Wednesday, January 23, 2019

پاکستان یا شہرناپرساں؟ - #Sahiwalkillings


سانحہ ساہیوال، پہلا سانحہ ہے اور نہ آخری ہو گا۔ چند روز تک سیاستدان بیانات دیتے رہیں گے۔
چند روز تک وزرا بڑھکیں مارتے رہیں گے۔ چند روز تک ٹی وی ٹاک شوز میں ریٹنگ بڑھانے کے لئے سانحہ ساہیوال پر توتو میں میں ہوتی رہے گی۔ پھر ہم ایک نئے ڈرامے میں لگ جائیں گے یا پھر ایک نئے سانحے کا انتظار کریں گے۔ سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد کے لواحقین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہیں گے۔ اس واقعہ کے ذمہ داران دندناتے پھر رہے ہوں گے۔
وزیرداخلہ شہریار آفریدی اسی طرح اسمبلی میں اور پریس کانفرنس میں بڑھکیں مارتے رہیں گے لیکن نہ انہیں سانحہ ساہیوال یاد ہوگا اور نہ کوئی میڈیا پرسن یا اسمبلی ممبر ان سے اس واقعہ سے متعلق سوال پوچھنے کی زحمت گوارا کرے گا۔ ماضی بعید میں نہیں جاتے، ماضی قریب کے دو واقعات کی مثال لیتے ہیں۔ نقیب اللہ محسود اور ان کے ساتھ دو اور معصوموں کو جب اسی طرح بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا تو اس وقت بوجوہ موجودہ سے بھی بڑا طوفان کھڑا ہو گیا۔
تب سیاستدانوں نے اس واقعے پر اس سے زیادہ سیاست چمکائی تھی اور تب میڈیا نے اس حادثے پر اس سے بھی زیادہ دکانداری کی تھی۔ نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کے خلاف کارروائی کے لئے اسلام آباد میں کئی روز تک جو دھرنا دیا گیا، اس سے عمران خان سے لے کر اسفندیار ولی خان تک اور محمود خان اچکزئی سے لے کر مولانا فضل الرحمان تک، کم وبیش سب سیاسی رہنماؤں نے اپنے خطابات کے جوہر دکھائے۔ اور تو اور جنرل حمید گل مرحوم کے صاحبزادے سے لے کر ٹی وی اینکرز تک نے وہاں غمزدہ پختونوں کے جذبات کو گرمایا۔
ریاست مدینہ کے نام لیوا عمران خان صاحب تو پختونوں کا ووٹ ہتھیانے کے لئے کراچی کے دھرنے میں بھی تشریف لے گئے اور وہاں اپنے خطاب میں راؤ انوار جیسے ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا۔ ساہیوال کے سانحہ کا تو ابھی کسی عدالت نے نوٹس بھی نہیں لیا لیکن نقیب اللہ محسود کے معاملے کا اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سوموٹو نوٹس بھی لیا۔ نقیب اللہ محسود کے مظلوم والد کو یقین دہانیاں بھی کرائیں۔
حتیٰ کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی وزیرستان میں واقع ان کے گھر پر تشریف لے گئے اور نقیب اللہ محسود کے یتیم بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انصاف دلانے کا عزم ظاہر کیا۔ تاہم ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ عمران خان کے سر پر وزیراعظم کا تاج بھی سج گیا۔ نقیب اللہ محسود کے نام پر جذباتی تقاریر کے ڈرامے رچانے والے شہریار آفریدی وزیرداخلہ بن گئے۔ قرآنی آیات کے حوالے دے کر، نقیب اللہ محسود اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نام پر آنسو بہانے والے علی محمد خان بھی وزارت سے سرفراز ہوئے۔ لیکن نقیب اللہ محسود اور ان جیسے سینکڑوں معصوموں کے قاتل راؤ انوار آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔
آج دو بندوں (ایک جبران ناصر اور دوسرے کا نام بوجوہ نہیں لکھا جا سکتا) کے سوا باقی سب نے نقیب اللہ محسود کو بھلا دیا ہے۔ ان کے بچے بے آسر ا پڑے ہیں اور راؤ انوار یواے ای کے محلات میں رہنے والے اپنے بچوں کے پاس جانے کے لئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ سردست تو عدالت نے انہیں جانے کی اجازت نہیں دی لیکن جلد یا بدیر ہمیں خبر مل جائے گی کہ راؤ انوار وہاں پہنچ گئے۔ dوسری طرف نقیب اللہ محسود کے بوڑھے والد انصاف کے لئے کبھی کراچی کی عدالتوں کے چکر لگارہے ہیں تو کبھی اسلام آباد کے۔ وسعت اللہ خان، مبشر زیدی اور ضرار کھوڑو کے سوا کسی اینکر کی ہمت نہیں ہو رہی کہ نقیب اللہ محسود کے والد اور بچوں کی فریاد سے دنیا کو آگاہ کرے۔ جبران ناصر کے سوا کسی وکیل، کسی سیاستدان اور کسی مذہبی رہنما کو فرصت نہیں کہ نقیب اللہ محسود کے والد کی فریاد سنے یا پھر راؤ انوار کے معاملے کا فالواپ کرے۔
 مذکورہ واقعہ کو تو ایک سال گزر گیا۔ ایک اور تازہ ترین واقعہ ملاحظہ کیجئے جوریاست مدینہ کے نام لیوا عمران خان کے اقتدار میں وقوع پذیر ہوا۔ پشاور کے شہریو ں کی زندگیوں کے محافظ اور ایس پی پشاور محمد طاہر داوڑ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے اغوا ہوئے۔ جس طرح سانحہ ساہیوال کے بارے میں وزراء بھانت بھانت کی بولی بول رہے ہیں، اسی طرح ان سے متعلق بھی وزیرداخلہ کچھ کہتے رہے تو وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کچھ کہتے رہے۔
 طاہر داوڑ غائب تھے لیکن وزیراعظم کے ترجمان افتخار درانی وائس آف امریکہ پر آکر میڈیا والوں کا مذاق اڑاتے رہے کہ انہوں نے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے طاہر داوڑ کو مغوی مشہور کر رکھا ہے۔ جس طرح سانحہ ساہیوال کے مقتولین سے متعلق وزرا کے دہشت گردی کے الزامات سے ان کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی ہو رہی ہے، اسی طرح طاہر داوڑ کے بھائی اور بچے بھی افتخار درانی کے بیان سے تڑپ اٹھے تھے۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ پشاور کے شہریوں کی زندگیوں کے اس محافظ کی لاش افغانستان میں مل گئی۔
 چنانچہ سانحہ ساہیوال کی طرح اس پر بھی ملک بھر میں قیامت برپا ہوئی۔ سیاستدانوں کے بیانات آنے لگے۔ ٹی وی ٹاک شوز کا بھی کئی دن تک بازار سج گیا۔ وزیراعظم نے یقین دہانیاں کرائیں۔ اسمبلی فلور پر وزیرداخلہ نے سانحہ ساہیوال پر دیے بیان سے بھی بڑھ کرجذباتی تقریر کی۔ تب بھی انہوں نے یہی الفاظ بار بار استعمال کیے تھے کہ مجھے اللہ کو جان دینی ہے۔ اسی طرح تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کر کے عمران خان کی حکومت نے ایک جے آئی ٹی بنائی تھی لیکن آج کئی ماہ گزرنے کے باوجود کچھ پتہ نہیں۔
 اس جے آئی ٹی کا پتہ چلا اور نہ اس کی تحقیقات کا۔ اسی لئے مجھے کوئی امید نہیں کہ سانحہ ساہیوال کے مجرموں کو قرار واقعی سزا مل جائے گی اور نہ اس خوش فہمی کا شکار ہوں کہ یہ سانحہ آخری سانحہ بن جائے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم سب جھوٹ بول بول کر اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ جس طرح جمہوریت نہیں لیکن ہم جمہوریت جمہوریت کا ڈرامہ رچائے ہوئے ہیں اسی طرح اس ملک میں نظام انصاف نہیں لیکن ہم پولیس، وکیل اور عدالت کا ناٹک کرکے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے اس ملک میں واقعی کوئی قانون موجودہے۔
 حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں ایک طبقے کے لئے قانون ہے لیکن دوسرا طبقہ اس سے بالاتر ہے۔ ایک طبقہ کو پولیس اور عدالت وغیرہ کا خوف لاحق رہتا ہے لیکن کچھ طبقات ایسے ہیں جو ان دونوں کو اپنے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی سمجھتے ہیں۔ جن معاملات میں ان طبقات کا کردار آجاتا ہے، وہ کبھی منطقی انجام تک نہیں پہنچتے۔ لہٰذا جب تک اس ملک میں رہنے والے تمام طبقات اور تمام ٰشہریوں کو ایک لاٹھی سے ہانکنے والا نظام نہیں بنایا جاتا، یہ سانحات کم ہونے کی بجائے بڑھتے رہیں گے۔ تاہم جو لوگ اس دوئی کو برقرار رکھ رہے ہیں، انہیں مکافات عمل کا قانون بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ آج دوسروں کے بچے خوفزدہ ہیں تو کل ان کے بچے بھی غیرمحفوظ ہوسکتے ہیں۔ اللہ کا واسطہ اس ملک کو شہرناپرساں نہ بنائیے، پاکستان رہنے دیں۔

No comments: