Tuesday, February 11, 2020

Video - Early New Hampshire results show Sanders, Buttigieg leading

Video Report - #NileRiver What's behind the Egypt-Ethiopia Nile dispute?

Video Report - How will Russia's new hypersonic missile affect global arms race? | Inside Story

Video - French police kick and beat with batons protesters in Bordeaux

Video - Citizen by #CNN: New Hampshire

ناشناس | زه خو شرابي يم

ساقي | اجمل خټک | سردارعلي ټکر

Music Video - ميں بھٹو ھوں - ميں بھٹو ھوں - ميں بھٹو ھوں

#AsmaJahangir: ’ان کی روح یہی کہہ رہی ہو گی کچھ کام خود بھی کر لیا کرو‘




بچپن میں ہی یہ سبق پڑھا دیا گیا تھا کہ اگر قائداعظم پاکستان کے قیام کے فورا بعد اس جہان فانی سے کوچ نہ کرتے تو پاکستان ایک مختلف ملک ہوتا اور کچھ نہیں تو چھوٹی موٹی سپر پاور ہوتا۔
چولہوں میں گیس پوری آ رہی ہوتی، فوج سرحدوں پر جنگی مشقیں کر رہی ہوتی، عامر اور آصف پاؤنڈ لے کر نو بالیں نہ کرتے، عمران خان کو آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر سے ملنے دبئی نہ جانا پڑتا بلکہ پاکستان اتنا پرسکون، خوشحال اور بورنگ سا ملک ہوتا کہ شاید عمران خان کو سیاست میں آنا ہی نہ پڑتا۔
اگر قائداعظم کچھ سال اور زندہ رہ جانے والی داستان سے شاید یہ سب دکھانا مقصود ہے کہ ان کے پاس پاکستان کو چلانے کے لیے کوئی خفیہ نسخہ تھا جسے وہ اپنے ساتھ قبر میں لے گئے اور تب سے ہم تکے لگا کر اس ملک کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا۔ اس سال میں ہر ہفتے کم از کم ایک دن ایسا ضرور آیا جو ہمارے دلوں سے آواز نکلی کہ کاش آج عاصمہ ہوتیں تو ہماری جان پر آنے والے اس نئے عذاب کا کچھ کرتیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب جو ہسپتالوں کے دورے کرتے تھے اور ڈیم کی چوکیداری کرنے کے دعوے کرتے تھے، اس پر عاصمہ کیا کہتیں۔
جو انتخابی مہم عمران خان کو حکومت میں لے کر آئی اس پر عاصمہ کیا فرماتیں۔ جو ہر دوسرے دن پی ٹی ایم کے کارکنوں، حمایتیوں کو اٹھایا جا رہا ہے ان کی ضمانتیں کروانے پہنچتیں، نوکری سے نکالے جانے والے صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتیں اور یہ سب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے الیکشن کی دھڑے بندی میں بھی لگی رہتیں۔
ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے کہ وہ کیا کہتیں، کیا کرتیں کیونکہ وہ اس قوم کے ضمیر کا کردار 40 برس تک نبھاتی رہیں۔ ہماری زبانوں پر جو تالے لگائے جا رہے ہیں اس کی چابی عاصمہ جہانگیر اپنے ساتھ نہیں لے گئیں بلکہ ہمارے پاس ہی چھوڑ گئی ہیں۔

جانے والے کو یاد کرنا ضروری ہے۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا اس کا ذکر بھی ضرورت ہے لیکن عاصمہ کے پاس ایسا کوئی خفیہ نسخہ نہیں تھا جسے وہ اپنے ساتھ لے گئیں۔ ان کا نسخہ سیدھا تھا، ڈفر کو ڈفر کہو، فوجی کو فوجی اور مولوی کو مولوی۔ مصلحت اندیشی بزدلی کا نام ہے۔ جب مشرف کا مارشل لا آیا تو پاکستان کی بڑی آوازیں ابھی اپنا گلا ہی صاف کر رہی تھیں عاصمہ نے ببانگِ دہل اعلان کیا کہ یہ مارشل لا ہے اور پھر وہی جنرل مشرف یہاں سے بھگوڑا ہو کر دبئی سے ان سے درخواست کرتا تھا کہ وہ اس کا مقدمہ لڑیں۔
عاصمہ جہانگیر کو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اکیلی کچھ نہیں کر سکتیں اور اس کےلیے لوگوں سے جڑنا بہت ضروری ہے۔ بلوچستان، کے پی، اندورنِ سندھ جہاں سیاستدان صرف الیکشن کے وقت جاتے تھے اور صحافی کسی قدرتی آفت کے بعد، عاصمہ جہانگیر پشین سے پشاور تک گھومتی تھیں۔
جتنا بولتی تھیں اس سے کہیں زیادہ وہ سنتی تھی۔ اگرچہ ان کے ناقدین انھیں ہمیشہ ایک بھنائی ہوئی عورت کے طور پر پیش کرتے تھے، انھیں ہنسنا بھی آتا تھا اور ہنسانا بھی اور بعض دفعہ غصے کا اظہار بھی پنجابی سٹائل کی جگتوں میں کرتی تھیں۔
ایک دفعہ میں بھولا بھٹکا ایک ٹی وی مباحثے میں پھنس گیا جس میں ایک مفتی صاحب ریپ کے کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ کی مخالفت کر رہے تھے۔ ان کی دلیل وہی پرانی کے اس سے عورتوں میں بےحیائی پھیلے گی۔ عاصمہ جہانگیر بولیں، مفتی صاحب آپ کو کیوں لگتا ہے کہ پاکستان کی ساری عورتیں آپ کی محبت میں مبتلا ہیں اور آپ کا کردار خراب کرنا چاہتی ہیں۔ ایک لمحے کے لیے مفتی صاحب شرما سے گئے، جتنا کوئی مفتی صاحب شرما سکتے ہیں۔
وہ پاکستان کی صحافت پر آنے والے عذاب کے بارے میں بھی خبردار کرتی رہی تھیں۔ ایک دفعہ میری موجودگی میں چند سینیئرصحافی اپنے مالکان کا رونا رو رہے تھے۔ انھوں نے توجہ سے بات سنی، پھر پوچھا کہ جو صحافیوں کی یونین ہے اس میں ہو۔
انھوں نے فرمایا ہاں رکن تو ہوں لیکن زیادہ ایکٹو نہیں۔ تو ہو جاؤ ایکٹیو، عاصمہ نے کہا۔ ’کج کم آپ وی کر لیا کرو‘ وہ پنجابی میں بولیں۔
ان کی روح ہم سے مخاطب ہو کر بھی یہی کہہ رہی ہو گی کہ کچھ کام خود بھی کر لیا کرو۔

Prominent Gov’t Critic Gul Bukhari Threatened With Terrorism Charges In Pakistan

A Pakistan law enforcement agency has threatened to slap terrorism charges on one of the country’s most prominent government critics.
The counterterrorism wing of the Federal Investigation Agency (FIA) has asked Gul Bukhari, a columnist and democracy activist, to appear before an inquiry probing online propaganda against the government, national security organizations, and the judiciary.
“If she fails to appear [before the FIA inquiry], we will register a court case under PECA and the Anti-terrorism Act,” a February 11 statement by the FIA said while referring to the Prevention of Electronic Crimes Act by its acronym. Global media watchdog Reporters Without Borders says the law is “often used by the authorities to silence journalists who dare to cross the regime's implicit red lines.”
The FIA, however, is threatening dire consequences for Bukhari.
“After obtaining court orders, extradition procedures will be employed against the accused,” the statement said. “Interpol will be requested to help in completing the legal procedures,” it added. “The court will be approached to forfeit all the moveable and immovable property of the accused.”
Bukhari, in her 50s, now lives in self-exile in Britain. She was briefly kidnapped by unknown gunmen in the eastern city of Lahore in June 2018. She emerged as a prominent critic of Pakistan’s powerful military after supporting former Prime Minister Nawaz Sharif’s campaign for civilian supremacy following his sacking by the country’s Supreme Court for undeclared assets in July 2017.
Bukhari has used her large following on social media, Twitter in particular, to criticize the military for allegedly facilitating Prime Minister Imran Khan’s rise to power in the July 2018 election. She regularly wrote critical columns and regularly tweeted about the sporadic crackdown on the Pashtun Tahafuz Movement, a civil rights movement, and other instances of government highhandedness against journalists, activists, and politicians.
Government threats to Bukhari followed the February 2 attack on Ahmad Waqass Goraya. Two unidentified men attacked the exiled Pakistani blogger outside his house in the western Dutch city of Rotterdam.

Music Video - #PPP - AYA AYA BILAWAL...BILAWAL...BILAWAL....BILAWAL

Video - #BilawalBhutto #NationalAssembly - Bilawal Bhutto Speech In National Assembly

Bilawal Bhutto urges govt to give relief to masses or go home

Pakistan Peoples Party (PPP) Chairman Bilawal Bhutto urged the incumbent government to either provide relief or go home as they will not tolerate anymore economic slaughtering of the people.
Addressing the National Assembly (NA) session, he termed the Parliament as powerless, expressing that inflation is being discussed in the House but Finance Advisor is not present.
He further said that PM Imran used to say that the people of Pakistan do not pay taxes because the leaders were dishonest. He asserted that the incumbent government, itself, mentioned that there is a shortfall of Rs700 billion of taxes. “Is the PM now honest or incompetent? Is the reason same for not receiving taxes now? PM Imran should answer which of his corruptions is causing inflation”, he emphasized.
The scion of Bhutto dynasty expressed that the Bureau of Statistics stated that the inflation which has been witnessed in the past year has never been seen before, even in the last 10 years; while the food commodities has inflated by 78%. He slammed the government for turning the "floundering economy into a sinking economy”.
Meanwhile, Bilawal Bhutto Zardari said that this government is sabotaging the Benazir Income Support Programme (BISP), which was initiated by his late mother and former premier Benazir Bhutto. He termed the programme as the first social security net for the people, saying that the whole politics of Benazir Bhutto was for the people of Pakistan.
He added: “Only those who came into power without even getting elected are saying that there is no inflation and the economy is growing.
“PM Imran used to say that he would not borrow any loan and rather commit suicide whereas, his own State Bank of Pakistan (SBP) mentioned that he has debts of Rs11,000 billion.  
"We do not want PM Imran to commit suicide, but we demand that he acknowledges he is incompetent and selected".

اپنی اپنی فوجیں کشمیر سے نکالو! کشمیری قوم پرستوں کا پیغام - کشمیری قوم پرست رہنماؤں نے پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کیا

کشمیری قوم پرست رہنماؤں نے پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی سطح پر مذہبی انتہاپسندی کی سر پرستی بند کی جائے، کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے اور جنوبی ایشیا کو جنگ کے شعلوں میں نہ جھونکا جائے۔

Pakistan | Demonstration Kaschmirische Nationalisten (DW/A. Sattar)
پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں معروف کشمیری قوم پرست رہنما مقبول بٹ کی چھتیسویں برسی کے موقع پر قوم پرست تنظیموں کے رہنماوں نے اسلام آباد پر زور دیا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر ایک خود مختار کشمیری حکومت بنائی جائے اور اس کا اسلام آباد میں ایک سفارت خانہ کھولا جائے تاکہ وہ کشمیرکا مقدمہ خود عالمی سطح پر لڑ  سکیں۔
 پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف شہروں، بشمول مظفر آباد، باغ، میر پور، کوٹلی، کھوئی رتہ اور راولا کوٹ میں آج کی دن کی مناسبت سے ریلیاں نکالی گئیں، جہاں مقررین نے خودمختاری کے حق میں پر جوش نعرے لگائے اور پاکستان سے الحاق کی باتیں کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا۔ کئی مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر مقبول بٹ کی تصویریں آویزاں تھیں۔ جموں وکشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور جموں کشمیر لبریشن اسٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت کئی طلبا تنظیموں کے کارکنان نے ایسی شرٹیں پہنی ہوئیں تھیں، جن پر مقبول بٹ کی تصویریں پرنٹ کی گئی تھیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خود مختاری کے نعرے لگانے والی تنظیموں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن کئی ناقدین کا خیال ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر پاکستان کی ریاست نے ان تنظیموں پر ماضی جیسی سختیاں بند کر دی ہیں۔ مختلف جلسوں میں مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیر کا حل کسی جہاد یا جنگ سے ممکن نہیں بلکہ پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی کشمیر کو آزادی و خودمختاری حاصل ہو سکتی ہے۔
مقبول بٹ پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دونوں حصوں میں رہے۔ وہ انیس سو اڑتیس میں کپواڑہ میں پیدا ہوئے۔ گریجویشن کشمیر سےکی اور پھر انیس سو اٹھاون میں وہ پاکستان آ گئے اور یہاں صحافت سے وابستہ ہوئے۔ مقبول بٹ انیس سو اڑسٹھ میں دوبارہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر گئے، جہاں وہ پکڑے گئے لیکن وہ انیس سو انہتر میں جیل توڑ کر فرار ہو گئے اور واپس پاکستان پہنچ گئے۔ اس کے بعد ان کا نام دنوں ممالک کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں آیا۔
Pakistan | Demonstration Kaschmirische Nationalisten (DW/A. Sattar)
بعدازں کچھ کشمیری نوجوانوں نے بھارت کا ایک طیارہ ہائی جیک کیا۔ مقبول بٹ کو اس ہائی جیکنگ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا۔ ان پر مقدمہ چلا اور برسوں کی قید سے رہائی پانے کے بعد وہ انیس سو چھہتر میں ایک بار پھر بھارت کے زیر انتظام کشمیر چلے گئے، جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور گیارہ فروری انیس سو چوراسی کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ کشمیری قوم پرستوں کا دعوی ہے کہ مسئلہ کشمیر مقبول بٹ کے دیے گئے فارمولے ک تحت ہی حل ہو سکتا ہے۔ مقبول بٹ کے سیاسی شاگرد اور ان کے ساتھ جیل میں ایک سال گزارنے والے ہاشم قریشی، جن کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہے، کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے ایک ارب سے زیادہ انسان جنگ کی آگ سے بچ سکتے ہیں اگر وہ اس فارمولے پر عمل کریں۔ نئی دہلی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مقبول بٹ نہ پاکستان کی غلامی چاہتے تھے اور نہ ہندوستان کی۔ وہ چاہتے تھے کہ کشمیر ایک خودمختار ملک بنے، جس میں مسلمان، ہندو، سکھ اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھائیوں کی طرح رہیں۔ لیکن یہ بات نہ پاکستان کو پسند تھی اور نہ بھارت کو۔ اسی لیے مجھے اور مقبول بٹ کو پاکستان میں بھارت کا ایجنٹ کہا گیا اور بھارت میں پاکستان کا ایجنٹ کہا گیا۔ ہم نے دونوں ممالک میں جیل کاٹی۔‘‘
پاکستان اور اس کے زیر اتنظام کشمیر میں برسوں تک جہادی تنظیمیں کشمیر کا حل مسلح جدوجہد میں بتاتی رہیں لیکن ہاشم قریشی کا خیال ہے کہ مقبول بٹ مذہبی بنیادوں پر لڑی جانے والی لڑائیوں کے سخت خلاف تھے، ''پاکستان نے جہادی تنظیموں کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچایا، جو صرف پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس نام نہاد جہاد سے کشمیری مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوئے۔ مقبول بٹ ایسی کسی بھی مذہبی تحریک کے شدید مخالف تھے۔ اور پاکستان کی جہادی پالیسی کی وجہ سے بھارت میں بھی انتہاپسند قوتیں مذہب کو استعمال کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پورے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ لہذا دونوں ممالک کو سرکاری سطح پر اس انتہاپسندی کی ترویج کو بند کرنا چاہیے اور کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے، اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کو اپنی فوجیں ہمارے علاقوں سے نکالنی چاہیئں۔‘‘
مقبول بٹ کی پارٹی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر چیپٹر کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ آج مقبول بٹ کے فلسفے کو وہ لوگ بھی مان رہے ہیں، جو ان پر ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے تھے، ''مقبول بٹ سرحد کے دونوں اطراف آج سب سے مقبول اور ہر دلعزیز لیڈر ہیں۔ ان کا فلسفہ صرف کشمیریوں کے لیے نہیں تھا بلکہ بھارت اور پاکستان کے مظلوم عوام کے لیے بھی تھا، جن کو حاکم طبقات نے تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی سے محروم رکھا ہوا ہے اور سارے پیسے ہتھیار اور فوجوں پر لگائے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک ہماری خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیر سے فوجیں نکالیں تاکہ خطے کے ایک ارب سے زیادہ انسان ترقی و خوشحالی دیکھ سکیں اور ایٹمی جنگ کے خوف سے نجات پا سکیں، جس کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔‘‘
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشمیری قوم پرست اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کے رہنما میر افضل کا کہنا ہے کہ مقبول بٹ کا مشن منقسم کشمیر کو متحد کرنا تھا، ''لیکن اس میں رکاوٹ صرف نئی دہلی کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اسلام آبادکی طرف سے بھی ہے۔ اسلام آباد نے بھی اسٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کر کے کوئی کشمیریوں سے دوستی کا ثبوت نہیں دیا۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ کشمیریوں کی خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان پر مشتمل ایک آزاد ریاست قائم کرے اور کشمیریوں کو اپنی آزادی کی لڑائی خود لڑنے دے کیونکہ کشمیری نہ بھارت سے الحاق چاہتے ہیں اور نہ اسلام آباد کے ساتھ۔ ان کی منزل آزادی ہے۔‘‘
Pakistan | Demonstration Kaschmirische Nationalisten (DW/A. Sattar)
پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں معروف کشمیری قوم پرست رہنما مقبول بٹ کی چھتیسویں برسی کے موقع پر قوم پرست تنظیموں کے رہنماوں نے اسلام آباد پر زور دیا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر ایک خود مختار کشمیری حکومت بنائی جائے اور اس کا اسلام آباد میں ایک سفارت خانہ کھولا جائے تاکہ وہ کشمیرکا مقدمہ خود عالمی سطح پر لڑ  سکیں۔
 پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف شہروں، بشمول مظفر آباد، باغ، میر پور، کوٹلی، کھوئی رتہ اور راولا کوٹ میں آج کی دن کی مناسبت سے ریلیاں نکالی گئیں، جہاں مقررین نے خودمختاری کے حق میں پر جوش نعرے لگائے اور پاکستان سے الحاق کی باتیں کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا۔ کئی مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر مقبول بٹ کی تصویریں آویزاں تھیں۔ جموں وکشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور جموں کشمیر لبریشن اسٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت کئی طلبا تنظیموں کے کارکنان نے ایسی شرٹیں پہنی ہوئیں تھیں، جن پر مقبول بٹ کی تصویریں پرنٹ کی گئی تھیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خود مختاری کے نعرے لگانے والی تنظیموں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن کئی ناقدین کا خیال ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر پاکستان کی ریاست نے ان تنظیموں پر ماضی جیسی سختیاں بند کر دی ہیں۔ مختلف جلسوں میں مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیر کا حل کسی جہاد یا جنگ سے ممکن نہیں بلکہ پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی کشمیر کو آزادی و خودمختاری حاصل ہو سکتی ہے۔
مقبول بٹ پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دونوں حصوں میں رہے۔ وہ انیس سو اڑتیس میں کپواڑہ میں پیدا ہوئے۔ گریجویشن کشمیر سےکی اور پھر انیس سو اٹھاون میں وہ پاکستان آ گئے اور یہاں صحافت سے وابستہ ہوئے۔ مقبول بٹ انیس سو اڑسٹھ میں دوبارہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر گئے، جہاں وہ پکڑے گئے لیکن وہ انیس سو انہتر میں جیل توڑ کر فرار ہو گئے اور واپس پاکستان پہنچ گئے۔ اس کے بعد ان کا نام دنوں ممالک کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں آیا۔
Pakistan | Demonstration Kaschmirische Nationalisten (DW/A. Sattar)
بعدازں کچھ کشمیری نوجوانوں نے بھارت کا ایک طیارہ ہائی جیک کیا۔ مقبول بٹ کو اس ہائی جیکنگ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا۔ ان پر مقدمہ چلا اور برسوں کی قید سے رہائی پانے کے بعد وہ انیس سو چھہتر میں ایک بار پھر بھارت کے زیر انتظام کشمیر چلے گئے، جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور گیارہ فروری انیس سو چوراسی کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ کشمیری قوم پرستوں کا دعوی ہے کہ مسئلہ کشمیر مقبول بٹ کے دیے گئے فارمولے ک تحت ہی حل ہو سکتا ہے۔ مقبول بٹ کے سیاسی شاگرد اور ان کے ساتھ جیل میں ایک سال گزارنے والے ہاشم قریشی، جن کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہے، کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے ایک ارب سے زیادہ انسان جنگ کی آگ سے بچ سکتے ہیں اگر وہ اس فارمولے پر عمل کریں۔ نئی دہلی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مقبول بٹ نہ پاکستان کی غلامی چاہتے تھے اور نہ ہندوستان کی۔ وہ چاہتے تھے کہ کشمیر ایک خودمختار ملک بنے، جس میں مسلمان، ہندو، سکھ اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھائیوں کی طرح رہیں۔ لیکن یہ بات نہ پاکستان کو پسند تھی اور نہ بھارت کو۔ اسی لیے مجھے اور مقبول بٹ کو پاکستان میں بھارت کا ایجنٹ کہا گیا اور بھارت میں پاکستان کا ایجنٹ کہا گیا۔ ہم نے دونوں ممالک میں جیل کاٹی۔‘‘
پاکستان اور اس کے زیر اتنظام کشمیر میں برسوں تک جہادی تنظیمیں کشمیر کا حل مسلح جدوجہد میں بتاتی رہیں لیکن ہاشم قریشی کا خیال ہے کہ مقبول بٹ مذہبی بنیادوں پر لڑی جانے والی لڑائیوں کے سخت خلاف تھے، ''پاکستان نے جہادی تنظیموں کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچایا، جو صرف پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس نام نہاد جہاد سے کشمیری مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوئے۔ مقبول بٹ ایسی کسی بھی مذہبی تحریک کے شدید مخالف تھے۔ اور پاکستان کی جہادی پالیسی کی وجہ سے بھارت میں بھی انتہاپسند قوتیں مذہب کو استعمال کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پورے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ لہذا دونوں ممالک کو سرکاری سطح پر اس انتہاپسندی کی ترویج کو بند کرنا چاہیے اور کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے، اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کو اپنی فوجیں ہمارے علاقوں سے نکالنی چاہیئں۔‘‘
مقبول بٹ کی پارٹی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر چیپٹر کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ آج مقبول بٹ کے فلسفے کو وہ لوگ بھی مان رہے ہیں، جو ان پر ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے تھے، ''مقبول بٹ سرحد کے دونوں اطراف آج سب سے مقبول اور ہر دلعزیز لیڈر ہیں۔ ان کا فلسفہ صرف کشمیریوں کے لیے نہیں تھا بلکہ بھارت اور پاکستان کے مظلوم عوام کے لیے بھی تھا، جن کو حاکم طبقات نے تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی سے محروم رکھا ہوا ہے اور سارے پیسے ہتھیار اور فوجوں پر لگائے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک ہماری خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیر سے فوجیں نکالیں تاکہ خطے کے ایک ارب سے زیادہ انسان ترقی و خوشحالی دیکھ سکیں اور ایٹمی جنگ کے خوف سے نجات پا سکیں، جس کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔‘‘
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشمیری قوم پرست اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کے رہنما میر افضل کا کہنا ہے کہ مقبول بٹ کا مشن منقسم کشمیر کو متحد کرنا تھا، ''لیکن اس میں رکاوٹ صرف نئی دہلی کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اسلام آبادکی طرف سے بھی ہے۔ اسلام آباد نے بھی اسٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کر کے کوئی کشمیریوں سے دوستی کا ثبوت نہیں دیا۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ کشمیریوں کی خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان پر مشتمل ایک آزاد ریاست قائم کرے اور کشمیریوں کو اپنی آزادی کی لڑائی خود لڑنے دے کیونکہ کشمیری نہ بھارت سے الحاق چاہتے ہیں اور نہ اسلام آباد کے ساتھ۔ ان کی منزل آزادی ہے۔‘‘

پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی: بےیقینی، بےروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ

اسلام آباد کے انڈسٹریل ایریا میں واقع سہالہ فلور اینڈ جنرل ملز کے مالک طارق صادق آج کل کاروبار میں سست روی اور آمدن میں کمی سے پریشان ہیں۔ آمدنی میں کمی کی وجہ سے انہوں نے حال ہی میں اپنی مل کے 45 افراد پر مشتمل عملےمیں کٹوتی کرکے پانچ افراد کو فارغ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر حالات ایسے ہی رہے تو جلد ہی وہ عملے میں مزید کمی لا سکتے ہیں۔

نہوں نے بجلی کا بل انڈپینڈنٹ اردو کو دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ بھی زیادہ آ رہے ہیں اور اب تو حکومت نے عندیہ دے دیا ہے کہ فلور ملز اور متوسط کاروبار کے لیے دی جانے والی سبسڈی بھی ختم کر دی جائے گی۔ ’بجلی اور گیس کا اضافی بوجھ ان دیگر اخراجات اور بڑھتے ہوئے محصولات کے علاوہ ہے، جو بس بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔‘
فلور ملز تو پھر بھی متوسط درجے کا کاروبار ہے جو مہنگائی میں اضافے کا بوجھ کسی حد تک برداشت کر سکتا ہے اور آٹے کے قیمتوں میں کمی بیشی کے لیے لابنگ بھی کرسکتا ہے لیکن گیس اور بجلی کے بلوں سے براہ راست متاثر ہونے والے چھوٹے کاروبار، جیسے ہوٹل کے لیے حالات اور بھی بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ مجبوری کے تحت پہلے سے غیر رسمی شعبے میں موجود مزدوروں اور بیروں کی تعداد میں کمی کر کے بیروزگاری میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ رجحان بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
ادھر سٹیٹ بینک نے بھی آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گذشتہ روز مہنگائی دگنی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ بینک کا کہنا تھا: ’ایک سال میں مہنگائی کی شرح 3.8 سے بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق گذشتہ تین ماہ میں خوراک، ایندھن اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں کافی اضافہ ہوا۔ تاہم زیادہ خطرے کی بات بینک کی جانب سے آئندہ سال مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کی پیشگوئی ہے۔
وفاقی کابینہ کا ایک اجلاس آج وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں توقع ہے کہ ملک کی مجموعی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کاجائزہ لیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اجلاس کوآئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔
انڈپینڈنٹ اردو نے متعدد ہوٹلوں کے مالکان سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ گیس کے بل اب 20 یا 25 ہزار کی بجائے 80 ہزار روپے سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ جی 8 میں واقع ایک ہوٹل کے مالک سہیل گجر کا کہنا تھا کہ اضافی بلوں کا رجحان پانچ ماہ سے چل رہا ہے اور کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ ’مزدوروں کو کام نہ ملنا تو دور کی بات، اب ہمارا اپنا روزگار بھی خطرے میں ہے کیونکہ قیمتیں بڑھانے سے سیل پر اثر پڑے گا۔‘
لیکن یہ رجحان اسلام آباد تک محدود نہیں اور نہ صرف چھوٹے کاروبار ان حالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ غیر واضح پالیسیوں کی وجہ سے ایسی صنعتیں بھی تذبذب کی وجہ سے اعتماد کھو رہی ہیں جن کا انحصار مصنوعات کی برآمدات پر ہے اور جو کچھ عرصہ قبل تک اچھا خاصہ منافع بھی کما رہے تھے۔
پاکستان کی ہوزری سے وابستہ صنعت کی کارکردگی منافع کے لحاظ سے ابھی تک بہتر رہی۔ لیکن موجودہ حالات کی پیش نظر اس صنعت سے وابستہ لوگ بھی بےاطمینانی کا شکار ہیں۔ فیصل آباد میں پاکستان ہوزری مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین میاں کاشف ضیا نے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہمیں جو عندیہ ملا ہے وہ یہ ہے کہ بلوں اور ٹیکسوں کا مزید بوجھ ہوزری کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ اس سے پاکستانی مصنوعات باہر ممالک کے مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرسکیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے حال ہی میں وزیر خزانہ حفیظ شیخ سے کراچی میں ملاقات کی اور ان کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا لیکن بہتری کے آثار کم ہی ہیں۔ اس قسم کا تذبذب اور غیرواضح صورتحال کا سامنا تقریباً پاکستان کی اکثر صنعتیں کر رہی ہیں جو معاشی نقطہ نظر سے کسی بھی کاروبار کے لیے ایک خطرناک صورتحال ہوتی ہے اور سرمایہ کاری کے لیے زہر قاتل۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض کاروبار مثال کے طور پر سریے یا سیمنٹ کی صنعت تو پہلے سے مشکلات کا شکار ہے کیونکہ ایک تو ملک میں تعمیرات سست روی کا شکار ہیں اور دوسری وجہ خطے میں کشیدگی ہے جس سے سیمنٹ کے خام مال کی برآمدات پر بہت منفی اثر پڑا ہے۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنس ایند ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہر معاشیات ڈاکٹر ظفر محمود کا کہنا ہے کہ نہ صرف برآمدات بلکہ درآمدات کے متعلق بھی حکومت کی پالیسی تضاد کا شکار نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت ایک طرف تو نئی تعمیرات کی بات کرتے نہیں تھکتی اور دوسری جانب الیکٹرک مشینوں اور تعمیراتی مشینری کی درآمدات کم ہو گئی ہیں۔
انڈپنڈنٹ اردو نے سرکاری موقف جاننے کے لیے چیئرمین انویسٹمنٹ بورڈ ہارون شریف سے رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اور دیگر عوامل کی وجہ سے کاروبار کے اخراجات پر اثر تو پڑے گا لیکن ایسے میں معاوضے کے طور پر کچھ اور اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ’اس حوالے سے بورڈ نے حکومت کو تجاویز دی ہیں، اب کاروبار میں آسانی کے لیے کیا اقدامات ممکن ہو سکتے ہیں، یہ فیصلہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق رواں مالی سال مجموعی ملکی پیداوار  کی نمو کم ہوکر 3.29 فیصد پر آ چکی ہے۔  اس سال بنیادی شعبوں (جس طرح زراعت، مینوفکچرنگ اور تعمیرات)  کی کارکردگی زیادہ بہتر نہیں رہی۔ صرف گندم کی پیداوار قدرے بہتر رہی۔ اس سال روپے کی قدر میں بار بار کمی آئی، فی کس آمدن کم ہوئی، اور ڈالر کے اعتبار سے قومی معیشت سکڑ گئی، سرمایہ کاری میں منفی رجحان سامنے آیا، جبکہ قومی بچت اور برآمدات بھی کم ہوئیں۔ پاکستان کے قرضوں کا حجم بھی بڑھا ہے۔ تاہم کچھ مثبت رجحان  جیسے کہ کرنٹ اکاونٹ اور تجارتی خسارے میں کمی بھی سامنے آئی ہے۔ ایسی حالت میں پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف یا پھر عالمی بینک اور دوست ممالک سے مدد پر انحصار کرنا پڑا
عام اشارے یہی ہیں کہ اس صورتحال نے مہنگائی کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کے خدشات اور ملک میں بے روزگاری میں اضافہ کیا ہے۔ پچھلے چند مہینوں کے اعداد و شمار تو موجود نہیں لیکن پاکستان ورکرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل ظہور اعوان کا کہنا ہے کہ پچھلے چند مہینوں میں ان کی انجمنوں کی طرف سے زیادہ تعداد میں مزدوروں کے بیروزگار ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ ’نجی شعبہ میں تو شاید ہی کوئی صنعت ایسی ہو جس نے کارکن فارغ نہ کئے ہوں، صرف میڈیا کی صنعت میں ہزاروں لوگ بےروزگار ہوئے ہیں۔‘
ڈاکٹر ظفر محمود کا کہنا ہے کہ بےروزگاری17 سے 18 فیصد رہی جس کا مطلب ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ بےروزگاری سے گزر رہے ہیں اور ایسی حالت میں معاشی دباؤ بھی بڑھا ہے۔
20 مئی کو بلاول ہاؤس، اسلام آباد میں ملک کی تقریباً تمام اپوزیشن جماعتیں سیاسی افطار پارٹی کے میں اکٹھی ہوئیں۔ افطاری کے بعد مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سمیت شرکا نے عید کے بعد کل جماعتی کانفرنس بلانے اور مہنگائی و بیروزگاری کے خلاف احتجاج شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
دی فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس انڈسٹری کے صدر دارو خان اچکزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں تو بہرحال کاروبار و روزگار پر اثرانداز ہو رہی ہیں، حکومت کی کئی جگہوں پر پالیسی بھی واضح نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کاروبار و تجارت میں آسانی کے لیے فیڈریشن نے حکومت کو تجاویز دی ہیں جن پر ابھی تک کوئی واضح پالیسی سامنے  نہیں آئی ہے۔
اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اتحاد بنانے کی بات ایک ایسے وقت میں کر رہی ہیں جب بگڑتی معاشی صورتحال کی وجہ سی عوام پریشانی کا شکار ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر حکومت کے لیے معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ سیاسی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ دنوں کراچی میں تاجر برادری سے ملاقاتیں کیں اور انہیں یقین دلایا کہ معیشت میں آئندہ چند ماہ میں بہتری کے امکانات ہیں۔ انہوں نے بےروزگاری کے خاتمے کے لیے بھی کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیت بڑھانے کی تربیت کا بندوبست کیا جائے گا۔

Monday, February 10, 2020

Video - Bernie Sanders takes the lead in new national poll

Video Report - Trump called senator a 'munchkin.' Watch his response.

Video - Brad Pitt: Award Acceptance Speech | 26th Annual SAG Awards | TNT

Video - Oscar Winner Brad Pitt Full Press Room Speech | THR

Opinion: The Urgent Questions Scientists Are Asking About Coronavirus



By Gabriel Leung
Let’s start with what we don’t know.
Dr. Leung is an infectious disease epidemiologist and dean of medicine at the University of Hong Kong.
Around the world and around the clock, scientists are trying to figure out what must be done to end the global health emergency unleashed by the new coronavirus. As the outbreak accelerates and spreads, dozens of countries have deployed increasingly stringent measures to try to contain the epidemic. Almost as quickly, in a herculean effort, an international network of researchers at data and wet laboratories has started gathering and analyzing data to unmask and disarm this perplexing new disease.
In magnitude, scale and velocity, this coronavirus, known as 2019-nCoV, is too big a problem for any one team to solve. On Monday, China reported its largest single-day death toll, 97, pushing the total reported dead worldwide to 910, with more than 40,500 people infected on four continents.
On Tuesday, I’m joining my fellow scientists at the World Health Organization headquarters for an urgent meeting to piece together, like a giant jigsaw puzzle, our findings so far. We need to get a clear view of the contagion and plug the holes in our understanding of the disease to inform public health decisions that affect hundreds of millions of lives. Science has a critical role to play in restoring calm.
Let’s start with what we know. The new coronavirus is a close cousin of viruses that infect bats. It jumped from an unconfirmed wild source (most likely bats) to an intermediate host, possibly pangolins or other small mammals, being sold as food at a market in Wuhan, a transportation and commercial hub in central China. The infected people unknowingly spread it to others, setting off the outbreak’s deadly journey. We now estimate that it takes about five to six days — possibly upward of 14 days — for someone to show symptoms after becoming infected.
What do we most need to know next? For epidemiologists who track infectious diseases, the most pressing concerns are how to estimate the lethality of the disease and who is susceptible; getting detailed information on how it spreads; and evaluating the success of control measures so far.No. 1 is the “clinical iceberg” question: How much of it is hidden below the surface? Because the outbreak is still evolving, we can’t yet see the totality of those infected. Out of view is some proportion of mildly infected people, with minor symptoms or no symptoms, who no one knows are infected.
A fleet of invisible carriers sounds ominous; but in fact, an enormous hidden figure would mean many fewer of the infected are dying. Usually, simple math would determine this “case fatality” ratio: divide the total number of deaths by the total number of people infected. In an emerging epidemic, however, both numbers keep changing, and sometimes at different speeds. This makes simple division impossible; you will invariably get it wrong.
In 2003, during the early days of the SARS outbreak, the medical community got the math wrong. At first, we believed that case fatality hovered between 2 percent and 3 percent. It took two pages of longhand algebra, written in Oxford, England, coded into a computer in London and then applied to data from Hong Kong, to get it right. The actual case fatality for Hong Kong was staggering: 17 percent.
That’s not to suggest we’re facing as dire a scenario now. Several groups, including mine, are each using our own methods to calculate a preliminary estimate of the new virus’s lethality. If there’s near agreement among our findings, expected within the week, we’ll be more confident in describing the new coronavirus. Does it resemble the seasonal flu, SARS or one of the largest plagues in human history, the 1918-19 “Spanish flu” pandemic?
Knowing the number of people likely to die, or who get seriously sick or have zero symptoms, will help health authorities determine the strength of the response required. They can better estimate how many isolation beds, heart-lung machines and medicines, among other things, are needed.Last month, to start understanding the severity of this illness, my team assisted Chinese experts in analyzing the initial 425 confirmed cases of infection. We learned that 65 percent of people had neither visited a market nor been exposed to another person showing pneumonialike symptoms, which implied, among other things, the possibility that some infected people don’t suffer from obvious symptoms — meaning the illness isn’t always severe.Along with getting a grasp on the level of severity is figuring out susceptibility, or who is most at risk for infection. The data so far indicates that this would include older adults, the obese and people with underlying medical conditions. There are few reports of children becoming infected. But are they not showing symptoms, or are they immune? And could they infect others as silent carriers? We must study those under 18 to find out; the answers could help us fine-tune public health measures. For example, should schools in China and Hong Kong remain closed?
Returning to the big picture, we must also refine what we know about how the new coronavirus is passed between people. Even as the outbreak appears to keep escalating, we believe the rapid — sometimes necessarily draconian — response of governments and health authorities has made a dent in transmission. In another recent study, we estimated how many people could get infected if there were no drastic public health interventions. Our goal with this report was to sound the alarm over what could be, so that it wouldn’t be.
Scientists are working toward quantifying effectiveness of the response. We need to find out if the virus’s basic reproductive number, the R0 or R-naught, has dropped. While our earliest estimates showed that typically every person infected by the new coronavirus passes it to 2 to 2.5 others, it’s still too early to know if measures have reduced the number to below the critical threshold of 1.
Simultaneously, we’re closely watching the rest of the world for any large, sustained outbreaks that might resemble ground zero in Wuhan. We expect more clarity within days or weeks. As of Monday, the largest concentration of infected patients in a single location outside mainland China, at more than 130 people, is on a cruise ship, the Diamond Princess, quarantined at Japan’s Yokohama port.
Finally, scientists need to appraise the control, or social distancing, measures deployed since the outbreak began. The challenge involves trying to quantify how many infections were actually prevented through measures such as wearing masks, closing schools and locking down cities. One possible approach to this assessment in China could involve using location services data from cellphones.

اقتدار مشکل فیصلوں کا نام ہے - احسان اللہ احسان پاکستان کی تحویل سے فرار ہو گیا ہے

ماریہ میمن
دو ہفتے قبل، اڑتے اڑتے یہ خبر کانوں سے گزری کہ احسان اللہ احسان پاکستان کی تحویل سے فرار ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے، یہ بات سن کر پہلے تو جھٹکا سا لگا اور ہرگز یقین نہیں آیا۔ اتفاق سے، اس وقت دوسینیئر صحافیوں کے ساتھ شو کی ریکارڈنگ کرا رہی تھی۔ ساتھ بیٹھے ایک باخبر سینیئرصحافی سے جب اس بات کی تصدیق چاہی تو انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ یہ خبر ہم دے نہیں سکتے۔
بہرحال دل پھر بھی نہیں مانا، کہیں نہ کہیں ذہن میں یہ خیال تھا کہ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے لیکن ابہام دور ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ جلد ہی  احسان اللہ احسان کی مبینہ آڈیو ٹیپ مارکیٹ میں آ گئی اور اس کے اڑتالیس گھنٹے بعد باضابطہ تصدیق بھی ہو گئی۔ کیا ہوا، کیسے ہوا ، کب ہوا۔۔۔ یہ کوئی پوچھے گا اور نہ ہی کوئی احساس جوابدہی کہیں دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر داخلہ اور وزیر قانون نے آن ریکارڈ اس کاروائی سے لاتعلقی کا اظہار کر کے اپنی جان چھڑا لی۔ اب زیادہ سے زیادہ سوشل میڈیا پر تین چار دن شور ہوگا، چند ہیش ٹیگ چلوائے جائیں گے اور پھر  کوئی اور واقعہ ہماری توجہ اپنی جانب کھینچ لے گا ۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا!

اس بات سے انکار نہیں کہ ریاستوں کی مجبوریاں ہوتی ہیں، وسیع تر قومی مفاد میں کبھی نیشنل سکیورٹی کے کچھ پہلو منظر عام پر لانا ممکن نہیں ہوتا لیکن  جہاں اے پی ایس جیسے سانحات نےعوامی رائے عامہ اور جذبات پر گہری چھاپ چھوڑی ہو، وہاں کچھ سوالات کے جواب دینا اشد ضروری ہو جاتا ہے۔ 
ایک طرف قومی سلامتی کے معاملات ہیں جہاں پر سوالات بے تحاشا تو جوابات کی قلت ہے اور دوسری طرف سیاست کا میدان  ہے جس پر ہر کوئی بے لاگ تبصرہ بھی کرتا ہے اور اندازے بھی لگاتا ہے۔ ان دونوں معاملات کا بظاہر آپس میں تعلق نظر نہیں آتا  لیکن اگر غور کریں تو ایک لحاظ سے گہرا تعلق ہے بھی۔
اس میں بحیثیت قوم ہمارے اجتماعی رویوں کی جھلک ملتی ہے. خاص طور پر فیصلہ سازی میں رابطےکے اس جھول کی ۔۔۔جس کی شکایت کم و بیش ہر سیاسی حکومت کو رہی ہے۔ یہ بھی اندازہ ہو جاتاہے کہ دور اندیشی کا فقدان ہمارا مجموعی مزاج ہے اور ایڈہاک طریقے سے معاملات چلانے کا طریقہ ہرشعبے میں نمایاں ہے۔ عوام کے جذبات کی ترجمانی سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے مگر ان  کی سکت اور استطاعت کا بھی معلوم ہو جاتا ہے اور سول سوسائٹی کتنے پانی میں ہے اس کا بھی اندازہ ہوگیا ہے۔
جہاں پر بنیادی معاملات کا ہی ابھی تک تعین نہیں ہو سکا وہاں پیچیدہ اور نازک مسائل کیا حل ہوں گے۔ جہاں سیاسی جماعتوں کے اپنے ہی گھر شکست و ریخت سے گزر رہے ہیں وہاں قومی مسائل خود ہی پس و پشت چلے جاتے ہیں۔
اب خود ہی دیکھ لیں کہ کس طرح ملک کی دو بڑی جماعتیں فی الحال اپنے اندر ایک ارتقائی عمل سے گزر رہی ہیں۔ تحریک انصاف اس وقت اڑان کے  پونے دو سال بعد سیاسی ایئر پاکٹس میں پرواز کو نا ہمواری سے بچانے کے لیے کوشاں ہے۔ ساتھ ساتھ قیادت اپنی پارٹی پر گرفت رکھنے کی تگ و دو بھی کر رہی ہے۔ فیصلہ سازوں کے کنارہ کش ہونے کے واضح اشارے سامنے آچکے ہیں جس کا آسان پیمانہ میڈیا میں ایک خاص حلقے کے بدلے بدلے لہجے ہیں۔
دوسری طرف نواز لیگ نظریاتی گیئر بدل کر اب تابعداری گیئر لگا چکی ہے۔ ن لیگ میں ہی ایک تگڑی رائے یہ ہے کہ اب چونکہ حالات سازگار ہیں اور اچھے دن آنے والے ہیں تو آگے بڑھ کر کسی ان ہاؤس تبدیلی میں تعاون کرنا چائیے۔ اقتدار پر گرفت مضبوط کرنی چاہیے اور اگلے انتخابات سے پہلے خاص طور پر پنجاب میں اپنے قدم دوبارہ جما لینے چائیے۔ دوسرا اپنے بل بوتے پر  نئے  انتخابات جیتنے کا بھرپور یقین ہے ۔ یہ گروپ پانچ سالہ  نقطہ نظر اور مڈ ٹرم الیکشن کے مطالبے پر زوردینے کے حق میں ہے۔  انہیں تحریک انصاف کی غیر متاثرکن کارکردگی کے باوجود  نئے مینڈیٹ کے تحت ہی اقتدار میں شراکت داری قبول کرنا چاہتا ہے۔ فی الحال کون سے کیمپ کا موقف قیادت کی حکمت عملی میں تبدیل ہوتا ہے اس کا جواب جلد ہی مل جائے گا۔
کچھ عرصہ پہلے جب لکھا کہ آپریشن تبدیلی کے رول بیک پر غور و فکر کا آغاز ہو چکا ہے تو یہ بات پی ٹی آئی میں کچھ لوگوں کو ناگوار گزری لیکن حقیقت یہی ہے کہ سال 2019 کے اوائل سے ہی اس کے بارےمیں سنجیدہ غور شروع ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ وہ غیر یقینی صورتحال جو اس حکومت نے پیدا کی ہے۔ جو معاشی میدان میں بھی ہے اور انتظامی شعبہ میں بھی۔ الزام تراشی صورتحال کا وقتی توڑ تو ہو سکتی ہے چاہے وہ سابق حکومت کے خلاف ہو ، ’منفی‘ سوچ والے میڈیا پر ہو یا پھر حکومت کےخلاف سازشوں کے ذکر کی صورت میں ہو لیکن یہ چیلنجز کا موثر اور دیر پا حل  ہر گز نہیں ہے۔
غور کرنے کی البتہ بات یہ ہے کہ محلاتی سازشیں آخر کس کے خلاف نہیں ہوتیں۔ اقتدار کی غلام گردشیں ہمیشہ ہی سازشوں کا گڑھ ہوتی ہیں ۔ حکومت انہی سازشوں کے بیچ اپنا راستہ نکالتی ہے۔ ڈیڑھ سال شاید تحریک انصاف کی کارکردگی کا تعین کرنے کے لیے طویل عرصہ نا ہو مگر اس سے حکومت کی سمت اور سنجیدگی کا ضرور پتہ چلتا ہے ۔
احسان اللہ احسان سے لے کر سیاسی غیر یقینی تک  سارے واقعات سے ایک بات تو واضح ہے کہ  اقتدار مشکل فیصلوں کا نام ہے چاہے وہ سیاست میں ہوں یا قومی سلامتی میں۔ کوئی بھی حکومت خود غیرحاضر ہو کر اپنے مشکل فیصلے آؤٹ سورس یا نظر انداز نہیں کر سکتی۔ انہی مشکل فیصلوں کے دوران اس کو گورننس بھی کرنی ہے اور مستقبل کے لیے وراثت بھی چھوڑنی ہے۔ تحریک انصاف کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان کی سیاسی وراثت کیا ہے؟ اب تو یہ خوف بھی سامنے ہے کہ کہیں یہ حکومت تاریخ میں صرف مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بدحالی کے لیے ہی یاد رکھی جائے اور تاریخ کے اوراق میں جب پی ٹی آئی  کا ذکر آئے تو ذہن میں نام آئے ’غیر حاضر حکومت‘۔

Imran Khan’s Naya Pakistan arrests PTM rights activists & signs peace treaty with Taliban

JAHANZEB HUSSAIN

PTM's cause is Pakistan's cause. It is only asking for what’s in the Constitution, but the establishment has nothing to gain by implementing the Constitution.

Last week was yet another instance in Pakistani history when rights activists were arrested for peaceful assembly and protest — rights that are guaranteed under the Constitution.
On January 27, it was Manzoor Pashteen, the charismatic leader of the Pashtun Tahafuz Movement (PTM). On January 30, it was the turn of 23 activists as they protested Pashteen’s arrest outside the Islamabad Press Club. Among the 23 were well-known writers and activists such as Ammar Rashid and Ismat Shahjahan.
The full charge-sheet against Pashteen looks like this: Section 506 (punishment for criminal intimidation), 153-A (promoting enmity between different groups), 120-B (punishment of criminal conspiracy), 124 (sedition), and 123-A (condemning the creation of the country and advocating the abolishment of its sovereignty).
Pashteen had made some remarks in his speech during a peaceful gathering in Dera Ismail Khan that resulted in state action. The Islamabad protestors were booked for unlawful assembly, rioting — and sedition.
The Islamabad High Court (IHC) granted post-arrest bail to those arrested in the Federal capital, and the judge was informed that the treason charge was replaced by an anti-terrorism charge.
The charges laid against Pashteen and those in Islamabad are, to put it mildly, baseless. It’s not clear what exactly Pashteen said that constituted the crimes he has been accused of — the state has not presented the evidence — while no rioting took place in Islamabad. As for protesting outside press clubs, it is a time-honoured Pakistani tradition that even the right-wing engages in.
One might expect a nuclear-armed state to be unbothered by a small number of citizens peacefully voicing dissent — but any speech of such nature acquires dangerous proportions for a state whose rule is founded on rights violations; when violations are the norm and not the exception. Such a state can only reaffirm its rule by further injustices.
It is not that the state does not know how to negotiate differently. It knows very well how to open dialogue — just ask the Pakistani Taliban with whom it signed peace treaty after peace treaty despite the former’s bloodletting across the country and total rejection of the Constitution; or Tehreek-e-Labbaik Pakistan (TLP), whose workers were given pocket money to end their long sit-in that blocked Islamabad not long ago.
The reason why the state turns to direct coercion against a group like PTM or the Islamabad protestors is that it does not share common ground with them; whereas the Taliban and TLP were long of use to the state for reasons well known. The state only sought to eliminate Taliban when they became too independent, and the same can be said of TLP who have come under judicial pressure recently. Pashteen and those arrested for protesting his arrest, on the other hand, are not of the same political use.
PTM is only asking for what’s in the Constitution, but the state has nothing to gain by implementing the Constitution. For if it were to do so for PTM, tomorrow the Baloch might ask for the same; Mohajirs in Karachi and Sindhis, too, might want to resort to law against extrajudicial killings, kidnappings, and denial of a free and fair trial.
Setting a precedent for accountability would come at too great a cost for a state that has, since its inception, launched five military operations in Baluchistan, three in Karachi — and not to mention the genocidal civil war in former East Pakistan. Correcting past crimes of this magnitude implies course correction going forward, but the future does not look too different. For businesses to continue as usual, the country’s path will have to be dictated by the state, not the people.
PTM is criticized for being ‘ethnically exclusive’ but the charge is disingenuous: the demand to implement the Constitution is not an ‘ethnic demand’ but a citizens’ right. And since the Pashtun experience overlaps with that of all other minorities (and in the case of East Pakistan, majority), the issue is national.
The state, which otherwise ignores the Constitution — or, in the words of former dictator General Musharraf, considers it a piece of paper to be thrown in the bin — is all too happy to uphold it to charge Pakistanis with sedition when convenient. This cherrypicking is in line with how Pakistanis are generally treated by the state: they are asked to be loyal, but are offered no respect in return. Before the state demands allegiance from ethnic minorities, it should ask what reason has it given to them to begin with. When asking for Constitutional rights earns them the label of ‘anti-national’, what are they supposed to be loyal to?
PTM’s cause is the cause of Pakistanis. It’s an exercise in reimagining a country that has failed to equitably accommodate ethnic difference and has only dealt with it through violence to suppress it. A more just History cannot be created without the voice of the oppressed. The state knows this, which is why it wants to silence it. For now, there’s some semblance of sanity after the IHC decision, but it would be shortsighted to see it as a decisive victory. For a more fundamental shift, we need more Pashteens and more Islamabad protestors.

Runaway Taliban frontman: Ehsanullah Ehsan, the man and myth

OWAIS TOHID
I first met Malala Yousufzai after she was given the National Peace Award by the Pakistani government for her diary on BBC about life under the Taliban in Swat valley. I connected her with my daughter and the two of them chatted away on the phone while I looked on in amazement at the girl who courageously stood up to the Taliban.
Just a few months later, I was directing news coverage of an assassination attempt against her. Visuals poured in of her bullet-riddled school van, her bandaged face, of the military helicopter carrying her from Swat valley to Peshawar, eye witness accounts by her friends. The newsroom is no place for personal emotions, but I remember choking up when I got the phone call from the Taliban accepting responsibility. “Assalam-o-Alaikum. We, the Taliban, have shot the girl. She was propagating against the Mujahideen. She was becoming a tool of Jews and Christians. We did what we had to.”
The caller was Ehsanullah Ehsan, spokesman for the Pakistani Taliban.
Eights years have gone by. Malala fought for her life, went on to win the Nobel peace prize and become an ambassador for girls’ education. I fought cancer and survived. And Ehsanullah Ehsan surrendered to the state, didn’t face either prison or courts, and went on to escape from the custody of Pakistan’s security agencies.I first met Ehsanullah Ehsan some twelve years ago when I visited the Mohmand tribal belt, then a hotbed of militancy, bordering Kunnar and Nangarhar in Afghanistan and Khyber and Bajaur in Pakistan. At the time, Ehsan was still using his real name, Liaqat Ali of the Safi tribe. Years later he threatened to kill me unless the TV channel I was heading started referring to deceased Taliban Emir, Hakimullah Mehsud as ‘shaheed’ (martyr).
I vividly remember.
‘Why didn’t you call our respected leader a martyr?”
Eights years have gone by. Malala fought for her life, went on to win the Nobel peace prize and become an ambassador for girls’ education. I fought cancer and survived. And Ehsanullah Ehsan surrendered to the state, didn’t face either prison or courts, and went on to escape from the custody of Pakistan’s security agencies. Owais Tohid
Harsh words were exchanged and then a threat: “I can put four bullets in your forehead and kill you.” Ehsan entered the underworld of militancy as an apprentice to and spokesman of Taliban Emir Abdul Wali alias Omer Khalid Khorasani in Mohmand agency. Educated, technologically savvy and with a flair for languages – he spoke Urdu, Pushto, Arabic, Persian, and English – he later became the spokesman for the Pakistani Taliban under Hakimullah Mehsud when he became Emir of the militia after the death of Baitullah Mehsud. “I wanted to study law to become a lawyer but fate has brought me here. Now I will fight cases of Mujahideen as their lawyer,” Ehsanullah Ehsan told a group of journalists I was with. He institutionalized Taliban propaganda. Short films, videos of beheadings, Taliban songs were all produced under his command. A local tribal journalist states he witnessed how Ehsan roped in educated youth. “He sat there in his huge office with his Kalashnikov, handing over computer hard drives to university graduates and assigned them which TV channels to monitor including Al-Jazeera and CNN.”
It was Hakimullah Mehsud who asked him to use the name Ehsanullah Ehsan-- believed in Taliban circles to be the name of one of the first Mujahideen who ‘conquered’ Kabul in 1996, brutally murdering former Afghan president Dr. Najib and hanging his body from a traffic post. Under Hakimullah, he ran his setup from Miranshah, the district headquarters of North Waziristan. Ehsan became the coordinator for Al-Qaeda and foreign militants from Uzbekistan and Chechnya in the tribal belt, creating communication channels when their usual modes were in disarray because of US drone strikes. He also maintained close contacts with OBL’s son, Hamza bin Laden. When the massive military crackdown against militants was carried out in North Waziristan, Ehsan fled to Afghanistan with his old mentor, Omer Khorasani. They both splintered from the Pakistani Taliban and formed their own group, Jamaat ul Ahrar, which claimed several terror attacks. The Taliban commander who surrendered some three years ago was believed to have been kept in protective custody in Peshawar city where he lived with his family. He reportedly enjoyed the Internet and mobile phone facilities and even had a child from his second wife. One Peshawar based tribal journalist says he spoke to Ehsan a few months ago.
“I was at a music performance at Peshawar Press Club and a friend handed me his phone saying someone wants to talk to you. I was shocked to hear Ehsanullah Ehsan, I’ve met him enough times to know his voice. He said to me: ‘You are enjoying pop songs, you should listen to revolutionary songs and poetry as well,’” the journalist narrates.
Now, Ehsan has fled once again. While officials, both military and civilian, have remained silent on the issue, unnamed sources quoted in the news media say he escaped during a sensitive intelligence operation, implying confirmation of his escape. His getaway has raised questions about how such a high-value Taliban commander managed to escape and has triggered many conspiracy theories. Meanwhile, he has set up a new Twitter account to start his communications afresh. All the while, parents who lost their children in the APS schoolchildren massacre in Peshawar look on, furious as they reflect on the lifelong pain and agony the Taliban have inflicted on their lives.
https://www.arabnews.pk/node/1625741

’مشرف کے فارم ہاؤس کو بھی یتیم خانہ بنائیں گے؟‘


پنجاب حکومت نے دو روز قبل سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل تو کیا لیکن اس محل نما گھر میں 21 بے گھر افراد صرف دو راتیں ہی گزار سکے۔
پناہ گاہ کے ضابطے کے مطابق یہاں صرف رات گزارنے کی اجازت ہوتی تھی اور شام کا کھانا اور صبح کا ناشتہ بھی فراہم کیا جاتا رہا۔
تاہم اب عدالتی حکم پر اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ پر قیام کرنے والوں کو پیر کی رات یہاں گزارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
آج لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت پنجاب نے ان کے گھر کو غیر قانونی طور پر پناہ گاہ میں تبدیل کیا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے رہائش گاہ کی نیلامی کے خلاف حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے اور اس گھر کی احتساب عدالت کے حکم پر نیلامی کا عمل بھی روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔
درخواست کے مطابق: ’اس رہائش گاہ پر پناہ گاہ بنانے کا عمل بھی پنجاب حکومت کی جانب سے خلاف آئین اور خلاف قانون اقدام ہے جبکہ پنجاب حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔‘
عدالت نے درخواست پر سماعت کے بعد اسحٰق ڈار کے گھر، جو ان کی اہلیہ کے نام پر ہے، کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا اور پنجاب حکومت سے دس روز میں جواب طلب کرلیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بعض سیاسی شخصیات اور سینیئر صحافیوں کی جانب سے اسحٰق ڈار کے مکان کو پناہ گاہ بنانے کے اقدام کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اگر حکومت کو ایسا کرنا ہی ہے تو سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کو بھی شیلٹر ہوم بنایا جائے۔
سینیئر صحافی حامد میر نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا: ’اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں پرویز مشرف کا وسیع و عریض فارم ہاؤس بھی ضبط شدہ جائیداد ہے یہاں پر بھی ایک عظیم الشان شیلٹر ہوم بن سکتا ہے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی اسی بارے میں بات کرتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’اسحٰق ڈار کے مکان کو پناہ گاہ میں تبدیل کرکے عمران خان نے خود کو انتہائی گرا دیا ہے۔ کیا وہ ایک اور مفرور جنرل مشرف کے اسلام آباد میں فارم ہاؤس کو یتیم خانہ بنائیں گے؟‘
دوسری جانب اسحق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار کا کہنا تھا کہ ’جو ڈار صاحب کے ساتھ ہو رہا ہے وہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر کسی مفرور کے گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنا معمول کا عمل ہے، تو وزیر اعظم عمران خان صاحب کئی سال مفرور رہے۔ پرویز مشرف صاحب بھی ایک طویل مدت سے مفرور ہیں، ان کے ساتھ یہ سلوک تو نہیں ہوا!‘