Sunday, January 10, 2021

ہزارہ ہم وطنوں کے بلاوے اور انا کی اونچی دیواریں

فرنود عالم  

درد کے قبیلے سے بلاوے آ رہے ہیں اور اقتدار کی پالکی میں پڑے بھاری پاؤں اٹھنے میں نہیں آ رہے۔




شیخ سعدی کی گلستانِ سعدی میں ایک حکایت پڑھی تھی۔ شہری نے ایک جابر بادشاہ کو سوتے دیکھا تو دعا کی، خدایا تو اسے دیر تک سلائے رکھ۔ جتنی دیر یہ سوتا ہے، اتنی دیر سکون رہتا ہے۔

 کوئٹہ میں نقطہ انجماد کو چھونے والی سردی میں ہزارہ ہم وطنوں کی سر بریدہ لاشیں رکھی ہیں۔ ایک وزیر جاتا ہے، دکھ میں اضافہ کرتا ہے اور آجاتا ہے۔ دوسرا جاتا ہے، فائدہ دینے کی بجائے فائدہ مانگ کر آجاتا ہے۔ پھر باری آتی وزیر اعظم کی۔ ٹویٹ کرتے ہیں تو زخموں پر نمک چھڑک دیتے ہیں۔ اشارہ دیتے ہیں تو جلتی پر تیل کی دھار مار دیتے ہیں۔ گفتگو کے لیے ایوان سے باہر آئے تو لگا کہ تین دن کی سیاسی بد اخلاقیوں کا ازالہ کریں گے۔ وہ آئے، درد کا مذاق اڑا کر چلے گئے۔

وہ تو اپوزیشن کی تحریک اور ہزارہ ہم وطنوں کے ماتم میں فرق ہی نہ کر سکے۔ تعزیت اور احتجاج کو ایک ہی مصرعے میں باندھ کر ایسے چلے گئے جیسے کہ کچھ کہا ہی نہ ہو۔ وہ نہ سمجھتے ہوں گے، کیا اس کابینہ میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو زمین سے جڑت رکھتا ہو؟ ہزارہ اب دعا کرتے ہوں گے، اے خدائے بزرگ وبرتر! تونے آنے کی توفیق تو نہیں دی، تو ہمارے بادشاہ کو خاموش رہنے کی توفیق ہی دے دے۔ جتنی دیر یہ خاموش رہتا ہے، زخم سلے رہتے ہیں۔

انسان اگر یہ جان لے کہ کبھی کبھی خاموش رہنا کتنا ضروری ہوتا ہے، تو وہ گفتگو کا ہنر جان لے۔ جب مُردے کلام کرنے لگ جائیں تب تو خاموشی اور بھی ضروری ہوجاتی ہے۔ ایسے موقع پر تو ہمدردی کے بول بھی تذلیل کی جسارت دکھائی دینے لگتی ہے۔ جس کے بچے کا گلا کاٹا جا چکا ہو، اسے تو یہ تک کہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ میں تمہارے درد کو سمجھ سکتا ہوں۔ اسے تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ میں تمہارے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ ایسی ہر بات رسمی لگتی ہے اور مذاق لگتا ہے۔

 ایسے میں صرف خاموش ہوا جا سکتا ہے۔ ساتھ کھڑے رہو مگر خاموش رہو۔ سر پہ ہاتھ رکھو یا پھر ہاتھ پکڑ لو۔ خاموشی میں گہرائی ہوئی اور لمس کی گرمی ہوئی تو زخم صاف ہونا شروع ہو جائیں گے۔ گفتگو کی گنجائش نکلنا شروع ہو جائے گی۔ آج سے کوئی دس برس قبل ایک بڑے دھماکے کے بعد حسن معراج نے ہزارہ ٹاون کے پاس ایک بچے کو دیکھا تھا، جو خستہ و شکستہ سی موٹر سائیکل سے کچھ کھرچ کھرچ کر تھیلی میں ڈال رہا تھا۔ حسن نے پوچھا، یہ کیا ڈال رہے ہو؟ بچے نے کہا، یہ میرا بھائی ہے۔ حسن چپ ہو گیا۔ اس چُپ سے بڑھ کر اس موقعے پر آپ کیا دے سکتے ہیں؟

میں پہلی بار ہزارہ ٹاؤن کے قبرستان میں داخل ہوا تو ایک ہزارہ لڑکی میرے ساتھ تھی۔ قبرستان کے داخلی راستے پر کچھ بھکاری بیٹھے تھے۔ لڑکی نے کہا، کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ہزارہ بزرگ اور خواتین اس طرح بھیک مانگنے پر مجبور ہوں گے۔ ہم تو درد سے یہ بھی نہ کہہ سکے، اچھا۔ بس چُپ!!!

قبرستان میں ایک پوری دیوار شہدا کی تصاویر اور ناموں سے بھری ہوئی ہے۔ ہزارہ لڑکی نے کہا، شاید ہی اس ٹاؤن میں ایسا کوئی گھر ہو جس کی نمائندگی اس دیوار پر موجود نہ ہو۔ ہم چپ رہے۔ ہم نے چلنا شروع کیا اور اُس نے بتانا شروع کیا، یہ دیکھو یہ میرا کزن ہے۔ یہ والی میرے ایک اور کزن کی منگیتر تھی۔ وہ کزن بھی ایک دھماکے میں زخمی ہو چکا ہے۔ جس سال اس کی منگیتر ماری گئی، اسی سال اس کا گریجویشن ہونی تھی اور پھر شادی کی تیاریاں ہونی تھیں۔ یہ جو بزرگ سے ہیں یہ میرے ددھیال کی طرف سے میرے عزیز تھے۔ ہم انہیں چچا ہی کہتے تھے۔ بہت اچھے انسان تھے۔ یار یہ دیکھو، اس کے تنور سے ہم روٹیاں خریدتے تھے۔

یہ جو لڑکا سا ہے جینز ٹی شرٹ میں، یہ بھی ہماری امی کے رشتے داروں میں سے تھا۔ اداکاری کا اسے بہت شوق تھا۔ اس کی امی نے اس کے شوق کی خاطر بہت پیسے لگائے، مگر سارے خواب ادھورے رہ گئے۔ یہ جو سامنے والے تین ہیں، یہ ایک ہی گھر کے افراد ہیں۔ یہ بھی یوں سمجھو کہ ہمارے رشتے دار ہی تھے۔ جس دن مارے گئے اس کے دوسرے دن ان کی بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ ابھی تو کافی بڑی ہو گئی ہے۔ کتنا عجیب سا دکھ ہے اس بچی کا بھی۔

یہ دیکھو، یہ بچہ اپنے والد کے ساتھ مارا گیا تھا۔ ان کی تصویریں نہیں ہیں، مگر نام لکھے ہوئے ہیں۔ چلتے چلتے لڑکی نے ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا اور بے دھڑک کہہ دیا، اور یہ میرا محبوب تھا۔ زندہ ہوتا تو ابھی یہاں ہمارے ساتھ چل رہا ہوتا، آپ سے ملاقات کراتی۔ مگر ابھی یہ سامنے والی قبر میں ہے۔ اس پورے تعارفی ماتم کے جواب میں ہمارے پاس ایک ہی چیز تھی۔ وہ تھی خاموشی۔   

جس کے بچے کا گلا کاٹا جا چکا ہو، اسے تو یہ تک بھی نہیں کہا جا سکتا کہ میں تمہارے درد کو سمجھتا ہوں۔ اسے تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ میں تمہارے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ یہاں مملکت کا سربراہ لواحقین سے نو سو کلومیٹر کا فاصلہ رکھتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ کسی وزیر اعظم کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا؟ اللہ!!!!

ہزارہ لوگ بہت نفیس، پڑھے لکھے، نرم خو، مستعد اور خود دار ہوتے ہیں۔ ایسی پاکیزہ طبعیتیں رکھنے والے لوگ اپنے زخم دکھاکر بلاوے نہیں دیتے۔ غم گساروں کو خود جانا پڑتا ہے۔ یہاں تو مگر قیامت ہی کچھ اور طرح کی آن پڑی ہے۔ درد کے قبیلے سے بلاوے آ رہے ہیں اور اقتدار کی پالکی میں پڑے بھاری پاؤں اٹھنے میں نہیں آ رہے۔

پاس جا کر پرسہ نہیں دے سکتے، کیا آپ خاموش بھی نہیں رہ سکتے؟ کچھ مہربانی کیجیے۔ دل دکھتا ہے!

https://www.independenturdu.com/node/56891 

No comments: