Wednesday, April 18, 2018

بھٹو ،قومی لیڈر

تاریخ دو طرح کی شخصیتوں کا احسان کبھی نہیں 
بھولتی اور انہیں ہمیشہ اپنے اوراق میں زندہ و جاوید رکھتی ہے۔ ان میں ایک شخصیت کسی ملک یا نظام کے بانی(FOUNDER) اور دوسری اپنے وقت کے مصلح (REFORMER) کی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے قائداعظم بانیء پاکستان اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو ایک مصلح کی حیثیت سے پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرتا ہے کیونکہ تاریخ کی ہر ممتاز شخصیت ’’متنازعہ حیثیت کی حامل ‘‘ ہوتی ہے اور حکمراں طبقے اپنے اپنے دور میں لا محدود اختیارات کی بنا پر خود کو ’’بہترین‘‘ اور اپنے مخالفین کو ’’بدترین ‘‘ ثابت کرنے میں کوئی حربہ اور دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ لیکن بسا اوقات تاریخ کا فیصلہ مختلف ہوتا ہے۔ وہ وقت کے حاکموں کو مجرم اور ان کے معتوبین کو ’’ہیرو‘‘قرار دے 
دیتی ہے۔ دراصل یہ فیصلہ عوام کرتے ہیں اور ’’زبانِ خلق کو نقارہء خداسمجھو‘‘کے مصداق عوام کی عدالت ہی تاریخ اور خدا کی عدالت ہوتی ہے۔ جس کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے کیونکہ تاریخ کی عدالت کسی مخصوص وقت کی عدالت کے ’’نظریہ ء ضرورت (DOCTRINE OF NECESSITY ( کی بجائے نظریہء فطرت(DOCTRINE OF NATURE) کے تحت فیصلہ کرتی ہے۔ جس پر فطر ی اصولوں کے سِوا کسی اور طاقت کا اثر نہیں ہوتا۔ اس کے قانون سب کے لیے
برابر اور حقیقی انصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو ہر بڑی شخصیت کی طرح اپنی زندگی میں متنازعہ حیثیت کے حامل رہے ہیں ۔ ان کے چاہنے والے انہیں قائدِ عوام قرار دیتے رہے جبکہ ان کے مخالفین انہیں فاشسٹ ، غدار اور قاتل کے الزامات سے نوازتے رہے ہیں جنرل ضیاء کے گیارہ سالہ دور میں بھٹو کی کردار کشی میں سفاکانہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا گیا ۔ ان کے سیاسی کردار کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی ، یہاں تک کہ ان کے مسلمان ہونے کو بھی مشکوک بنا نے کی کوششیں کی گئیں انہیں ایک ’’قاتل‘‘ کی حیثیت سے 
ایک متنازع فیصلے کے ذریعے تختہء دار پر لٹکادیا گیا۔ انہیں اور ان کے خاندان کو طرح طرح کی اذیّتیں دی گئیں اور ایک طویل عرصے تک بھٹو کی تصویر اور ذکر کو 
بھی ممنوع قرار دے دیا گیا۔ لیکن اس سب یکطرفہ پروپیگنڈہ کے باوجود عوام کی اکثریت نے نہ تو وقت کی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کیا اور نہ ہی حکومتی پروپیگنڈہ پر یقین کیا۔ بلکہ اس کا الٹا اثر ہوا اور ہم نے دیکھا کہ ہماری تاریخ میں پہلی بار عوام نے اپنے بچوں کے نام بھٹو کے نام پر رکھّے اور جنرل ضیاء کی ہوائی حادثے میں ہلاکت کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں بھٹو دشمنوں کی تمام تر ٹیکنیکل دھاندلیوں کے باوجود پیپلز پارٹی کو کامیاب کرایا ۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا بھٹو کا سحر بڑھتا گیا اور اس کے مخالفین تاریخ کی دھند میں مجرموں کی حیثیت سے گم ہوتے گئے۔آج یہ عالم ہے کہ بھٹو جمہوریت اور انسانی حقوق کا سمبل بن چکا ہے اور اسے تختہء دار پر لٹکانے والا جنرل ضیاء خود تاریخ کی سولی پر جھول گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ جنرل ضیاء کے ذریعے سیاسی میدان میں اترنے اور سالوں تک اس کے نام کے گن گانے والے بھی آج جنرل ضیاء کا ذکر کرنا یا اس کا اپنے ساتھ تعلق جوڑنا گوارا نہیں کرتے۔۔ اور نہ ہی وہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف وہ زبان استعمال کرتے ہیں ،جو وہ کبھی ضیاء دوستی اور بھٹو دشمنی میں کیا کرتے تھے۔ کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو علامت ہے جمہوریت اور جمہوری جدوجہد کے لیے جان قربان کرنے والے بہادر انسان کی جس نے عوام کے حقوق کی خاطر تختہء دار کو چوم لیا لیکن ایک غاصب کے سامنے سر نہ جھکایا۔ اور ضیاء الحق علامت ہے ایک غاصب کی ایک ایسے مطلق العنان شخص کی جس نے اپنے ذاتی اقتدار کے لیے عوام کو کوڑے مارے، ان کے حقوق غصب کئے اور پاکستان کے ہر ادارے کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا۔
آج ذوالفقار علی بھٹو صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے ہی نہیں، پاکستان کے ہر جمہوریت پسند اور انسانی حقوق کے داعی کے بھی لیڈر ہیں۔ کیونکہ عوام نے ان کے خلاف غدّاری اور قتل کے الزا مات کو تسلیم نہیں کیا اور تاریخ کی عدالت نے بھی انہیں ان الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ان کے کٹر مخالفین بھی ان کے مقدمہ ء قتل کو انصاف کا قتل قرار دیتے ہیں اور میاں نواز شریف اور عمران خان انہیں عظیم قوم پرست لیڈ ر کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی سربراہ کو نہیں ایک مقبول عوامی لیڈر اور مصلح(ریفارمر)کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اپنی تمام تر بشری خامیوں کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانی قوم کے لیے جو تاریخی کارنامے سرانجام دئیے انہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی ۔ ان میں 73ء کا متفقہ جمہوری آئین ، اسلامی سربراہی کانفرنس ، مسلم ممالک کی اکثریت پر مشتمل تیسری دنیا کے بلاک کی تشکیل ، چین اور اسلامی ممالک کے ساتھ مخصوص تعلقات ، آزاد خارجہ پالیسی، 90ہزار جنگی قیدیوں اور پانچ ہزار مربع میل علاقے کی بھارت سے بازیابی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا شامل ہیں۔مسڑ بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ محنت کش طبقے کو زبان دینا اور ان کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے ، انہوں نے محنت کش طبقے کو تحفظ ِ ملازمت ، حقِ یونین سازی اور دیگر مراعات سے بہرہ ور کیا اور انہیں انسان ہونے کا شعور بخشا ۔ انہوں نے پہلی مرتبہ سیاست کو ڈرائنگ روموں سے نکال کر گلی کوچوں اور کھیت کھلیانوں میں پہنچادیا۔ انہوں نے غریب طبقے کو پاکستان کی سیاست میں اہم مقام دیکر ان کے اندر جو ذہنی انقلاب پیدا کیا تھا، اس نے انہیں تاریخ میں ہمیشہ کے لئےامر کردیا ہے۔ وہ ایک ریفارمر اور پاکستان کی جدید عوامی سیاست کے بانی کی حیثیت سے ہمیشہ قابلِ احترام رہیں گے ۔ جمہوریت کی بنیادیں مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری جدوجہد کی علامت ذوالفقار علی بھٹو کو قومی لیڈر کا درجہ دے دیا جائے کیونکہ جمہوریت کے تسلسل ہی میں ہماری بقا ہے۔
https://jang.com.pk/news/480261

No comments: