Sunday, September 20, 2020

نواز شریف اور آصف زرداری کا خطاب: ’ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں‘ #UnitedForDemocracy


دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں کی


آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے جس سے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی خطاب کیا ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے جس سے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی خطاب کیا ہے۔

اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والی اس آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔

کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم)، جمعیت اہلحدیث اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شریک ہیں۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا ہے۔

اپنے خطاب میں آصف علی زرداری نے سب سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بلاول بھٹو کی دعوت پر اس کانفرنس میں شرکت کی۔

نواز شریف کا خطاب

نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہماری جد و جہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے اور ان کے خلاف ہے جنہوں نے اس نااہل بندے کو یہاں بیٹھایا ہے۔‘

’ہمارا مقابلہ ان کے خلاف ہے جو الیکشن چوری کر کے ان ناہلوں کو حکومت میں لائے۔ اب تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔‘

اے پی سی کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’اس کانفرنس میں جو بھی حکمت عملی بنائی جائے گی مسلم لیگ ن اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔‘

نواز شریف نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب کے آغاز میں سب سے پہلے آصف زرداری سمیت تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے دو لخت ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے بنائے گئے حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا وقت بھی آگیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں وطن سے دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا ہے اور عوام کن مشکلات کا شکار ہیں۔‘

 ’اس کانفرنس کا انعقاد بہت اہم موقع پر کیا گیا ہے، کیونکہ پاکستان کی خوشحالی اور صحیح جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بے باک فیصلے کریں۔‘

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا ہے، کبھی کوئی نمائندہ حکومت بن بھی جائے تو اسے ہر طرح کی سازش کے ذریعے سے پہلے بےاثر اور پھر فارغ کر دیا جاتا ہے۔‘

’پروا بھی نہیں کی جاتی کہ اس سے ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوگا، اقوام عالم میں جگ ہنسائی ہوئی اور عوام کا ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔‘

تحریک انصاف حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ملک کی معیشت ’زبو حالی‘ کا شکار ہے اور عوام کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’چند سال قبل بلوچستان حکومت کو گرایا گیا اور اس میں اس وقت کے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا نام بھی لیا جاتا ہے۔‘

’عاصم باجوہ کی دولت کی تفصیلات حال ہی میں سامنے آئی ہیں، جنہیں چھپانے کے لیے ایس ای سی پی نے اپنے ریکارڈز میں تبدیلیاں کیں۔ نہ نیب نے نوٹس لیا، نہ کوئی جے آئی ٹی بنی اور نہ کسی عدالت میں کارروائی ہوئی۔‘

میاں نواز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہدار کے حوالے سے بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’سی پیک کے ساتھ بھی بی آر ٹی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ کبھی بسوں میں آگ لگ جاتی ہے تو کبھی بارشیں سب پول کھول دیتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم معیشت کے علاوہ پاکستان کی مسلح افواج کو بھی مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، ہم نے ماضی میں یہ ثابت کیا ہے اور مستقبل میں بھی کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں بچے بچے کی زبان پر ہے کہ 73 سال کی تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔‘

نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’اکتوبر 2016 میں قومی سلامتی کے امور پر بحث کے دوران توجہ دلائی گئی کہ دوستوں سمیت دنیا کو ہم سے شکایت ہے ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہیں کہ دنیا ہم پر انگلی نہ اٹھائے تو اسے ڈان لیکس کا نام دیا اور ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جے آئی ٹی بنی اور مجھے غدار اور ملک دشمن بنا دیا گیا۔‘

نواز شریف کے اپوزیشن کی جماعتوں سے خطاب سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری نے اے پی سی سے ابتدائی خطاب کیا تھا۔

آصف زرداری کا خطاب

آصف زرداری نے کہا کہ ’اس تقریب کے بعد پہلا بندہ میں ہی جیل میں ہوں گا۔ مولانا صاحب آپ ضرور ملنے آیے گا۔‘

’یہ لوگ اوپر سے آ کر ہم پر قابض ہو گئے ہیں۔ ہم انھیں حکومت سے نکال کر جمہوریت بحال کر کے رہیں گے۔ ہم نے ان سے پاکستان کو بچانا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میری نظر میں یہ کانفرنس بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، مولانا نے اگر مجھے جیلوں میں نہ بھیجا ہوتا تو شاید میں پہلے آجاتا، مولانا کا کام ہی یہی ہے کہ کسی کو آسرا دے کر کہنا کہ چل میں آرہا۔‘

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے وہی آپ کی کامیابی ہے، یہ کیا ہے کہ نواز شریف کو براہ راست نہیں دکھا سکتے لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو دکھا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب سے ہم سیاست میں ہیں ہم نے کبھی اتنی پابندیاں نہیں دیکھیں، ایک چینل کے سی ای او کو جیل میں ڈالا ہوا جبکہ ایک چینل کو لاہور سے بند کیا ہوا ہے، یہ سب حکومت کی کمزوریاں ہیں، آج کل کی میڈیا کو بند کرنا یا رکھنا تقریباً نامکمل ہے کیونکہ آج کل ہر کوئی انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔‘

سابق صدر نے کہا کہ ’جمہوریت پر یقین رکھنے والے سب ناکام ہیں، ہمیں پیمرا کی ضرورت نہیں ہے، لوگوں کو پتہ ہے کہ وہ ہمیں سن رہے ہیں اور سنتے رہیں گے۔‘

آصف زرداری نے اپنے خطاب کے دوران مریم نواز شریف کو قوم کی بیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں (مریم نواز) نے کتنی تکلیف سہی ہوگی کیونکہ میری بہن اور بیوی نے بھی یہ سب کچھ دیکھا تھا۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے مقصد کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘

https://www.independenturdu.com/node/47826


Saturday, September 19, 2020

#NayaDaur #Malala #Pakistan Why Do Most Pakistanis Hate Malala?

Video - #PPP leaders address a press conference at Zardari House, Islamabad.

#NayaDaur #Sectarianism #Pakistan The Rising Sectarianism And Why It Must Be Stopped

پارلیمان میں ہم سے زبردستی بل پاس کروائے گئے: بلاول بھٹو زرداری

مونا خان نامہ نگار @mona_qau 


 جمعرات کو پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تمام چھوٹی بڑی

سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی دارالحکومت اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمان میں ان سے ’زبردستی‘ بل پاس کرائے گئے۔ جمعرات کو پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی نے ووٹ دوبارہ گننے کا مطالبہ نہیں مانا۔‘ انہوں نے کہ کہا کہ ’اگر ہماری آواز نہیں سنی جائے گی تو ہمیں بھی سوچنا پڑے گا کہ کب تک پارلیمان کو ربڑ سٹیمپ پارلیمان کے طور پر دیکھیں۔‘

 بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم سے 19ویں ترمیم زبردستی پاس کرائی گئی۔ ایک ادارے نے ہمیں دھمکی دی کہ ترمیم پاس نہیں کریں گے تو 1973 کے آئین کو اڑا کر رکھ دیں گے۔ سہیل وڑائچ نے درست ہی کہا کہ یہ کمپنی نہیں چلےگی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ سول لبرٹی کے حوالے سے ہم سب کو ایک ہی بیانیہ دینا چاہیے کہ ہم سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ ’ریاست مدینہ میں آپ ایک کتاب نہیں چھاپ سکتے، ایک ٹویٹ نہیں کرسکتے پارلیمان کے ممبران کے انٹرویوز نہیں کر سکتے۔ ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں اب ہم حساب چاہتے ہیں۔‘ دوسری جانب اسی اے پی سی میں موجود پشتون تخفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے کہا کہ ’ملک میں ایک ادارہ یہ عہد کرتا ہے کہ وہ سیاست نہیں کرے گا سب سے زیادہ سیاست وہی کرتا ہے۔‘ 

 محسن داوڑ نے عدلیہ پر بھی اعتراض کیا کہ ’عدلیہ کبھی ڈیم فنڈ کے نام پر اور کبھی ازخود نوٹس لے کر عوامی معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔‘

انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج جسٹس وقار سیٹھ کی حمایت میں کہا کہ ’ان کی سینیارٹی کونظر انداز کر کے لاہور سے جج لا کر لگا دیا گیا۔‘

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما شہباز شریف نے بھی عدلیہ کے حوالے سے ہی بات کرتے ہوئے کہا کہ’ارشد ملک جیسوں نے عدلیہ کو بدنام کیا ہے اور اس سے عدلیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے لاپتہ افراد کے معاملے پر بات کی اور کہا کہ ’پولیس کے علاوہ کسی اور ادارے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو غائب کرے۔‘

پاکستان بار کونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ اجلاس کے شرکا نے ’فوج کا سیاست کے بڑھتے ہوئے عمل دخل پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ فوج ملک کی سیاست میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔‘

اس کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کی ’ججز کی تقرری اور احتساب کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔


اے پی سی کے بعد متفقہ لائحہ عمل سامنے آئے گا، بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردار ی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کل ہماری اے پی سی میں آئیں گے، اے پی سی کے بعد متحدہ اپوزیشن کی حکمت عملی کل سامنے آ جائے گی۔

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

ملاقات میں کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بہت اچھا اور تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، مولانا فضل الرحمان کل ہماری اے پی سی میں آئیں گے۔

پیپلز پارٹی کے وفد میں یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف شامل تھے، جبکہ رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی، سینیٹر مولانا عطا الرحمان، ڈاکڑ عتیق الرحمان اور شاہ اویس نورانی , سینیٹر عبدالکریم بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ملاقات کے دوران دونوں وفود میں کل کی اے پی سی کے ایجنڈے اور اعلامیہ پر غور کیا گیا اور اے پی سی سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آصف زرداری کا بھی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ

نواز شریف کے بعد پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے بھی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے آصف زرداری کی شرکت کی تصدیق کردی۔

آصف زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی میں شریک ہوں گے، نواز شریف بھی گذشتہ روز بلاول کی دعوت پر اے پی سی میں ویڈيو لنک کے ذریعے شرکت پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔

حکومت مخالف اپوزيشن اتحاد کی آل پارٹیز کانفرنس کل پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہوگی

https://jang.com.pk/news/822292 

Friday, September 18, 2020

US Supreme Court Justice Ruth Bader Ginsburg dies at 87

The champion of liberal causes has died as a result of pancreatic cancer, the US Supreme Court said. "My most fervent wish is that I will not be replaced until a new president is installed," she said days before dying.

Veteran Supreme Court Justice Ruth Bader Ginsburg —a champion of progressive causes — died of pancreas cancer on Friday at the age of 87. She was the second woman to be appointed to the court.

"Our nation has lost a jurist of historic stature. We at the Supreme Court have lost a cherished colleague. Today we mourn, but with confidence that future generations will remember Ruth Bader Ginsburg as we knew her — a tireless and resolute champion of justice," said Chief Justice John Roberts Jr.

In July, Ginsburg announced she was undergoing chemotherapy treatment. She refused to step down during the treatment, the last among her several fights with cancer. 

Ginsberg had hoped that she would not succumb to her troubled health until US President Donald Trump would be out of office.

"My most fervent wish is that I will not be replaced until a new president is installed," she told her granddaughter Clara Spera days before passing away.

'Great loss to the nation'

For many in the US and elsewhere, she was a beacon for progressive takes on women's and minority rights.

"The passing of the great Justice Ruth Bader Ginsburg is a great loss to the nation," said civil rights activist Reverend Al Sharpton. "It is a tremendous loss to civil rights for all Americans. RIP RBG."

US media, citing undisclosed sources, suggested that Trump could already be working toward filling the vacant Supreme Court position. The process would be a reversal for Republicans, who lobbied against US President Barack Obama filling a vacant seat before the 2016 presidential election.

"The American people should have a voice in the selection of their next Supreme Court Justice. Therefore, this vacancy should not be filed until we have a new president," said Senate Democratic leader Chuck Schumer, quoting his Republican counterpart Mitch McConnell verbatim in the wake of Justice Antonin Scalia's passing in 2016.

Video Report - #Coronavirus #Covid19 #Tourism Coronavirus: How big is the damage to the tourism industry?

Video Report - Fierce backlash to Trump’s ‘Patriotic Education’ plan

Video Report - #US #USElection2020 US elections 2020: Ballot drop boxes installed across states

Video - Joe Biden speaks in Minnesota

#KhabarSayAagay #PMLN #NayaDaur Constitution, Free Speech, Democracy & How They're Violated

قبائلی لڑکیوں کی تعلیم، یہاں بھی جعلی استانیاں؟


رضیہ محسود 

تعلیم جو کسی ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے  قبائلی علاقے میں اس جدید دور کے ہوتے ہوئے بھی لوگ اس نعمت سے محروم ہیں خاص طور پر لڑکیاں۔

تعلیم جو کسی ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے  قبائلی علاقے میں اس جدید دور کے ہوتے ہوئے بھی لوگ اس نعمت سے محروم ہیں۔

لڑکیوں کے سکولوں میں حاضری اور خواتین اساتذہ کی صورت حال کیا ہے، اس پر گفتگو سے پہلے یہ سچا واقعہ پڑھیے۔

مجھے ایک  مانیٹرنگ سٹاف (سکول کا نظام چیک کرنے کے لیے مقرر چھاپہ مار سٹاف) نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'ایک دفعہ ایک سکول میں وزٹ ہوا وہاں پر جب دیکھا تو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بچیاں سکول میں موجود تھیں اور بتایا جا رہا تھا کہ استانیاں بھی آئی ہوئی ہیں اور کلاسوں میں پڑھا رہی ہیں۔ '

'وہ بچیاں کافی خوش نظر آ رہی تھیں جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم بڑی ہو کر ڈاکٹر بنیں گی اور ایک لڑکی نے میری طرف اشارہ کیا کہ میں بڑی ہوکر آپ کی طرح ٹیچر بنوں گی اور آپ کی طرح سکولوں میں جا کر بچیوں کی خبر لوں گی ۔'

اس نے بتایا کہ 'مجھے کافی خوشی ہوئی کہ چلو اچھا ہے کہ یہاں کی یہ غریب لڑکیاں بھی پڑھ لکھ جائیں گی تو ملک و قوم کا نام روشن کریں گی، مگر میری خوشی اس وقت دکھ میں بدل گئی جب میرا سامنا ان کی وہاں پر موجود استانیوں سے ہوگیا۔ '

'وہاں پر جو استانیاں ڈیوٹیوں پر موجود تھیں وہ اصلی استانیاں نہیں تھیں بلکہ ان استانیوں کی جگہ پر پانچ چھ ہزار روپے کے عوض ڈیوٹیاں کرنے والی وہاں کی غریب مقامی پرائمری پاس بچیاں تھیں۔'

'جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نام بتائیں تو انہوں نے اپنے نام نہیں بتائے بلکہ جن استانیوں کی جگہ وہ ڈیوٹیاں دے رہی تھی ان کے نام بتائے۔ جب میں نے ان میں سے ایک کی تعلیم کے متعلق پوچھا تو جواب ملا کہ میں نے بی اے کیا ہوا ہے حالانکہ وہ لڑکی تقریباً 13 سال کی تھی۔ '

'مجھے تو اسے کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ اصلی استانی نہیں ہے مگر بغیر ثبوت کے میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔'

'مجھے حیرت سے ہنسی آ رہی تھی کہ ان کی عمریں دیکھو، ان کی معصومیت دیکھو اور یہ دیکھو کہ ان کو جس بات پر پختہ کیا ہے کہ کسی بھی حال میں خود کوظاہر نہ کرنا، یہ معصوم بچیاں بھی وہی کر رہی تھیں اور میرے سامنے بڑی خود اعتمادی سے کھڑی تھیں۔'

'اس طرح ایک اور بچی جو استانی بنی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں انگریزی کی کتاب تھی، اس کو میں نے بلا کر کہا کہ جی آپ کا نام؟ تو اس نے بھی وہی کہا کہ اپنا اصل نام  ظاہر نہ کیا اور جس کی جگہ پیسوں پر لگی تھی اس کا نام ہی بتایا۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے تو اس نے بتایا کہ میں نے ایف اے کیا ہوا ہے، مگر اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ '

'وہ تھوڑی گھبراگئی جب میں نے اس سے چند سوالات کرنا شروع کیے اور کہا کہ اچھا، بہت اچھی بات ہے مگر اتنی کم عمر میں اتنی تعلیم آپ نے کیسے حاصل کی ؟ تو وہ گھبرا گئی اور کہا کہ کلاس کا ٹائم ہے، بچیوں کو پڑھانا ہے۔ مگر اس کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس سے اس کتاب کے متعلق پوچھا جائے۔'

'میں نے اس سے وہ کتاب مانگی اور وہاں پر موجود بچیوں سے پوچھا کہ یہ استانی کیسی ہیں؟ سب نے کہا کہ بہت اچھی ہیں اور بہت اچھا پڑھاتی ہیں۔  وہ بچیاں کیا سمجھتی تھی اچھے برے کو، وہ یہی سمجھ رہی تھیں کہ اچھی استانیاں ہیں۔'

'میں نے اس استانی سے کہا کہ اچھا میرے سامنے ان بچیوں کو پڑھاؤ۔ بچیاں کافی خوش ہیں آپ سے اور میں نے اس استانی کی حوصلہ افزائی کی، مگر اس سے خود کچھ بھی نہیں پڑھا جارہا تھا۔ '

'میں سمجھ گئی کہ اس کو کچھ بھی نہیں آتا میں نے اس سے اسی کتاب میں موجود چند آسان سے سوال پوچھے جو اس کو نہیں آرہے تھے۔ حیرت تو بہت ہوئی کہ ایک تو فیک ہے اور دوسرا کچھ آتا بھی نہیں، پھر میں نے اسی کتاب کا پہلا صفحہ کھولا اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس کو کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔ '

'پھر میں نے لہجے میں کچھ سختی کی اور کہا کہ آپ کو خود کچھ نہیں آتا آپ بچیوں کو کیا سکھارہی ہیں؟  میں نے اس سے اس کے سکول اور کالج کے بارے میں سوالات پوچھنے شروع کیے جس پر اس نے مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔'

'اس نے کہا کہ میں کسی اور کی جگہ پر ڈیوٹی کر رہی ہوں اور مجھے چھ ہزار ملتے ہیں اور میں تیسری جماعت تک پڑھی ہوں۔ اس طرح وہ دوسری اور تیسری سب استانیاں فیک نکلیں جن کی تعلیم پرائمری جماعت سے آگے نہیں تھی ۔'

'کافی دکھ ہورہا تھا  اور وہاں سکول کی نگرانی کرنے والا  ملک  (مشر- مقامی عمائدین کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) جو اس سکول کی نگرانی کر رہا تھا اس کا چہرہ اڑا ہوا تھا۔ وہ میری منت سماجت کرنے لگا کہ یہاں ڈیوٹیوں پر جتنی بھی استانیاں ہیں سب کی حاضری لکھ دوں۔'

'وہاں پر ایک طرف سکول میں بچیاں تھی جہنوں نے اتنے بڑے بڑے ارمان دل میں سجائے ہوئے تھے، جو اپنے علاقے کے لیے ڈاکٹر  ،ٹیچرز یا پتہ نہیں کیا کیا بننا چاہتی تھیں اور دوسری طرف یہاں کی صورتحال دیکھ کر مجھے افسوس ہورہا تھا کہ ہم ان بچیوں کے مستقبل کے ساتھ کیا  کر رہے ہیں؟ آیا ہم آخرت میں اس کا جواب نہیں دیں گے؟ آیا ہم سے اس فرض کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا ؟ کیا اللّہ کے دربار میں بھی ہم اس طرح دھوکہ دے کر نکل جائیں گے؟ '

اس واقعے سے تمام معاملے کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

یہاں سکولوں میں اساتذہ، پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ صحت کی بات کریں تو ہسپتالوں میں سٹاف نہیں، نہ کاروبار کے کوئی مواقع ہیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی توجہ اس جانب ہے۔

سکول ہر ضلع ہر گاؤں میں موجود تو ہیں مگر صرف مہمان خانے بنے ہوئے ہیں جن کے خلاف اگر آواز اٹھائی جائے تو کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔

یہاں عورتوں کے نام پر سکول تو منظور کیے جاتے ہیں، عورتوں کے نام پر تنخواہیں بھی لی جاتی ہیں، مگر اسی عورت کو اس کے بنیادی حق تعلیم کی روشنی سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ جنوبی وزیرستان کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے میں جانا ہوا۔ ایسا علاقہ جس میں اگر دیکھا جائے تو وہاں کے لوگوں کے پاس، جن میں عورتیں بھی شامل ہیں، ان کے شناختی کارڈ تک نہیں بنے  تھے۔

وہاں پر مجھے لڑکیوں کا سکول نظر آیا اور میں نے وہاں کے مقامی لوگوں سے بچیوں کی تعلیم کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نہیں بچیاں یہاں تعلیم کیسے حاصل کریں جب کہ کوئی سکول ہی نہیں ہے؟

تو میں نےاس سکول کا حوالہ دیا کہ یہاں پر فلاں لڑکیوں کا سکول موجود ہے تو پڑھاتے کیو ں نہیں ہو؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو فلاں ملک (مشر ، جو اسی علاقے کا مشر تھا) کا ہے اور وہ سکول میں کسی کو جانے نہیں دیتا نہ وہاں پر سٹاف آتا ہے، اور نہ ہی وہاں پر کوئی پڑھنے جا سکتا ہے۔

حیرت ہوئی کہ جب سکول موجود ہے اور پڑھنے نہیں دیا جارہا تو اس سکول کی منظوری کی کیا ضرورت؟

جب اس ملک  (مشر) سے  ہمارے ٹیم کے ایک بندے کی بات ہوئی تو اس نے کہا کہ انشااللہ یہ سکول اب پرائمری سکول سے مڈل بن جائے گا اور بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ جیسے اس نے سکول کی اپ گریڈیشن کرکے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہو۔

مگر جب اس سے سکول کے نان فنکشنل ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور غصے کے انداز میں کہا کہ  لڑکیوں کو اسلام میں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں،عورت گھر کی ملکہ ہے وہ گھر میں ہی اچھی لگتی ہے، لڑکیاں پڑھ کر کیا کر لیں گی؟  اور میں لڑکیوں کی  تعلیم کے سخت خلاف ہوں،  اور آگے مزید بات کرنے سے انکار کردیا ۔

 مجھے اس بات پر  حیرت ہو رہی تھی کہ جب یہ بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہے تو سکول کس لیے منظور کروایا ہے؟ جب یہ بچیوں کے تعلیم کے خلاف ہے تو اس سکول کی اپ گریڈیشن پر اتنا خوش کیوں ہے جب یہ بچیوں کے تعلیم کے خلاف ہے تو بچیوں کے نام پر ہی  سکول کیوں ؟  

کیا صرف نوکریوں کے حصول کے لیے؟ کیا صرف عورتوں کے نام پر  پیسہ لینا حلال ہے جب کہ اس کو اس کا بنیادی حق دینا حرام ؟ کیا  اسلام یہی کہتا ہے ؟ کیا ہم اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقفیت رکھتے ہیں؟

کیا اسلام اس طریقے سے پیسہ کمانے کو جائز قرار دیتا ہے جب کہ اسلام نے عورتوں کو جو تعلیم کا حق دیا ہے اس کو چھین کے ہم اسلام کے  کیسے دعویدار بن رہے ہیں  ؟ وزیرستان میں سکولوں میں اکثر ایسی اساتذہ بھرتی کی گئی ہیں جنہوں نے سکول کا نام و نشان تک نہیں دیکھا اور وہ پینشن بھی لے رہی ہیں اور اب بھی ایسی اساتذہ موجود ہیں جہنوں نے نہ خود تعلیم حاصل کی ہے اور نہ سکول کو دیکھا ہے۔  

نہ وہ ڈیوٹیاں کرتی ہیں اور ڈیوٹیاں کریں گی بھی تو کیسے جب انہوں نے خود تعلیم حاصل نہ کی ہو تو وہ دوسروں کو کیا علم کی روشنی دے پائیں گی؟

اکثر پرائمری پاس مقامی لڑکیوں کو پانچ ہزار یا چھ ہزار روپوں کا لالچ دے کر ان سے   ڈیوٹیاں کروائی جاتی ہیں جو کہ سکولوں میں صرف حاضری اور کسی مانیٹرنگ کے وزٹ کے دوران موجود رہنے تک ہوتی ہیں، باقی سکولوں میں بچوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی سنجیدگی نہیں۔

یہاں تک کہ جب ان اضلاع میں مانیٹرنگ کا سسٹم فعال کر دیا گیا اور سٹاف ہائر کیا گیا تو لوگوں میں خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اب سکول فنکشنل ہو جائیں گے اور ہمارے بچے اور بچیاں صحیح طریقے سے تعلیم حاصل کر پائیں گے مگر یہ خواب بھی ایک خواب ہی رہا۔

ایک مہینے مانیٹرنگ والوں کی ڈیوٹیوں کے بعد ان کا کوئی صحیح رزلٹ نہ آیا۔ یہاں تک کہ اکثر مانیٹرنگ میں بھی ایسے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کے کہیں نہ کہیں  سے ایجوکیشن والوں کے ساتھ لنک ہے اور وہ بھی آنکھیں بند کر کے آگے رپورٹ اوکے کروا دیتے ہیں۔

اگر کچھ لوگ اپنی ڈیوٹیوں کو صحیح طریقے سے سر انجام دینا بھی چاہتے ہیں تو ان کو کافی تنگ کیا جاتا ہے اور مجبوراً وہ بھی اپنی نوکری بچانے کے لیے غیر حاضر اساتذہ کو حاضر اساتذہ میں ہی ڈال لیتے ہیں ۔

اس اقدام سے علاقے کے لوگوں میں بے چینی کا عالم ہے ۔

اکثر  ضلعی انتظامیہ کے اہلکار یا  دوسرے مانیٹرنگ والے  مرد حضرات  جو اس سے پہلے ان سکولوں کا وزٹ کرتے تھے،  ان کے سامنے برقعے میں ان بچیوں کو پیش کر کے فرض پورا کیا جاتا تھا کہ یہی استانیاں ہیں اور پھر ان کو کاریگری کی داد دی جاتی جب کہ حقیقت کچھ اور ہوا کرتی۔

وزیرستان میں بچیوں کے سکول دراصل فنکشنل ہی نہیں ہیں۔ جو ایک یا دو سکول جن کے فنکشنل ہونے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے وہ بھی ایسے فنکشنل ہوتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔وزٹ بھی ہوجائے اور نوکری بھی سلامت رہے۔

حاضری برقرار رہتی ہے اور اصلی اساتذہ ٹانک ،ڈیرہ اسماعیل خان،پشاور، کراچی، مانسہرہ اور دوسرے علاقوں میں گھر بیٹھ کر مزے سے تنخواہیں لے رہی ہوتی ہیں۔ نہ کوئی شکایت اور نہ کوئی ڈر۔

یہی صورتحال مرد حضرات کی بھی ہے۔ اس طرح سے ان کو بڑے بڑے لوگوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے جن کے متعلق اگر کچھ کہا جائے تو بات دشمنی پر اتر آتی ہے اور آپ کو دھمکایا جاتا ہے۔

عام تاثر یہ جاتا ہے کہ قبائلی علاقے کے لوگ بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں لیکن حقیقت میں وہ سب سے زیادہ زور بچیوں کی تعلیم پر ہی دیتے ہیں۔ اس کی مثال پاکستان کے دوسرے شہروں میں رہائش پذیر قبائلی علاقے کے لوگ ہیں جو اپنے بچوں سے ذیادہ بچیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہیں، جن کی بچیاں پڑھ لکھ کر مختلف شعبہ ہائے جات میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

لیکن اگر وہ اپنے ان قبائلی علاقوں میں بچیوں کو نہیں پڑھا سکتے تو اس کی وجہ وہاں کے غیر فنکشنل سکول اور غیر ذمہ دار استانیاں ہیں۔

اگر سکولوں میں حاضر سروس استانیوں کی ڈیوٹیوں کو ریگولر کیا جائے، سکولوں کو فنکشنل کیا جائے،  سکولوں میں استانیاں  کی حاضریوں کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بچیوں کے مستقبل کے ساتھ مزید مذاق کرنا بند کر دیا جائے تو شاید یہاں پر غریب بچیاں بھی پڑھ لکھ جائیں کیونکہ یہاں کی مٹی بہت زرخیز ہے۔

یہ فیک اساتذہ جو ملکی خزانے پر ایک بوجھ ہیں، جو گھروں میں تنخواہیں لے رہی ہیں، جن سے علاقے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا، جن سے اگر ڈیوٹیوں کی بات کی جائے تو ہزاروں حیلے بہانے ان کے پاس ہوتے ہیں، اگر وہ ڈیوٹیاں نہیں کر سکتیں تو ملک کے خزانے پر بوجھ کیوں بنی  ہوئی ہیں؟  

ان کو بر طرف کر کے دیگر تعلیم یافتہ لڑکیوں کو موقع دیا جائے جو ڈیوٹی بھی کریں اور علاقے کے لوگوں کو ان کی تعلیم سے فائدہ بھی پہنچ سکے۔

حال ہی میں وزیرستان ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں بوگس بھرتیوں پر وزیرستان کے نوجوان طبقے نے شور مچانا شروع کیا کہ ملٹری آپریشن کے بعد سے کافی بوگس بھرتیاں ہوئی ہیں اور ان کی انکوائری کی جائے۔

اس بارے میں ایڈووکیٹ سجاد محسود نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن بھی دائر کی جس پر کمشنر ڈیرہ جاوید مروت نے اقدام لیتے ہوئے کہا کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کرپشن کیس پر انکوائری کریں گے مگر اب تک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  سکینڈل انکوائری  کا کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔

 یہاں تک کہ کمشنر ڈیرہ جاوید مروت کا تبادلہ ہوا اور ان کی جگہ یحییٰ اخونزادہ کمشنر ڈیرہ تعینات ہو گئے۔  اب لوگوں کی ان سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ انکوائری کو بہترین طریقے سے ڈیل کریں گے۔

 مگر ساتھ ساتھ لوگوں میں مایوسی بھی پھیلی ہوئی ہے کہ اب تک وزیرستان ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر کوئی ایکشن ہوتے ہوئے بہرحال نظر نہیں آیا۔  

https://www.independenturdu.com/node/41406

 

Int'l tribunal stays $5.8B fine on Pakistan in mining case

 An international tribunal granted a stay pending a final decision on a $5.8 billion penalty imposed on Pakistan for denying a mining lease to an Australian company, an adviser to Pakistan's prime minister said Friday.

Pakistan had appealed the penalty imposed by the World Bank’s International Center for Settlement of Investment Disputes, and has said it would hinder the country's handling of the coronavirus pandemic. The case is testing Prime Minister Imran Khan’s ability to use back-channel diplomacy to settle disputes and keep alive efforts to lure more foreign investors to his impoverished country.

The fine, nearly $6 billion including the damages award and interest, would be equal to about 2% of Pakistan’s GDP and is on a par with a $6 billion bailout package the country secured last year from the International Monetary Fund. Experts have questioned the reasoning behind the huge award, which is more than double the size of the largest similar arbitration award in a case between Dow Chemical and Kuwait Petrochemical Corp.

Saleem Bajwa, an adviser to Khan, tweeted Friday that the tribunal's decision was a “great relief” for Pakistan. The decision was also hailed as a “success” in a brief statement from the attorney general’s office late Thursday. Both Islamabad and the mining company have said they're willing to consider a settlement pending a final decision on the award, which might not come until next year.

The tribunal declined to comment Friday in response to a request by The Associated Press.

The penalty centered around Pakistan's cancelling of the Reko Diq mining lease for Australia's Tethyan Copper Corp., a 50-50 joint venture of Barrick Gold Corp. of Australia and Antofagasto PLC of Chile, to build and operate a copper-gold open-pit mine.

The Reko Diq district in southwestern Pakistan’s Baluchistan province is famed for its mineral wealth, including gold and copper. Khan’s government considers it a strategic national asset, especially as prices for commodities surge, with gold recently at more than $2,000 an ounce. The Baluchistan government has since set up its own company to develop the mine.

Tethyan had invested $220 million in Reko Diq by 2011, when Pakistan terminated its mining lease. The company sought help the following year from the tribunal, which ruled against Pakistan in 2017.

Paying compensation equivalent to 40% of Pakistan’s foreign exchange reserves would have been a challenge as it struggles to revive its economy. The coronavirus pandemic has infected more than 300,000 of the country's 212 million people and killed more than 6,400, while the economy contracted for the first time in decades in the fiscal year that ended in June.

https://news.yahoo.com/intl-tribunal-stays-5-8b-081519037.html

Bhutto family history full of sacrifices - Bilawal Bhutto


Pakistan People’s Party chief Bilawal Bhutto Zardari yesterday said the history of the Bhutto family is full of sacrifices. He paid glowing tributes to Mir Murtaza Bhutto on his 24th death anniversary being observed today (September 18). 

 In a message, the PPP Chairman said that Mir Murtaza Bhutto waged struggle at a young age to save the tall icon of democracy Prime Minister Zulfikar Ali Bhutto and his democratic mission. Bilawal Bhutto Zardari said that the Bhutto family gave huge sacrifices and laid down their lives for the rights of the people of Pakistan and the country and never looked back to accomplish the mission of Zulfikar Ali Bhutto. “Within eleven years, Benazir Bhutto was assassinated after the martyrdom of Mir Murtaza Bhutto to shatter the dream of the masses for strengthening democracy and upholding their human rights,” he said. 

 He said the PPP workers would never forget the valour and struggle of Mir Murtaza Bhutto and he would remain in the memories of everyone affiliated with the democratic movement of the country. The PPP Chairman vowed that his Party would continue the struggle of founders under whatever the circumstances and would not allow sacrifices of our leadership and workers to go in vain. 

 Meanwhile, PPP Secretary General Nayyar Bokhari said the Pakistan Tehrik-e-Insaf-led government was undermining the importance of the parliament. “They are using ordinances to run the system. The parliament is nowhere to be seen. When they do have something in the parliament, they just bulldoze things,” he said in a statement. He said the National Assembly Speaker was showing partiality. “The Speaker is custodian of the House not a party. The government should mend its ways. They have damaged the supremacy of the parliament,” he added.

https://nation.com.pk/18-Sep-2020/bhutto-family-s-history-full-of-sacrifices-claims-bilawal

Bilawal House spokesman clarifies the tax details of Chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari

 

Bilawal House spokesman has clarified the tax details of Chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari reported by media quoting Federal Board of Revenue (FBR) today.

In a clarification, the spokesman said that Chairman Bilawal Bhutto Zardari has paid Rs45,65,243 tax in 2019, which includes R40,30,000 Agriculture Income Tax. In the year 2018, he paid Rs41,52,117 including Rs38,58,000 Agriculture Income Tax.


Spokesman said that major income of the PPP Chairman comes from agriculture sources and remains one of the largest agriculture income tax paying individuals from Sindh. 

https://www.ppp.org.pk/pr/23770/

  •  

  •  

    Thursday, September 17, 2020

    Video - Chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari addressing Pakistan Bar Council’s APC

    Video - APC | Pakistan Bar Council | 17 Sep 2020

    Video - Mehmood Khan Achakzai Speech To Pakistan Bar Council APC

    Malala Yousafzai tells the business community: Education is the best way to guard against future crises

     


    This back-to-school season, consider the girls who may never go back to a classroom. According to a report from the Malala Fund which was issued last spring and updated in July, 20 million secondary school-aged girls could find themselves permanently out of an education even after the pandemic has passed. Why? The reasons are manifold, starting with early marriages and teen pregnancies. And the impact is far-reaching, not only in the regions where girls are most at risk but across the globe.

    According to Malala Yousafzai, the Pakistani activist known for cofounding her eponymous nonprofit, a more educated population translates to a society that is better equipped to handle global crises. It means that people are more knowledgeable on issues of viruses and vaccines, and how to slow the spread of a pandemic. It also means more economic stability, which helps populations weather a storm—whatever form the next one may take. 

    Fortune recently interviewed Yousafzai, the youngest Nobel Peace Prize winner in history, to find out more about the ways her fund and its partners are working to mitigate some of the current threats to girls’ education, why this issue should matter to businesses, and to hear about her own personal challenges throughout the pandemic. The interview below has beed edited for length and clarity.

    Fortune: We hear a lot about the disruption the virus is causing in education here in the United States, with much of learning being remote. Can you give us a bigger picture for what’s going on globally as a result of the virus, and in particular the risks to girls who are not going back to school?

    Yousafzai: To be honest, Covid has shaken the global system of the economy and health and the world we live in. Before, all I could see in the future was progress, that things would improve with time. But as soon as this pandemic started and the Malala Fund did research on how this could affect girls education, we saw that it could impact 20 million girls who would be unable to return to the classroom forever. It made me more aware of the system we were living in, and that there could be unexpected events. We need to ensure that girls’ education is not ignored, and that we do not lose focus of this cause. 

    Can you explain why the estimates from this report showed such a disproportionate impact on girls? 

    The Malala Fund report [relied on insight from] the Ebola crisis. Even though it affected a smaller region, it gave us some information because it showed how many girls were in school before that and how many returned, and for those that did not return, why that was the case. The reasons are when girls stay home they often become victim to childhood marriages. School is a safe place for them, not just a place of learning. The second issue is that they become one of the family’s key breadwinners. There are several other reasons, including that oftentimes when there is an option of sending one child to school, families will send the boy.

    Technological infrastructure was already an issue in many regions where your fund operates. How much of a role does it play in helping or hindering education now?

    Technology is a key tool right now in ensuring that students do not miss out on their education. But it depends on the region we’re talking about. It’s difficult to make a generalized comment. We make sure we give the support they need in different regions. For example, activists in Nigeria are focused on giving lessons through a radio. Haroon [Yasin, a Pakistani education entrepreneur] is focused on using mobile phones and national television in Pakistan. It’s thinking outside the box and using the current technology that we already have. 

    What message do you want to send the business community, and why should they care about this risk to girls’ education?

    [I notice the] lack of support during this time. It seems counterintuitive because education is the best way to protect ourselves from future crises. When girls go to school, economies grow and public health improves. In this time of pandemic, if you imagine a more educated society, it would allow us to more easily tackle more this crisis. It is education that gives us a society in which we can ensure that we are healthy and safe. There is an awareness of hygiene, and how viruses and vaccines work. 

    What has been hardest for you, on a personal level, throughout the pandemic?

    I was in my final year of college when this all started. We were sent back home for Easter holiday and then never returned. I had to take my exams and do my graduation at home. The world I imagined post-graduation was that I would be traveling and meeting our champions [a network of activists and advocates of girls’ education, supported by the Malala Fund]. That is not what I see right now. Instead, there is a lot of uncertainty and confusion about what is next. 

    But at same time, I’m thinking that maybe this is an opportunity for us to reset the world we are living in, and not just return to normal. I hope that this is a time that we really think about society and the system that we are living in. The world is not perfect, there are issues from racism to sexism and global inequality. There is a lot that needs to be done. We continue our work with optimism. 

    https://fortune.com/2020/09/15/malala-yousafzai-business-education-girls-access-school-crisis/

    #Pakistan - Chairman #PPP says no compromise on 18th amendment and the rights of provinces

     

    Chairman Pakistan Peoples Party Bilawal Bhutto Zardari has said that the PPP has rendered many sacrifices and the time has come to hold accountable the ones who have spilled our blood.

    He was addressing the All Parties’ Conference hosted by Pakistan Bar Council in Islamabad.
    Chairman Bilawal Bhutto Zardari said that the state has martyred his family members one by one. He said that “first my grandfather Shaheed Zulfikar Ali Bhutto was hanged by a dictator and then my uncle Shahnawaz Bhutto was killed by poisoning him. The other uncle Mir Murtaza Bhutto was murdered in Karachi. Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto was murdered in the streets of Rawalpindi”.

    He said that a lot many people who were with Shaheed Zulfikar Ali Bhutto are here in this room and many those are here as well who were not with him. People who were against him are calling him Shaheed now. Similar is the case with Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto who was called corrupt but now the very same people are declaring her a Shaheed.

    Chairman PPP said that even today character assassination is carried out on television channels but the PPP is still steadfast on its principles and manifesto. Whatever rights we have now in Pakistan are due to the sacrifices of the workers of PPP, he said. He said that what kind of Riasat-e-Madina is this where a woman is gang raped on the motorway but the people who were responsible of giving her protection, started victim blaming. Now, the prime minister and other ministers have come in support of that police officer.

    He said that 2.5 million people in Sindh are homeless because of floods and similar is the case in Balochistan, Khyber Pakhtunkhwa and Gilgit but there is no voice for them in the media. The federal government of PPP in 2010 and 2011 had helped the flood victims by issuing them “Watan cards”. It is unfortunate that no one is ready from the federal government to help them. He said that the bills were bulldozed in the joint session yesterday. The speaker was not ready to conduct the vote re-count. If this continues then we will have to consider that how long this Parliament will continue to be a rubber stamp.
    The rights of every strata of the society are being usurped. You are well aware of the pressure exerted by NAB and the establishment. The media owners who used to say that they form the government and they send the government home are themselves facing pressure and high handedness. The senior members of the Bar have gathered all of us here and I have to ask them that when Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto, President Asif Ali Zardari and PPP wanted to put forward a stance about judiciary at the time of the movement of judiciary, nobody gave us support then. When the PPP had come out against the establishment, then everybody started saying that we are trying to protect our corruption, how wrong those people have been proved.

    Today, everyone is with us on the issue of the 18th amendment but at that time we used to say that a national party is being forced to a corner and efforts were made to limit us to one province but no one listened to us. We had agreed in Charter of Democracy that there will be a constitutional court, the PPP wanted to make that court but we were not allowed to do that. The Parliament was forced to pass the 19th amendment. When we had said that the judges’ appointment should be done by the Bar, Parliament and the judiciary, no one supported us. At that time, the threat of doing away with the 1973 constitution was hurled at us. There is no future of such legislation. Like the senior journalist Sohail Warraich says, “yeh company nahi chale gi”. He urged the Pakistan Bar Council to include a resolution revoking the 19th amendment.        

    Bilawal Bhutto Zardari said that he has experienced accountability since the age of two years with his parents. He has seen the courts and the prisons from a very young age. Several false cases were initiated against Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto and every case was quashed but unfortunately, she was not alive to see herself exonerated. He said that our narrative about civil liberties and human rights should be one. What kind of civil liberty is this that an interview of a politician could not be aired on television? This is not the way of a living nation. We have rendered sacrifices and now we want to hold accountable the ones who have spilled our blood.

    Bilawal Bhutto Zardari said that he and his party are not ready to compromise on the 18th amendment and the rights of the provinces. He said that we will have to unite to liberate our Parliament and our country.

    https://www.ppp.org.pk/pr/23764/