Saturday, August 29, 2020

عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک جن میں امریکہ کینیڈا یو اے ای اور پاکستان شامل ہیں میں 99 کمپنیاں 130 کے قاریب فعال فرینچائز ریسٹورنٹس اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں جن میں سے امریکہ میں دو شاپنگ مال بھی شامل ہیں

تحریر: افضال چوہدری ملیرا

جمعرات کے روز دو بج کر اٹھاون منٹ پر ایک صحافی احمد نورانی نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں انہوں نے جرنل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی فیملی کے بارے میں کافی تہلکہ خیز انکشافات کئے عاصم سلیم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور کمانڈر سدرن کمانڈ جیسے اہم فوجی عہدوں پر فائز رہے جب کہ اب وہ وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے اطلاعات و نشریات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں۔

احمد نورانی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک جن میں امریکہ کینیڈا یو اے ای اور پاکستان شامل ہیں میں 99 کمپنیاں 130 کے قاریب فعال فرینچائز ریسٹورنٹس اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں جن میں سے امریکہ میں دو شاپنگ مال بھی شامل ہیں۔

اس میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ کوئی سورسز کی انفارمیشن نہیں ہے بلکہ آفیشل ڈاکومنٹس نکلوا کر ان کی بنیاد پر رپورٹ شائع کی گئی ہے احمد نورانی کی رپورٹ کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ایک نارمل بیک گراونڈ رکھنے والی فیملی اچانک اتنی امیر ترین کیسے ہو گئی کہ اس نے امریکہ جیسے ملک میں کروڑوں کی انویسٹمنٹس شروع کر دیں بقول احمد نورانی ان انویسٹمنٹس کا اُتار چڑھاؤ جرنل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے عہدوں کے ساتھ منسلک رہا انویسٹمنٹ کا آغاز تب ہوا جب عاصم سلیم باجوہ جرنل مشرف کے اسٹاف آفیسر کے طور پر ان کے ساتھ تھے یہ انویسٹمنٹ بعض جگہوں پر ریسٹورنٹ فرنچائز کی صورت میں تھی جبکہ بعض جگہوں پر کمرشل پراپرٹیز خریدی گئیں جن میں سے ایک پراپرٹی کی ویلیو 5 ملین ڈالرز ہے اور ایک کی ویلیو 1.2 ملین ڈالرز ہے جس پر بعد میں شاپنگ سینٹر بنا تو اس کی ویلیو پانچ ملین ڈالرز سے بھی تجاوز کر  گئی

رپورٹ کے مطابق عاصم باجوہ کے بیٹوں نے باجکو گروپ میں 2015ء میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان اور امریکہ میں مزید نئی کمپنیوں کی بنیاد اس وقت رکھی جب ان کے والد آئی ایس پی آر کے سربراہ تھے اور پھر بعد میں کمانڈر سدرن کمانڈ بلوچستان بن گئے تھے عاصم سلیم باجوہ کے بیٹے نے انویسٹمنٹ ان سیکٹرز میں کی جو کسی نہ کسی طرح ان کے والد کی ذمہ داریوں سے مطابقت رکھتے تھے جیسا کہ جب بلوچستان میں عاصم سلیم باجوہ کمانڈر سدرن کمانڈ تھے تو بلوچستان میں ان کے بیٹے کے نام سے منسوب ایک کمپنی نظر آتی ہے اور باجوہ صاحب اسی عہدے پر فائز تھے جب ان کے بیٹے نے امریکہ میں دو گھر بھی خریدے۔

عاصم سلیم باجوہ نے اس رپورٹ کو محض شر انگیز اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے اور ان کے بیٹے نے اسے بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی سی پیک کو بد نام کرنے کے لیے سازش قرار دیا ہے جبکہ عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں کے کہنا ہے باجوہ صاحب کا ان کے بزنس سے کوئی تعلق نہیں لیکن محترمہ فرخ زیبا جو کہ عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ ہیں 2007ء میں ایک آپریٹنگ ایگریمنٹ کے تحت باجکو گلوبل مینجمنٹ میں برابر کی مالک ہیں۔
باجکو کمپنی کے پریذیڈنٹ عبدالمالک باجوہ نے اس بات کی نشاندہی تو کی ہے کہ عاصم سلیم  باجوہ اور ان کے صاحبزادوں کا کمپنی سے کوئی تعلق نہیں لیکن ان کی اہلیہ کا ذکر نہیں ہوا۔

اس بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے کیونکہ احمد نورانی بھی باجکو کمپنی کو عاصم سلیم باجوہ سے نہیں بلکہ ان کی اہلیہ سے منسوب ہونے کا انکشاف کر رہے ہیں جبکہ باجوہ صاحب نے اپنے بیان میں یہ واضح طور پر کہا تھا کہ ان کا اور ان کی اہلیہ کا پاکستان سے باہر کوئی بزنس کیپیٹل نہیں ہے۔

احمد نورانی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پاکستان میں کاروباری کمپنیوں کے نظام کی نگرانی کرنے والے ادارے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان نے اپنی آفیشل ویب سائٹ سے عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیتی کمپنیوں کا ڈیٹا غائب کرنا شروع کر دیا ہے ان کا دعویٰ ہے کہ  سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کی ویب سائٹ پر اس کاروباری ڈیٹا میں کی جانے والی تبدیلیوں کے مکمل شواہد انکے پاس موجود ہیں صحافی احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس ادارے کی ویب سائٹ سے عاصم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیت کے بارے میں معلومات اتوار یکم اگست 2020ء کو ہٹائی گئی تھیں جس دن عید کی چھٹی تھی اور تمام دفاتر بند تھے انھوں نے دعوی کیا کہ پورے ادارے کو یہ بات معلوم ہے اور میرے پاس تمام ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں۔

باجوہ فیملی کے علاوہ ابھی تک کسی نے بھی وثوق کے ساتھ اس رپورٹ کی تردید یا تائید نہیں کی لیکن جس فیملی پر الزامات لگائے گئے ہوں ان کا محض ٹویٹ کر کے خود کو بے قصور ثابت کرنا کافی نہیں ہے اور جہاں تک بات پاکستانی میڈیا کی ہے تو وہ بھی خاموش ہے اور میڈیا کی خاموشی اس بات کو مزید مشکوک بنا رہی ہے۔

اگر تو باجوہ صاحب واقعی بے گناہ ہیں تو انہیں منی ٹرائل دے کر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو غلط ثابت کرنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو لوگ ان کی خاموشی کو اعترافِ جرم سمجھنے لگ جائیں گے کیونکہ احمد نورانی نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ 2002ء تک سلیم باجوہ ان کے بھائیوں بیٹوں اور اہلیہ کا مکمل مالکیت کا کاروبار دنیا میں کسی جگہ نہیں تھا اور جیسے جیسے انہوں نے بڑے عہدے سنبھالے ان کا کاروبار پھلنے پھولنے اور چمکنے لگا بلکہ اس سے بھی سادہ الفاظ میں کہیں تو کاروبار کو چار چاند لگ گئے۔

اب یہ تو وقت ہی ثابت کرے گا کہ اس رپورٹ میں کتنی صداقت ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ احمد  نورانی نے محض اپنے فالوورز میں اضافہ کرنے اور اس گمنام ویب سائٹ کو دنیا والوں کی مرکزِ نگاہ بنانے کے لیے اس طرح کے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہوں ہاں البتہ اگر یہ بات سچ ثابت ہوئی تو پوری پاکستانی قوم پر اس صحافی کا یہ احسان ہو گا اور پاکستانی جب بھی پاپا جونز پیزا کھائیں گے تو انہیں بل ادا کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ یہ خوش ذائقہ پیزا انہی کے ادا کردہ ٹیکس کے پیسوں سے بنا ہو گا.
https://samachar.pk/

No comments: