Monday, November 1, 2021

The Pakistani government must make the agreement with a terrorist group, TLP, public.

 The government must immediately make the agreement signed with the banned TLP public, demanded Senator Mustafa Nawaz Khokhar.

“The government should inform the parliament and the nation about the agreement signed in the dark of the night. The citizens of this country have a right to know what has been agreed with a banned organisation that had paralysed the country, disrupted everyday life and business for 12 days. The protesters martyred innocent policemen.”

Senator Khokhar asked if the sacrifices of Punjab Police personnel were in vain or if the culprits would be caught and punished.

Senator Mustafa Nawaz Khokhar added, “When the Hazara community was not burying their dead, Imran Khan said he would not be blackmailed, but here the entire state has surrendered.

This is not even how grocery stores are run, let alone a state!

“History is witness that Pakistan has suffered a great deal whenever the state has surrendered before such elements,” added Senator Mustafa Nawaz Khokhar.


پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنما و سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے حکومت و کالعدم تنظیم کے درمیان ہونے والے معاہدے پر کہا کہ حکومت معاہدے کو فوری منظر عام پر لاۓ اور پارلیمان اور قوم کو رات کی تاریکی میں کیے گئے معاہدے کے بارے میں آگاہ کرۓ ،انہوں نے کہا کہ اس ملک کے شہری یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ہفتوں نظام زندگی معطل رکھنے ،جان و مال کا نقصان کرنے والی کالعدم تنظیم کے ساتھ کیا طے پایا ہے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ بتایا جاۓ کہ کیا پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی شہادتیں بغیر کسی وجہ کی تھیں اور کیا ان ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاۓ گا بھی یا نہیں ؟ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہزارہ برادری لاشوں کے ساتھ دھرنادیے ہوئی تھی تو عمران خان نے کہا کہ میں بلیک میل نہیں ہوں گا پر یہاں تو پوری ریاست فوری ڈھیر ہوگئی ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح تو کریانے کی دکان نہیں چلتی جس طرح اب ریاست پاکستان کو چلایا جا رہا ہے پی پی پی راہنما نے کہا کہ ماضی گواہ ہے کہ جب ریاست نے اس طرح کے عوامل کے سامنے گھٹنے ٹیکے اس کاہمیشہ نقصان ہوا ہے

https://www.ppp.org.pk/pr/25724/

No comments: