Monday, August 31, 2020

بین الاقوامی قانون کے مطابق افراد کو زبردستی غائب کیا جانا انسانیت کے خلاف ہے، سینیٹر فرحت ﷲ بابر

سینیٹر فرحت اللہ بابر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس اور سول سوسائٹی کی جانب سے کیے جانے والے ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق افراد کو زبردستی غائب کیا جانا انسانیت کے خلاف ہے اور متنبہ کیا ایک دن ایسا بھی آئے گا جب دنیا اس کا نوٹس لے گی کہ کس طرح ملک میں لوگوں کو اچا نک غائب کیا جاتا ہے۔ یہ مظاہرہ غائب ہو جانے افراد کے عالمی دن کے موقع پر منظم کیا گیا ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ FATF کی طرح ایک روز یہ مسئلہ بھی ہمارے حلق کی ہڈی بن جائے گا۔ اس مظاہرے میں غائب کئے جانے والے افراد کے رشتے داروں نے مظاہرے میں موجود لوگوں کو اپنی اپنی تکالیف سے آگاہ کیا۔
 افراد کو زبردستی غائب کئے جانے والا یہ کینسر اس وقت بہت زیادہ تیزی سے پھیلا جب جنرل مشرف نے خود ہی اعتراف کیا کہ اس نے سینکڑوں لوگوں کو سی آئی اے کے حوالے کیا اور اس کے عوض لاکھوں ڈالرز کمائے۔ جنرل مشرف کے اس بیان کے بعد لوگوں کو زبردستی غائب کیا جانا ایک معمول بن گیا اور اسے نہ پارلیمنٹ روک سکی اور نہ عدلیہ اور نہ ہی سویلین حکومتیں اس کے متعلق کچھ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے دو سال قبل اسی روز یہ وعدہ کیا تھا کہ زبردستی غائب کیے جانے کو جرم قرار دینے کے لئے قانون سازی کی جائے گی لیکن وہ اب تک ایسا نہیں کر سکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ناکامی پر وہ شیریں مزاری کو الزام نہیں دیتے کیونکہ ایسا کرنے والے لوگ ریاستی اداروں سے زیادہ طاقتور ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ اب تک ایسے افراد میں سے کسی افراد کا احتساب نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی غائب کئے جانے والے کمیشن کے چیئرمین نے اگست 2008ءمیں سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے سامنے یہ اعتراف کیا تھاکہ 2000 افراد کو زبردستی اغوا کرنے والے 153سرکاری اہلکاروں کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ جس آسانی اور معمول کے ساتھ یہ جرم کیا جا رہا ہے وہ انتہائی خوفزدہ کردینے والا ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وقت بدلتا ہے اور ایک روز ان سارے کرداروں کو اپنے جرائم کا حساب دینا پڑے گا۔ 

https://www.blogger.com/blogger.g?blogID=6906155786122195046#editor/target=post;postID=3230031179669292193

No comments: