Monday, September 21, 2020

Pakistan: Opposition parties protest against role of army in Pakistan's politics

 

The alliance of opposition parties plan a wave of rallies and protests starting next month. Former PM Nawaz Sharif said that the army has gone from a "state within a state" to a "state above the state."


Opposition parties of Pakistan rallied against the ruling party and Prime Minister Imran Khan on Sunday, at a day-long multi-party meeting. The parties called for Khan's resignation and a nationwide protest movement to unseat the PM.

The alliance of the opposition parties, called the Pakistan Democratic Movement (PDM), plans a wave of rallies and protests, starting next month.

Nawaz Sharif's daughter, Maryam Nawaz and Bilawal Bhutto Zardari arrive to attend the PDM meeting (PPI/ZUMA Wire/picture-alliance)

Nawaz Sharif's daughter, Maryam Nawaz and Bilawal Bhutto Zardari arrive to attend the PDM meeting

The opposition parties are primarily protesting against the role of the army in Pakistan's politics and demanding for a new law of accountability.

Former PM calls out army generals

Nawaz Sharif, the former PM of Pakistan and current leader of the Pakistan Muslim League Nawaz (PML-N), addressed the meeting through video, stating that the army has gone from a "state within a state" to a "state above the state."

Former Pakistan PM Nawaz Sharif (picture-alliance/AP Photo/K.M. Chaudary)

Former Pakistan PM Nawaz Sharif

Sharif's audio was reportedly muted on some TV channels when he named army generals for their involvement in politics and embezzlement.

“We want elected leaders to run the affairs of the country, to manage the economy and to decide on the foreign policy,” he said.

The former PM claimed that the military had rigged elections to elect Imran Khan.

"Our struggle is against those who installed Imran Khan and who manipulated elections to bring an incapable man like him into power and thus, destroyed the country," said Sharif, who is in London since November for medical treatment. 

Bilawal Bhutto Zardari, the head of the centre-left Pakistan Peoples Party (PPP), said that the army should not have any role in politics. 

Pakistani Taliban regrouping

The PDM meeting comes at a time when Pakistan is dealing with the possible regrouping of the Pakistani Taliban in some regions.

On Sunday, the military said that two soldiers were killed in a shootout with militants in northwest Pakistan. In early September, the Pakistani Taliban said that they were responsible for killing three soldiers when a bomb exploded on the roadside in northwest Pakistan.

https://www.dw.com/en/pakistan-opposition-parties-protest-against-role-of-army-in-pakistans-politics/a-54997927

پیپلزپارٹی دنیا کی واحد پارٹی ہے جس کے دو چیئرمینوں نے جمہوریت،آئین،پارلیمان کی بالادستی اور غریبوں کی آواز اٹھاتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا ہے، سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی دنیا کی واحد پارٹی ہے جس کے دو چیئرمینوں نے
جمہوریت،آئین،پارلیمان کی بالادستی اور غریبوں کی آواز اٹھاتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا ہے اور بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کے الم کو اٹھا کر جدوجہد کر رہے ہیں۔آل پارٹیز کانفرنس کے رد عمل میں حکومتی وزراء جس طرح کی باتیں کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ نشانہ ٹھیک جگہ پر لگا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیپلزپارٹی اسلام آباد کی خواتین ونگ کی جانب سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ان کے ہمراہ نرگس فیض ملک،نذیر ڈھوکی،سبط الحسن بخاری، نورالہی،صدف مرتضی،ساجد حسین ساجد،گلزاری بیگم ، ، شکیل عباسی، سہیل رومی ، خالد ڈار ، شادق نورا ، دانیال ودیگر شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بڑے لمبے عرصے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا،جس میں تمام اپوزیشن پارٹیوں نے شرکت کی اور آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے اور ایکشن پلان کے رد عمل میں جو حکومتی وزراءباتیں کرر ہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ نشانہ ٹھیک جگہ پر لگا ہے،اگرنشانہ ٹھیک جگہ پر نہ لگتا تو حکومتی وزراءایسی گفتگو نہ کرتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی دنیا کی واحد پارٹی ہے،جس کے دو چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اور بے بنظیر بھٹو نے جمہوریت،آئین،پارلیمان کی بالادستی اور غریبوں کی آواز اٹھاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے،ایسی پارٹی پوری دنیا میں نہیں ملے گی،آج چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کا علم اٹھائے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے موقع پر آل پارٹیز کانفرنس نے ایک اعلامیہ جاری کیا اور پاکستان بار کونسل نے بھی اپنا اعلامیہ جاری کیا،جس کو آل پارٹیز کانفرنس میں بھی تسلیم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ یاد رکھی جائے گی کہ ان کی قیادت میں تمام پارٹیوں نے کہا ہے کہ ہماری جنگ سلیکٹر اور سلیکٹڈ دونوں سے ہے اور پہلی بار ذمہ داری دونوں پر آئی ہے،بلوچستان میں سول حکمرانی نہیں ہے اور ایف سی کو لگام دی جائے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ پر جائیداد کے حوالے سے لگنے والے الزامات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہئے اور سب کو قانون کے تحت ہی احتساب کیا جانا چاہئے۔سبط الحسن بخاری نے کہا کہ ہم اپنے چیئرمین کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،پیپلزپارٹی کے چیئرمین نوجوان لیڈر ہیں،جو جمہوریت کے لئے کام کر رہے ہیں۔نذیر ڈھوکی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کامیاب رہی ہے اور برساتی مینڈک باہر نکلنا شروع ہوگئے ہیں،صدف مرتضی نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پاکستان کا مستقبل ہیں اوروہ اپنے نانا اور والدہ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں،ہم ان کو سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا،جس میں اسلام آباد سٹی کے عہدیدار و ورکرز شامل تھے


https://www.ppp.org.pk/pr/23804/ 

Sunday, September 20, 2020

Video - #JoeBiden #Joe2020 #BidenForPresident Joe Biden Speech on The Supreme Court & Justice Ruth Bader Ginsburg

Video Report - WHO warns of 'serious situation' in Europe as COVID cases spiral

Video Report - #Coronavirus #Covid19 #CovidUSA America first: US leads in coronavirus infections and deaths

Video Report - 31 states see an increase in coronavirus cases

Video - Bill Clinton: 'Superficially hypocritical' for Republicans to fill Supreme Court vacancy

Video - #HappyBirthdayBBZ - AYA AYA BILAWAL...

Video - #HappyBirthdayBBZ - Ab Waqt Ki Zaban Hai BILAWAL

Video - #APC2020 #APCbyPPP #UnitedForDemocracy - Nawaz Sharif's Speech at All Parties Conference|Is he back in politics?

Video - #APC2020 #APCbyPPP #UnitedForDemocracy - Nawaz Sharif Speech At All Parties Conference | APC 2020

Video - #APC2020 #APCbyPPP #UnitedForDemocracy - Bilawal Bhutto Speech At All Parties Conference | APC 2020

آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے فرحت اللہ بابر نے بہت کچھ کہہ دیا - Video - #APC2020 #UnitedForDemocracy

Video - #APC2020 #UnitedForDemocracy - Opening remarks of President Asif Ali Zardari at the PPP Hosted APC in Islamabad.

Video - #APC2020 #UnitedForDemocracy Opening remarks of Chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari at the PPP Hosted APC in Islamabad.

اس حکومت کو نکال کر جمہوریت بحال کریں گے: زرداری #UnitedForDemocracy

اپوزیشن کی اے پی سی سے ابتدائی خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی


زرداری کا کہنا ہے کہ اس حکومت کو نکال کر جمہوریت بحال کر کے رہیں گے، بہروپیوں سے پاکستان بچانا ہے، ہم جیتیں گے، جیتیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی بونے سلیکٹڈ پرائم منسٹر کی سوچ ہے کہ تہتر کا آئین بنانے والوں سے وہ زیادہ ہوشیار ہیں، اس اے پی سی میں ایسا لائحہ عمل دیں کہ جمہوریت مضبوط کر سکیں۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ اے پی سی کے شرکاء کو خوش آمدید کہتا ہوں،میری نظر میں اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے یہی ہماری کامیابی ہے۔


انہوں نے کہا کہ حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، یہ ان میں کامیاب نہیں ہو گی، لوگ ہمیں سن رہے ہیں، چاہے کتنی ہی پابندیاں لگائی جائیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ خوشی ہے کہ ہماری بیٹی مریم نواز بھی یہاں ہیں، مریم قوم کی بیٹی ہیں، انہوں نے بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم آئین کے گرد دیوار ہے جس سے کوئی آئین کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، اے پی سی کی کامیابی کا سہرا آپ سب کے سر ہے، ہم نے دیکھا انہوں نے کیا تکلیف برداشت کی، ہم سمجھ سکتے ہیں۔

https://jang.com.pk/news/822571 

نواز شریف اور آصف زرداری کا خطاب: ’ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں‘ #UnitedForDemocracy


دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں کی


آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے جس سے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی خطاب کیا ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے جس سے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی خطاب کیا ہے۔

اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والی اس آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔

کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم)، جمعیت اہلحدیث اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شریک ہیں۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا ہے۔

اپنے خطاب میں آصف علی زرداری نے سب سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بلاول بھٹو کی دعوت پر اس کانفرنس میں شرکت کی۔

نواز شریف کا خطاب

نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہماری جد و جہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے اور ان کے خلاف ہے جنہوں نے اس نااہل بندے کو یہاں بیٹھایا ہے۔‘

’ہمارا مقابلہ ان کے خلاف ہے جو الیکشن چوری کر کے ان ناہلوں کو حکومت میں لائے۔ اب تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔‘

اے پی سی کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’اس کانفرنس میں جو بھی حکمت عملی بنائی جائے گی مسلم لیگ ن اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔‘

نواز شریف نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب کے آغاز میں سب سے پہلے آصف زرداری سمیت تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے دو لخت ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے بنائے گئے حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا وقت بھی آگیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں وطن سے دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا ہے اور عوام کن مشکلات کا شکار ہیں۔‘

 ’اس کانفرنس کا انعقاد بہت اہم موقع پر کیا گیا ہے، کیونکہ پاکستان کی خوشحالی اور صحیح جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بے باک فیصلے کریں۔‘

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا ہے، کبھی کوئی نمائندہ حکومت بن بھی جائے تو اسے ہر طرح کی سازش کے ذریعے سے پہلے بےاثر اور پھر فارغ کر دیا جاتا ہے۔‘

’پروا بھی نہیں کی جاتی کہ اس سے ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوگا، اقوام عالم میں جگ ہنسائی ہوئی اور عوام کا ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔‘

تحریک انصاف حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ملک کی معیشت ’زبو حالی‘ کا شکار ہے اور عوام کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’چند سال قبل بلوچستان حکومت کو گرایا گیا اور اس میں اس وقت کے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا نام بھی لیا جاتا ہے۔‘

’عاصم باجوہ کی دولت کی تفصیلات حال ہی میں سامنے آئی ہیں، جنہیں چھپانے کے لیے ایس ای سی پی نے اپنے ریکارڈز میں تبدیلیاں کیں۔ نہ نیب نے نوٹس لیا، نہ کوئی جے آئی ٹی بنی اور نہ کسی عدالت میں کارروائی ہوئی۔‘

میاں نواز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہدار کے حوالے سے بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’سی پیک کے ساتھ بھی بی آر ٹی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ کبھی بسوں میں آگ لگ جاتی ہے تو کبھی بارشیں سب پول کھول دیتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم معیشت کے علاوہ پاکستان کی مسلح افواج کو بھی مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، ہم نے ماضی میں یہ ثابت کیا ہے اور مستقبل میں بھی کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں بچے بچے کی زبان پر ہے کہ 73 سال کی تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔‘

نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’اکتوبر 2016 میں قومی سلامتی کے امور پر بحث کے دوران توجہ دلائی گئی کہ دوستوں سمیت دنیا کو ہم سے شکایت ہے ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہیں کہ دنیا ہم پر انگلی نہ اٹھائے تو اسے ڈان لیکس کا نام دیا اور ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جے آئی ٹی بنی اور مجھے غدار اور ملک دشمن بنا دیا گیا۔‘

نواز شریف کے اپوزیشن کی جماعتوں سے خطاب سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری نے اے پی سی سے ابتدائی خطاب کیا تھا۔

آصف زرداری کا خطاب

آصف زرداری نے کہا کہ ’اس تقریب کے بعد پہلا بندہ میں ہی جیل میں ہوں گا۔ مولانا صاحب آپ ضرور ملنے آیے گا۔‘

’یہ لوگ اوپر سے آ کر ہم پر قابض ہو گئے ہیں۔ ہم انھیں حکومت سے نکال کر جمہوریت بحال کر کے رہیں گے۔ ہم نے ان سے پاکستان کو بچانا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میری نظر میں یہ کانفرنس بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، مولانا نے اگر مجھے جیلوں میں نہ بھیجا ہوتا تو شاید میں پہلے آجاتا، مولانا کا کام ہی یہی ہے کہ کسی کو آسرا دے کر کہنا کہ چل میں آرہا۔‘

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے وہی آپ کی کامیابی ہے، یہ کیا ہے کہ نواز شریف کو براہ راست نہیں دکھا سکتے لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو دکھا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب سے ہم سیاست میں ہیں ہم نے کبھی اتنی پابندیاں نہیں دیکھیں، ایک چینل کے سی ای او کو جیل میں ڈالا ہوا جبکہ ایک چینل کو لاہور سے بند کیا ہوا ہے، یہ سب حکومت کی کمزوریاں ہیں، آج کل کی میڈیا کو بند کرنا یا رکھنا تقریباً نامکمل ہے کیونکہ آج کل ہر کوئی انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔‘

سابق صدر نے کہا کہ ’جمہوریت پر یقین رکھنے والے سب ناکام ہیں، ہمیں پیمرا کی ضرورت نہیں ہے، لوگوں کو پتہ ہے کہ وہ ہمیں سن رہے ہیں اور سنتے رہیں گے۔‘

آصف زرداری نے اپنے خطاب کے دوران مریم نواز شریف کو قوم کی بیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں (مریم نواز) نے کتنی تکلیف سہی ہوگی کیونکہ میری بہن اور بیوی نے بھی یہ سب کچھ دیکھا تھا۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے مقصد کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘

https://www.independenturdu.com/node/47826


Saturday, September 19, 2020

#NayaDaur #Malala #Pakistan Why Do Most Pakistanis Hate Malala?

Video - #PPP leaders address a press conference at Zardari House, Islamabad.

#NayaDaur #Sectarianism #Pakistan The Rising Sectarianism And Why It Must Be Stopped

پارلیمان میں ہم سے زبردستی بل پاس کروائے گئے: بلاول بھٹو زرداری

مونا خان نامہ نگار @mona_qau 


 جمعرات کو پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تمام چھوٹی بڑی

سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی دارالحکومت اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمان میں ان سے ’زبردستی‘ بل پاس کرائے گئے۔ جمعرات کو پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی نے ووٹ دوبارہ گننے کا مطالبہ نہیں مانا۔‘ انہوں نے کہ کہا کہ ’اگر ہماری آواز نہیں سنی جائے گی تو ہمیں بھی سوچنا پڑے گا کہ کب تک پارلیمان کو ربڑ سٹیمپ پارلیمان کے طور پر دیکھیں۔‘

 بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم سے 19ویں ترمیم زبردستی پاس کرائی گئی۔ ایک ادارے نے ہمیں دھمکی دی کہ ترمیم پاس نہیں کریں گے تو 1973 کے آئین کو اڑا کر رکھ دیں گے۔ سہیل وڑائچ نے درست ہی کہا کہ یہ کمپنی نہیں چلےگی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ سول لبرٹی کے حوالے سے ہم سب کو ایک ہی بیانیہ دینا چاہیے کہ ہم سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ ’ریاست مدینہ میں آپ ایک کتاب نہیں چھاپ سکتے، ایک ٹویٹ نہیں کرسکتے پارلیمان کے ممبران کے انٹرویوز نہیں کر سکتے۔ ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں اب ہم حساب چاہتے ہیں۔‘ دوسری جانب اسی اے پی سی میں موجود پشتون تخفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے کہا کہ ’ملک میں ایک ادارہ یہ عہد کرتا ہے کہ وہ سیاست نہیں کرے گا سب سے زیادہ سیاست وہی کرتا ہے۔‘ 

 محسن داوڑ نے عدلیہ پر بھی اعتراض کیا کہ ’عدلیہ کبھی ڈیم فنڈ کے نام پر اور کبھی ازخود نوٹس لے کر عوامی معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔‘

انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج جسٹس وقار سیٹھ کی حمایت میں کہا کہ ’ان کی سینیارٹی کونظر انداز کر کے لاہور سے جج لا کر لگا دیا گیا۔‘

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما شہباز شریف نے بھی عدلیہ کے حوالے سے ہی بات کرتے ہوئے کہا کہ’ارشد ملک جیسوں نے عدلیہ کو بدنام کیا ہے اور اس سے عدلیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے لاپتہ افراد کے معاملے پر بات کی اور کہا کہ ’پولیس کے علاوہ کسی اور ادارے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو غائب کرے۔‘

پاکستان بار کونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ اجلاس کے شرکا نے ’فوج کا سیاست کے بڑھتے ہوئے عمل دخل پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ فوج ملک کی سیاست میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔‘

اس کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کی ’ججز کی تقرری اور احتساب کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔


اے پی سی کے بعد متفقہ لائحہ عمل سامنے آئے گا، بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردار ی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کل ہماری اے پی سی میں آئیں گے، اے پی سی کے بعد متحدہ اپوزیشن کی حکمت عملی کل سامنے آ جائے گی۔

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

ملاقات میں کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بہت اچھا اور تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، مولانا فضل الرحمان کل ہماری اے پی سی میں آئیں گے۔

پیپلز پارٹی کے وفد میں یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف شامل تھے، جبکہ رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی، سینیٹر مولانا عطا الرحمان، ڈاکڑ عتیق الرحمان اور شاہ اویس نورانی , سینیٹر عبدالکریم بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ملاقات کے دوران دونوں وفود میں کل کی اے پی سی کے ایجنڈے اور اعلامیہ پر غور کیا گیا اور اے پی سی سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آصف زرداری کا بھی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ

نواز شریف کے بعد پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے بھی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے آصف زرداری کی شرکت کی تصدیق کردی۔

آصف زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی میں شریک ہوں گے، نواز شریف بھی گذشتہ روز بلاول کی دعوت پر اے پی سی میں ویڈيو لنک کے ذریعے شرکت پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔

حکومت مخالف اپوزيشن اتحاد کی آل پارٹیز کانفرنس کل پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہوگی

https://jang.com.pk/news/822292 

Friday, September 18, 2020

US Supreme Court Justice Ruth Bader Ginsburg dies at 87

The champion of liberal causes has died as a result of pancreatic cancer, the US Supreme Court said. "My most fervent wish is that I will not be replaced until a new president is installed," she said days before dying.

Veteran Supreme Court Justice Ruth Bader Ginsburg —a champion of progressive causes — died of pancreas cancer on Friday at the age of 87. She was the second woman to be appointed to the court.

"Our nation has lost a jurist of historic stature. We at the Supreme Court have lost a cherished colleague. Today we mourn, but with confidence that future generations will remember Ruth Bader Ginsburg as we knew her — a tireless and resolute champion of justice," said Chief Justice John Roberts Jr.

In July, Ginsburg announced she was undergoing chemotherapy treatment. She refused to step down during the treatment, the last among her several fights with cancer. 

Ginsberg had hoped that she would not succumb to her troubled health until US President Donald Trump would be out of office.

"My most fervent wish is that I will not be replaced until a new president is installed," she told her granddaughter Clara Spera days before passing away.

'Great loss to the nation'

For many in the US and elsewhere, she was a beacon for progressive takes on women's and minority rights.

"The passing of the great Justice Ruth Bader Ginsburg is a great loss to the nation," said civil rights activist Reverend Al Sharpton. "It is a tremendous loss to civil rights for all Americans. RIP RBG."

US media, citing undisclosed sources, suggested that Trump could already be working toward filling the vacant Supreme Court position. The process would be a reversal for Republicans, who lobbied against US President Barack Obama filling a vacant seat before the 2016 presidential election.

"The American people should have a voice in the selection of their next Supreme Court Justice. Therefore, this vacancy should not be filed until we have a new president," said Senate Democratic leader Chuck Schumer, quoting his Republican counterpart Mitch McConnell verbatim in the wake of Justice Antonin Scalia's passing in 2016.

Video Report - #Coronavirus #Covid19 #Tourism Coronavirus: How big is the damage to the tourism industry?

Video Report - Fierce backlash to Trump’s ‘Patriotic Education’ plan

Video Report - #US #USElection2020 US elections 2020: Ballot drop boxes installed across states

Video - Joe Biden speaks in Minnesota

#KhabarSayAagay #PMLN #NayaDaur Constitution, Free Speech, Democracy & How They're Violated

قبائلی لڑکیوں کی تعلیم، یہاں بھی جعلی استانیاں؟


رضیہ محسود 

تعلیم جو کسی ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے  قبائلی علاقے میں اس جدید دور کے ہوتے ہوئے بھی لوگ اس نعمت سے محروم ہیں خاص طور پر لڑکیاں۔

تعلیم جو کسی ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے  قبائلی علاقے میں اس جدید دور کے ہوتے ہوئے بھی لوگ اس نعمت سے محروم ہیں۔

لڑکیوں کے سکولوں میں حاضری اور خواتین اساتذہ کی صورت حال کیا ہے، اس پر گفتگو سے پہلے یہ سچا واقعہ پڑھیے۔

مجھے ایک  مانیٹرنگ سٹاف (سکول کا نظام چیک کرنے کے لیے مقرر چھاپہ مار سٹاف) نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'ایک دفعہ ایک سکول میں وزٹ ہوا وہاں پر جب دیکھا تو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بچیاں سکول میں موجود تھیں اور بتایا جا رہا تھا کہ استانیاں بھی آئی ہوئی ہیں اور کلاسوں میں پڑھا رہی ہیں۔ '

'وہ بچیاں کافی خوش نظر آ رہی تھیں جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم بڑی ہو کر ڈاکٹر بنیں گی اور ایک لڑکی نے میری طرف اشارہ کیا کہ میں بڑی ہوکر آپ کی طرح ٹیچر بنوں گی اور آپ کی طرح سکولوں میں جا کر بچیوں کی خبر لوں گی ۔'

اس نے بتایا کہ 'مجھے کافی خوشی ہوئی کہ چلو اچھا ہے کہ یہاں کی یہ غریب لڑکیاں بھی پڑھ لکھ جائیں گی تو ملک و قوم کا نام روشن کریں گی، مگر میری خوشی اس وقت دکھ میں بدل گئی جب میرا سامنا ان کی وہاں پر موجود استانیوں سے ہوگیا۔ '

'وہاں پر جو استانیاں ڈیوٹیوں پر موجود تھیں وہ اصلی استانیاں نہیں تھیں بلکہ ان استانیوں کی جگہ پر پانچ چھ ہزار روپے کے عوض ڈیوٹیاں کرنے والی وہاں کی غریب مقامی پرائمری پاس بچیاں تھیں۔'

'جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نام بتائیں تو انہوں نے اپنے نام نہیں بتائے بلکہ جن استانیوں کی جگہ وہ ڈیوٹیاں دے رہی تھی ان کے نام بتائے۔ جب میں نے ان میں سے ایک کی تعلیم کے متعلق پوچھا تو جواب ملا کہ میں نے بی اے کیا ہوا ہے حالانکہ وہ لڑکی تقریباً 13 سال کی تھی۔ '

'مجھے تو اسے کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ اصلی استانی نہیں ہے مگر بغیر ثبوت کے میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔'

'مجھے حیرت سے ہنسی آ رہی تھی کہ ان کی عمریں دیکھو، ان کی معصومیت دیکھو اور یہ دیکھو کہ ان کو جس بات پر پختہ کیا ہے کہ کسی بھی حال میں خود کوظاہر نہ کرنا، یہ معصوم بچیاں بھی وہی کر رہی تھیں اور میرے سامنے بڑی خود اعتمادی سے کھڑی تھیں۔'

'اس طرح ایک اور بچی جو استانی بنی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں انگریزی کی کتاب تھی، اس کو میں نے بلا کر کہا کہ جی آپ کا نام؟ تو اس نے بھی وہی کہا کہ اپنا اصل نام  ظاہر نہ کیا اور جس کی جگہ پیسوں پر لگی تھی اس کا نام ہی بتایا۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے تو اس نے بتایا کہ میں نے ایف اے کیا ہوا ہے، مگر اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ '

'وہ تھوڑی گھبراگئی جب میں نے اس سے چند سوالات کرنا شروع کیے اور کہا کہ اچھا، بہت اچھی بات ہے مگر اتنی کم عمر میں اتنی تعلیم آپ نے کیسے حاصل کی ؟ تو وہ گھبرا گئی اور کہا کہ کلاس کا ٹائم ہے، بچیوں کو پڑھانا ہے۔ مگر اس کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس سے اس کتاب کے متعلق پوچھا جائے۔'

'میں نے اس سے وہ کتاب مانگی اور وہاں پر موجود بچیوں سے پوچھا کہ یہ استانی کیسی ہیں؟ سب نے کہا کہ بہت اچھی ہیں اور بہت اچھا پڑھاتی ہیں۔  وہ بچیاں کیا سمجھتی تھی اچھے برے کو، وہ یہی سمجھ رہی تھیں کہ اچھی استانیاں ہیں۔'

'میں نے اس استانی سے کہا کہ اچھا میرے سامنے ان بچیوں کو پڑھاؤ۔ بچیاں کافی خوش ہیں آپ سے اور میں نے اس استانی کی حوصلہ افزائی کی، مگر اس سے خود کچھ بھی نہیں پڑھا جارہا تھا۔ '

'میں سمجھ گئی کہ اس کو کچھ بھی نہیں آتا میں نے اس سے اسی کتاب میں موجود چند آسان سے سوال پوچھے جو اس کو نہیں آرہے تھے۔ حیرت تو بہت ہوئی کہ ایک تو فیک ہے اور دوسرا کچھ آتا بھی نہیں، پھر میں نے اسی کتاب کا پہلا صفحہ کھولا اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس کو کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔ '

'پھر میں نے لہجے میں کچھ سختی کی اور کہا کہ آپ کو خود کچھ نہیں آتا آپ بچیوں کو کیا سکھارہی ہیں؟  میں نے اس سے اس کے سکول اور کالج کے بارے میں سوالات پوچھنے شروع کیے جس پر اس نے مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔'

'اس نے کہا کہ میں کسی اور کی جگہ پر ڈیوٹی کر رہی ہوں اور مجھے چھ ہزار ملتے ہیں اور میں تیسری جماعت تک پڑھی ہوں۔ اس طرح وہ دوسری اور تیسری سب استانیاں فیک نکلیں جن کی تعلیم پرائمری جماعت سے آگے نہیں تھی ۔'

'کافی دکھ ہورہا تھا  اور وہاں سکول کی نگرانی کرنے والا  ملک  (مشر- مقامی عمائدین کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) جو اس سکول کی نگرانی کر رہا تھا اس کا چہرہ اڑا ہوا تھا۔ وہ میری منت سماجت کرنے لگا کہ یہاں ڈیوٹیوں پر جتنی بھی استانیاں ہیں سب کی حاضری لکھ دوں۔'

'وہاں پر ایک طرف سکول میں بچیاں تھی جہنوں نے اتنے بڑے بڑے ارمان دل میں سجائے ہوئے تھے، جو اپنے علاقے کے لیے ڈاکٹر  ،ٹیچرز یا پتہ نہیں کیا کیا بننا چاہتی تھیں اور دوسری طرف یہاں کی صورتحال دیکھ کر مجھے افسوس ہورہا تھا کہ ہم ان بچیوں کے مستقبل کے ساتھ کیا  کر رہے ہیں؟ آیا ہم آخرت میں اس کا جواب نہیں دیں گے؟ آیا ہم سے اس فرض کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا ؟ کیا اللّہ کے دربار میں بھی ہم اس طرح دھوکہ دے کر نکل جائیں گے؟ '

اس واقعے سے تمام معاملے کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

یہاں سکولوں میں اساتذہ، پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ صحت کی بات کریں تو ہسپتالوں میں سٹاف نہیں، نہ کاروبار کے کوئی مواقع ہیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی توجہ اس جانب ہے۔

سکول ہر ضلع ہر گاؤں میں موجود تو ہیں مگر صرف مہمان خانے بنے ہوئے ہیں جن کے خلاف اگر آواز اٹھائی جائے تو کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔

یہاں عورتوں کے نام پر سکول تو منظور کیے جاتے ہیں، عورتوں کے نام پر تنخواہیں بھی لی جاتی ہیں، مگر اسی عورت کو اس کے بنیادی حق تعلیم کی روشنی سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ جنوبی وزیرستان کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے میں جانا ہوا۔ ایسا علاقہ جس میں اگر دیکھا جائے تو وہاں کے لوگوں کے پاس، جن میں عورتیں بھی شامل ہیں، ان کے شناختی کارڈ تک نہیں بنے  تھے۔

وہاں پر مجھے لڑکیوں کا سکول نظر آیا اور میں نے وہاں کے مقامی لوگوں سے بچیوں کی تعلیم کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نہیں بچیاں یہاں تعلیم کیسے حاصل کریں جب کہ کوئی سکول ہی نہیں ہے؟

تو میں نےاس سکول کا حوالہ دیا کہ یہاں پر فلاں لڑکیوں کا سکول موجود ہے تو پڑھاتے کیو ں نہیں ہو؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو فلاں ملک (مشر ، جو اسی علاقے کا مشر تھا) کا ہے اور وہ سکول میں کسی کو جانے نہیں دیتا نہ وہاں پر سٹاف آتا ہے، اور نہ ہی وہاں پر کوئی پڑھنے جا سکتا ہے۔

حیرت ہوئی کہ جب سکول موجود ہے اور پڑھنے نہیں دیا جارہا تو اس سکول کی منظوری کی کیا ضرورت؟

جب اس ملک  (مشر) سے  ہمارے ٹیم کے ایک بندے کی بات ہوئی تو اس نے کہا کہ انشااللہ یہ سکول اب پرائمری سکول سے مڈل بن جائے گا اور بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ جیسے اس نے سکول کی اپ گریڈیشن کرکے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہو۔

مگر جب اس سے سکول کے نان فنکشنل ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور غصے کے انداز میں کہا کہ  لڑکیوں کو اسلام میں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں،عورت گھر کی ملکہ ہے وہ گھر میں ہی اچھی لگتی ہے، لڑکیاں پڑھ کر کیا کر لیں گی؟  اور میں لڑکیوں کی  تعلیم کے سخت خلاف ہوں،  اور آگے مزید بات کرنے سے انکار کردیا ۔

 مجھے اس بات پر  حیرت ہو رہی تھی کہ جب یہ بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہے تو سکول کس لیے منظور کروایا ہے؟ جب یہ بچیوں کے تعلیم کے خلاف ہے تو اس سکول کی اپ گریڈیشن پر اتنا خوش کیوں ہے جب یہ بچیوں کے تعلیم کے خلاف ہے تو بچیوں کے نام پر ہی  سکول کیوں ؟  

کیا صرف نوکریوں کے حصول کے لیے؟ کیا صرف عورتوں کے نام پر  پیسہ لینا حلال ہے جب کہ اس کو اس کا بنیادی حق دینا حرام ؟ کیا  اسلام یہی کہتا ہے ؟ کیا ہم اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقفیت رکھتے ہیں؟

کیا اسلام اس طریقے سے پیسہ کمانے کو جائز قرار دیتا ہے جب کہ اسلام نے عورتوں کو جو تعلیم کا حق دیا ہے اس کو چھین کے ہم اسلام کے  کیسے دعویدار بن رہے ہیں  ؟ وزیرستان میں سکولوں میں اکثر ایسی اساتذہ بھرتی کی گئی ہیں جنہوں نے سکول کا نام و نشان تک نہیں دیکھا اور وہ پینشن بھی لے رہی ہیں اور اب بھی ایسی اساتذہ موجود ہیں جہنوں نے نہ خود تعلیم حاصل کی ہے اور نہ سکول کو دیکھا ہے۔  

نہ وہ ڈیوٹیاں کرتی ہیں اور ڈیوٹیاں کریں گی بھی تو کیسے جب انہوں نے خود تعلیم حاصل نہ کی ہو تو وہ دوسروں کو کیا علم کی روشنی دے پائیں گی؟

اکثر پرائمری پاس مقامی لڑکیوں کو پانچ ہزار یا چھ ہزار روپوں کا لالچ دے کر ان سے   ڈیوٹیاں کروائی جاتی ہیں جو کہ سکولوں میں صرف حاضری اور کسی مانیٹرنگ کے وزٹ کے دوران موجود رہنے تک ہوتی ہیں، باقی سکولوں میں بچوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی سنجیدگی نہیں۔

یہاں تک کہ جب ان اضلاع میں مانیٹرنگ کا سسٹم فعال کر دیا گیا اور سٹاف ہائر کیا گیا تو لوگوں میں خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اب سکول فنکشنل ہو جائیں گے اور ہمارے بچے اور بچیاں صحیح طریقے سے تعلیم حاصل کر پائیں گے مگر یہ خواب بھی ایک خواب ہی رہا۔

ایک مہینے مانیٹرنگ والوں کی ڈیوٹیوں کے بعد ان کا کوئی صحیح رزلٹ نہ آیا۔ یہاں تک کہ اکثر مانیٹرنگ میں بھی ایسے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کے کہیں نہ کہیں  سے ایجوکیشن والوں کے ساتھ لنک ہے اور وہ بھی آنکھیں بند کر کے آگے رپورٹ اوکے کروا دیتے ہیں۔

اگر کچھ لوگ اپنی ڈیوٹیوں کو صحیح طریقے سے سر انجام دینا بھی چاہتے ہیں تو ان کو کافی تنگ کیا جاتا ہے اور مجبوراً وہ بھی اپنی نوکری بچانے کے لیے غیر حاضر اساتذہ کو حاضر اساتذہ میں ہی ڈال لیتے ہیں ۔

اس اقدام سے علاقے کے لوگوں میں بے چینی کا عالم ہے ۔

اکثر  ضلعی انتظامیہ کے اہلکار یا  دوسرے مانیٹرنگ والے  مرد حضرات  جو اس سے پہلے ان سکولوں کا وزٹ کرتے تھے،  ان کے سامنے برقعے میں ان بچیوں کو پیش کر کے فرض پورا کیا جاتا تھا کہ یہی استانیاں ہیں اور پھر ان کو کاریگری کی داد دی جاتی جب کہ حقیقت کچھ اور ہوا کرتی۔

وزیرستان میں بچیوں کے سکول دراصل فنکشنل ہی نہیں ہیں۔ جو ایک یا دو سکول جن کے فنکشنل ہونے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے وہ بھی ایسے فنکشنل ہوتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔وزٹ بھی ہوجائے اور نوکری بھی سلامت رہے۔

حاضری برقرار رہتی ہے اور اصلی اساتذہ ٹانک ،ڈیرہ اسماعیل خان،پشاور، کراچی، مانسہرہ اور دوسرے علاقوں میں گھر بیٹھ کر مزے سے تنخواہیں لے رہی ہوتی ہیں۔ نہ کوئی شکایت اور نہ کوئی ڈر۔

یہی صورتحال مرد حضرات کی بھی ہے۔ اس طرح سے ان کو بڑے بڑے لوگوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے جن کے متعلق اگر کچھ کہا جائے تو بات دشمنی پر اتر آتی ہے اور آپ کو دھمکایا جاتا ہے۔

عام تاثر یہ جاتا ہے کہ قبائلی علاقے کے لوگ بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں لیکن حقیقت میں وہ سب سے زیادہ زور بچیوں کی تعلیم پر ہی دیتے ہیں۔ اس کی مثال پاکستان کے دوسرے شہروں میں رہائش پذیر قبائلی علاقے کے لوگ ہیں جو اپنے بچوں سے ذیادہ بچیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہیں، جن کی بچیاں پڑھ لکھ کر مختلف شعبہ ہائے جات میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

لیکن اگر وہ اپنے ان قبائلی علاقوں میں بچیوں کو نہیں پڑھا سکتے تو اس کی وجہ وہاں کے غیر فنکشنل سکول اور غیر ذمہ دار استانیاں ہیں۔

اگر سکولوں میں حاضر سروس استانیوں کی ڈیوٹیوں کو ریگولر کیا جائے، سکولوں کو فنکشنل کیا جائے،  سکولوں میں استانیاں  کی حاضریوں کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بچیوں کے مستقبل کے ساتھ مزید مذاق کرنا بند کر دیا جائے تو شاید یہاں پر غریب بچیاں بھی پڑھ لکھ جائیں کیونکہ یہاں کی مٹی بہت زرخیز ہے۔

یہ فیک اساتذہ جو ملکی خزانے پر ایک بوجھ ہیں، جو گھروں میں تنخواہیں لے رہی ہیں، جن سے علاقے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا، جن سے اگر ڈیوٹیوں کی بات کی جائے تو ہزاروں حیلے بہانے ان کے پاس ہوتے ہیں، اگر وہ ڈیوٹیاں نہیں کر سکتیں تو ملک کے خزانے پر بوجھ کیوں بنی  ہوئی ہیں؟  

ان کو بر طرف کر کے دیگر تعلیم یافتہ لڑکیوں کو موقع دیا جائے جو ڈیوٹی بھی کریں اور علاقے کے لوگوں کو ان کی تعلیم سے فائدہ بھی پہنچ سکے۔

حال ہی میں وزیرستان ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں بوگس بھرتیوں پر وزیرستان کے نوجوان طبقے نے شور مچانا شروع کیا کہ ملٹری آپریشن کے بعد سے کافی بوگس بھرتیاں ہوئی ہیں اور ان کی انکوائری کی جائے۔

اس بارے میں ایڈووکیٹ سجاد محسود نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن بھی دائر کی جس پر کمشنر ڈیرہ جاوید مروت نے اقدام لیتے ہوئے کہا کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کرپشن کیس پر انکوائری کریں گے مگر اب تک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  سکینڈل انکوائری  کا کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔

 یہاں تک کہ کمشنر ڈیرہ جاوید مروت کا تبادلہ ہوا اور ان کی جگہ یحییٰ اخونزادہ کمشنر ڈیرہ تعینات ہو گئے۔  اب لوگوں کی ان سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ انکوائری کو بہترین طریقے سے ڈیل کریں گے۔

 مگر ساتھ ساتھ لوگوں میں مایوسی بھی پھیلی ہوئی ہے کہ اب تک وزیرستان ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر کوئی ایکشن ہوتے ہوئے بہرحال نظر نہیں آیا۔  

https://www.independenturdu.com/node/41406

 

Int'l tribunal stays $5.8B fine on Pakistan in mining case

 An international tribunal granted a stay pending a final decision on a $5.8 billion penalty imposed on Pakistan for denying a mining lease to an Australian company, an adviser to Pakistan's prime minister said Friday.

Pakistan had appealed the penalty imposed by the World Bank’s International Center for Settlement of Investment Disputes, and has said it would hinder the country's handling of the coronavirus pandemic. The case is testing Prime Minister Imran Khan’s ability to use back-channel diplomacy to settle disputes and keep alive efforts to lure more foreign investors to his impoverished country.

The fine, nearly $6 billion including the damages award and interest, would be equal to about 2% of Pakistan’s GDP and is on a par with a $6 billion bailout package the country secured last year from the International Monetary Fund. Experts have questioned the reasoning behind the huge award, which is more than double the size of the largest similar arbitration award in a case between Dow Chemical and Kuwait Petrochemical Corp.

Saleem Bajwa, an adviser to Khan, tweeted Friday that the tribunal's decision was a “great relief” for Pakistan. The decision was also hailed as a “success” in a brief statement from the attorney general’s office late Thursday. Both Islamabad and the mining company have said they're willing to consider a settlement pending a final decision on the award, which might not come until next year.

The tribunal declined to comment Friday in response to a request by The Associated Press.

The penalty centered around Pakistan's cancelling of the Reko Diq mining lease for Australia's Tethyan Copper Corp., a 50-50 joint venture of Barrick Gold Corp. of Australia and Antofagasto PLC of Chile, to build and operate a copper-gold open-pit mine.

The Reko Diq district in southwestern Pakistan’s Baluchistan province is famed for its mineral wealth, including gold and copper. Khan’s government considers it a strategic national asset, especially as prices for commodities surge, with gold recently at more than $2,000 an ounce. The Baluchistan government has since set up its own company to develop the mine.

Tethyan had invested $220 million in Reko Diq by 2011, when Pakistan terminated its mining lease. The company sought help the following year from the tribunal, which ruled against Pakistan in 2017.

Paying compensation equivalent to 40% of Pakistan’s foreign exchange reserves would have been a challenge as it struggles to revive its economy. The coronavirus pandemic has infected more than 300,000 of the country's 212 million people and killed more than 6,400, while the economy contracted for the first time in decades in the fiscal year that ended in June.

https://news.yahoo.com/intl-tribunal-stays-5-8b-081519037.html

Bhutto family history full of sacrifices - Bilawal Bhutto


Pakistan People’s Party chief Bilawal Bhutto Zardari yesterday said the history of the Bhutto family is full of sacrifices. He paid glowing tributes to Mir Murtaza Bhutto on his 24th death anniversary being observed today (September 18). 

 In a message, the PPP Chairman said that Mir Murtaza Bhutto waged struggle at a young age to save the tall icon of democracy Prime Minister Zulfikar Ali Bhutto and his democratic mission. Bilawal Bhutto Zardari said that the Bhutto family gave huge sacrifices and laid down their lives for the rights of the people of Pakistan and the country and never looked back to accomplish the mission of Zulfikar Ali Bhutto. “Within eleven years, Benazir Bhutto was assassinated after the martyrdom of Mir Murtaza Bhutto to shatter the dream of the masses for strengthening democracy and upholding their human rights,” he said. 

 He said the PPP workers would never forget the valour and struggle of Mir Murtaza Bhutto and he would remain in the memories of everyone affiliated with the democratic movement of the country. The PPP Chairman vowed that his Party would continue the struggle of founders under whatever the circumstances and would not allow sacrifices of our leadership and workers to go in vain. 

 Meanwhile, PPP Secretary General Nayyar Bokhari said the Pakistan Tehrik-e-Insaf-led government was undermining the importance of the parliament. “They are using ordinances to run the system. The parliament is nowhere to be seen. When they do have something in the parliament, they just bulldoze things,” he said in a statement. He said the National Assembly Speaker was showing partiality. “The Speaker is custodian of the House not a party. The government should mend its ways. They have damaged the supremacy of the parliament,” he added.

https://nation.com.pk/18-Sep-2020/bhutto-family-s-history-full-of-sacrifices-claims-bilawal

Bilawal House spokesman clarifies the tax details of Chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari

 

Bilawal House spokesman has clarified the tax details of Chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari reported by media quoting Federal Board of Revenue (FBR) today.

In a clarification, the spokesman said that Chairman Bilawal Bhutto Zardari has paid Rs45,65,243 tax in 2019, which includes R40,30,000 Agriculture Income Tax. In the year 2018, he paid Rs41,52,117 including Rs38,58,000 Agriculture Income Tax.


Spokesman said that major income of the PPP Chairman comes from agriculture sources and remains one of the largest agriculture income tax paying individuals from Sindh. 

https://www.ppp.org.pk/pr/23770/

  •  

  •