کے بعد ملکی میڈیا کے کسی بھی شعبہ کو یہ اختیار حاصل نہیں رہے گا کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی خبر یا رائے سامنے لا سکے۔ اسے ہمہ وقت سرکاری ’ریڈ لائنز‘ کا احترام کرنا پڑے گا۔ البتہ یہ ’سہولت‘ ضرور دی جائے گی کہ سارے میڈیا کم از کم پانچ فیصد اور زیادہ سے زیادہ جتنی چاہیں جگہ اور وقت حکومتی پروپیگنڈا پھیلانے پر صرف کریں گے۔ اس مواد پر کسی قسم کا سنسر یا کنٹرول نہیں ہوگا کیوں کہ وہ سرکاری اداروں میں دفتری بابوؤں کے زور قلم اور کاوش فکر کا نتیجہ ہوگا۔ واللہ کیسا آزاد میڈیا ہوگا جو اس بات پر تگ و دو کرے گا کہ کون حکومت کا مقدس پیغام زیادہ مقدار میں عوام تک پہنچاتا ہے۔

گھوٹکی حادثہ کے فوری بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک زور دار تعزیتی بیان جاری کیا ہے اور متاثرین کی دلجوئی اور مدد کے لئے فوری طور سے وزیر ریلوے کو گھوٹکی پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ حادثہ کی غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اللہ خیر صلا۔ مدینہ ریاست کے نقیب اور نئے پاکستان کے بانی اپنی ساری ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوئے۔ حالانکہ کیا وزیر اعظم نہیں جانتے کہ حادثہ کی جگہ پر جتنے اعلیٰ افسر، وزیر مشیر اور دیگر عہدیدار پہنچیں گے، متاثرین کی امداد کا کام اتنا ہی تعطل کا شکار ہوگا۔

اب اس معاملہ میں ہی ریلوے کے مقامی اور ریجنل حکام کو وزیر عالی مقام کے شایان شان استقبال کی پریشانی لاحق ہو جائے گی، وہ وسائل اور صلاحیتیں جو صرف حادثہ میں زخمی ہونے والوں کو سہولت بہم پہنچانے کے لئے صرف ہونی چاہئیں، ان کا بڑا حصہ وزیر ریلوے اور ان کے ساتھ آنے والے اعلیٰ افسران کی خاطر مدارات پر صرف کرنا پڑے گا۔ اسی طرح سول انتظامیہ جاں بحق افراد کی شناخت، تدفین اور زخمیوں کی دیکھ بھال پر پوری توجہ صرف کرنے کی بجائے وزیر اور حکام کی آمد پر سیکورٹی انتظامات میں مصروف ہو جائے گی۔ تاہم وزیر اعظم کی طرف سے ایسے اعلان کی سیاسی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کام عمران خان نے فوری طور سے بخوبی طور پر انجام دیا ہے۔ بس فواد چوہدری یا وہ خود ہی یہ بتا دیں کہ پھر موجودہ وزیر اعظم یا حکومت کو ماضی کے حکمرانوں سے مختلف کیوں کر مان لیا جائے؟

پاکستان میں ریل گاڑیوں کے حادثات کی تاریخ نہایت تکلیف دہ ہے اور ہر دور میں ملک کے ریلوے نظام کو محفوظ اور جدید بنانے سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان ریلویز کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2012 سے 2017 کے دوران گاڑیوں کے 757 حادثے ہوئے یعنی ہر سال ریل گاڑیوں کے چھوٹے بڑے 125 حادثے ہوتے رہے ہیں لیکن کسی نہ کسی عذر کی وجہ سے ریلوے کا انتظام بہتر نہیں ہوسکا اور نہ ہی مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکا ہے۔

موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد 18 اگست 2018 سے 11 دسمبر 2020 تک ریلوے کے وزیر رہے ہیں۔ انہی کے دور میں اکتوبر 2019 میں کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام کی ایک بوگی میں آگ لگنے سے 74 افراد جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ شیخ رشید نے بھی موجودہ وزیر ریلوے اعظم سواتی یا وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی طرح کوئی ذمہ داری قبول کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا بلکہ اس سانحہ کو مسافروں کی غلطی قرار دینے میں دیر نہیں کی تھی۔ وہ دو سال سے زیادہ عرصہ تک ریلوے کے وزیر رہے۔ اس دوران حادثات میں سوا سو کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوئے۔ تاہم وزیر ریلوے یا حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

شاید اس شاندار کارکردگی یا پھر چرب زبانی کی وجہ سے دسمبر 2020 میں وزارت داخلہ کا قلمدان شیخ رشید کے حوالے کر دیا گیا۔ عملی طور سے یہ کابینہ میں اپ گریڈنگ تھی کیوں کہ وزارت داخلہ، خارجہ اور خزانہ کے بعد اہم ترین وزارت سمجھی جاتی ہے۔ اب شیخ رشید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کی اپوزیشن کمزور اور عمران خان مقدر کے سکندر ہیں۔ ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان ہی نہیں بلکہ شیخ رشید اور ان کے ہم نوالہ سارے وزیر ہی مقدر کے سکندر ہیں۔ کیوں کہ انہیں اب بھی جی ایچ کیوں کے گیٹ نمبر 4 تک رسائی حاصل ہے۔ جس کی چوکیداری کا فریضہ شیخ رشید عرصہ دراز سے انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔

https://www.humsub.com.pk/398199/syed-mujahid-ali-1817/

No comments: