Sunday, July 14, 2019

’میڈیا کے خلاف میڈیا ٹرائل بند ہونا چاہیے‘#Pakistan -

مونا خان   

جنگ گروپ سے وابستہ کچھ صحافیوں نے اچانک اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس غیر فعال کیوں کر دیے؟



آئے روز سوشل میڈیا پر صحافیوں کے خلاف ٹرینڈز کیوں بنتے ہیں؟ خصوصا تنقید کرنے والے صحافیوں کے خلاف باضابطہ مہمیں چلائی جاتی ہیں۔

 یہ مہمیں کون چلاتا ہے؟ اور کیا یہ مہمیں صحافیوں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے کی جاتی ہیں؟
گذشتہ روز جنگ گروپ کے کچھ صحافیوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ غیر فعال کیوں کیے؟ ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے مختلف صحافیوں سے رابطہ کیا۔
ہم اس سے نہیں گھبراتے: حامد میر
حامد میر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’میرے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ میں گذشتہ کئی سالوں سے اس کا مقابلہ کر رہا ہوں۔ کسی نے اگر گرفتار کرنا ہے تو کر لے، اثاثے بھی چیک کرنے ہیں تو کر لیں، ہم اس سے نہیں گھبراتے۔‘ 
انہوں نے کہا اس میں قابل تشویش بات یہ ہے کہ خواتین صحافیوں کو دھمکایا جا رہا ہے۔ ’ہماری کمیونٹی کی خواتین ہماری بہن بیٹیاں ہیں اگر آپ کسی کے گھر میں گُھس جائیں گے تو ہم خاموش کیسے رہیں گے؟‘
حامد میر نے کہا ابھی تک سول حکومت کی جانب سے کسی نے رابطہ نہیں کیا اور نہ کوئی وضاحت دی گئی۔
صحافیوں کے اکاؤنٹ غیر فعال ہونے پر حامد میر نے کہا کہ جنگ گروپ کے جن صحافیوں نے اپنا ذاتی اکاؤنٹ ادارے کے کہنے پر غیر فعال کیے اور اب اس پر بات بھی نہیں کر رہے تو پھر اُن کا احتجاج کرنے کا کوئی حق نہیں۔
انہوں نے کہا انسان کو نوکری سے زیادہ عزت پیاری ہونی چاہیے، جو اپنے حق کے لیے نہیں بول سکتے وہ دوسرے کے حق کے لیے کیا بات کریں گے۔
صرف حکومت پر تنقید کرنے والے صحافی نشانے پر: عاصمہ شیرازی
معروف صحافی عاصمہ شیرازی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومت اور کچھ اداروں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اُن کی مرضی کا لکھا اور بولا جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ زندہ معاشرے میں لوگ بات کرتے ہیں۔ 
’جو گرفتاری کی دھمکیاں دے رہے ہیں اُن سے یہ کہنا ہے کہ آئیں اور گرفتاریاں شروع کریں۔‘
انہوں نے کہا جو حکومت کے حق میں بول رہے ہیں اُنھیں کچھ نہیں کہا جا رہا لیکن جو حکومت پر تنقید کر رہے ہیں وہ سوشل میڈیا میں نشانے پر ہیں۔ ’میڈیا کے خلاف میڈیا ٹرائل بند ہونا چاہیے۔ تحقیقات ضرور کریں لیکن ایسا نہ کریں کہ جب کچھ نہ ملے تو گاڑی سے ہیروئن نکال لیں۔‘
احتساب کریں لیکن غداری کا سرٹفیکیٹ دینا درست نہیں: غریدہ فاروقی
سینیئر اینکر غریدہ فاروقی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا پہلے صحافیوں پر جب پابندیاں لگائی جاتی تھی تو طریقہ کار مختلف ہوتا تھا۔ اُنھیں مار پیٹ یا تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا، اُن کے خاندان کو ہراساں کیا جاتا تھا، اُن کو مارا یا اغوا کیا جاتا تھا، لیکن آج کل سوشل میڈیا کے دور میں صحافیوں کے لیے یہ مشکلات کا نیا اضافہ ہے۔
’کبھی سوشل میڈیا پر اُن کے خلاف مہمیں چلوائی جاتی ہیں اور اب میڈیا مالکان کو اپروچ کر کے صحافیوں پر دباؤ ڈلوایا جا رہا ہے۔ جیسے اعزاز سید، عمر چیمہ کے ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروائے گئے۔‘ 
غریدہ فاروقی نے کہا صحافی مقدس گائے نہیں ہیں، سب کا احتساب کریں، اثاثے چیک کریں لیکن احتساب کی آڑ میں کسی کو نشانہ بنانے کا اصول نہیں ہونا چاہیے۔
حکومت میں تنقید برداشت کرنے کا بھی حوصلہ نہیں: ارشد وحید چوہدری
صحافی ارشد وحید چوہدری نے کہا کہ اس سے قبل ملکی سلامتی کے مفاد میں خبر روکی جاتی تھی لیکن موجودہ حکومت میں تنقید برداشت کرنے کا بھی حوصلہ نہیں۔
انہوں نے کہا جو بھی صحافی حکومتی اقدامات/کارکردگی پر تنقید کرتا ہے اُس کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ’میرے خلاف بھی مہم چلائی گئی تھی جب میں نے بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا تھا۔اکثر اوقات جنگ اخبار میں کالم بھی چھپنے سے روک دیا جاتا ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ادارہ اس کالم کو چھاپنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔’
جیو نیوز کے اعزاز سید سے جب پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ غیر فعال کیوں کیا تو انہوں نے کہا ’میں اس معاملے پر خاموش ہی رہوں گا۔ ناگزیر وجوہات کی بنا پر کمنٹ نہیں کر سکتا۔‘ 
انڈپینڈنٹ اردو نے جنگ گروپ کے عمر چیمہ سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے فون نہیں اُٹھایا اسی طرح انڈپینڈنٹ اردو نے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے اُن کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن بات نہیں ہو سکی۔

No comments: